گوانتانامو: قیدیوں کا کیا بنےگا؟ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گوانتانامو بے میں امریکی قیدخانے کو بند کرنے کے لیے حکم دے دینا آسان کام ہے۔ لیکن یہ فیصلہ کرنا مشکل ہوگا کہ وہاں قید لگ بھگ دو سو پینتالیس قیدیوں کے بارے میں کیا کیا جائے۔ باراک اوبامہ کی انتظامیہ کے سامنے کئی طریقۂ کار ہیں لیکن ان میں کسی سے بھی ہر شخص خوش نہیں ہوسکتا ہے۔ بعض لوگوں نے کہا کہ تمام قیدیوں کو رہا کردیا جائے۔ لیکن ایسا نہیں ہوسکتا۔ اس کی کئی وجوہات ہیں۔ پہلی وجہ یہ ہے کہ صدر اوبامہ کو یقین ہے کہ ان میں کچھ ایسے قیدی ہیں جو حقیقت میں امریکہ کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔ امریکی وزارت دفاع پینٹاگون نے حال ہی میں کہا تھا کہ گوانتامو بے کی جیل سے رہا کیے جانے والے اکسٹھ قیدی عراق اور افغانستان میں امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے خلاف لڑائی میں شامل ہوگئے ہیں۔ گیارہ ستمبر کے حملوں میں ملوث ہونے کے الزام میں خالد محمد شیخ سمیت جن پانچ قیدیوں پر مقدمہ چلایا جارہا ہے، نے کہا ہے کہ وہ الزامات کا اقرار کرنا چاہتے ہیں۔ اس لیے ایسا نہیں لگتا کہ یہ پانچوں بغیر کسی عدالتی کارروائی سے قبل رہا کردیے جائیں گے۔ تو کیا نئی امریکی انتظامیہ ان قیدیوں کو رہا کرنا شروع کردے گی جن کے بارے میں خیال ہے کہ ان سے کوئی خطرہ نہیں ہے؟ حقیقت میں بش انتظامیہ نے انہیں رہا کرنے کی کوشش کی تھی۔ امریکی انٹیلیجنس نے ساٹھ قیدیوں کی رہائی کی گرین سِنگل دیدی تھی لیکن ان میں سے بیشتر کو اپنے ملکوں میں عدالتی کارروائی کا سامنا کرنا ہوگا۔ جبکہ دیگر ملک انہیں قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں۔ اس سے قبل البانیہ نے گوانتانامو بے کے پانچ قیدیوں کو قبول کیا تھا جن کا تعلق چین سے ہے۔ جبکہ پرتگال اور سوئٹزرلینڈ نے اشارہ دیا ہے کہ وہ کچھ قیدیوں کو قبول کرسکتے ہیں۔ ایسا لگتا ہے کہ قیدیوں کو امریکہ کے اندر حراستی مراکز میں منتقل کردیا جائے گا۔ کئی فوجی قید خانے ہیں جو انہیں قبول کرلیں گے اور ان کی عدالتی سماعت یا رہائی کے لیے ضروری شرائط پوری کی جائیں گیں۔ لیکن یہ اقدام امریکہ میں مقبول نہیں ہوگا کیونکہ رائے شماری کے جائزوں سے واضح ہے کہ امریکیوں کی اکثریت ان افراد کو امریکی سرزمین پر لانے کے لیے تیار نہیں ہے۔ حال ہی میں سی این این اور اوپینین ریسرچ کارپوریشن کے ذریعے کرائے جانے والے رائے شماری کے ایک جائزے سے یہ معلوم ہوا کہ امریکیوں کی آدھی آبادی گوانتانامو بے کی جیل بند کرنے کے حق میں نہیں ہے۔ اگر باراک اوبامہ امریکہ کو محفوظ رکھنے اور انصاف کے تقاضوں کو پورا کرنے کے اپنے وعدے کو پورا کرنا چاہتے ہیں تو ان کی انتظامیہ کو ان قیدیوں کے خلاف کارروائی کے متبادل راستے اپنانے ہوں گے۔ لیکن گوانتانامو بے میں فوجی ٹریبونل کو معطل کرنے کے اوبامہ کے حکم پر فوری طور پر کافی تنقید ہوئی ہے، باالخصوص ان کے انتخابی حریف سینیٹر جان میکین اور دیگر سینیئر ریپبلِکن رہنماؤں کی جانب سے۔ لیکن بش انتظامیہ نے بھی خاموشی سے اعتراف کرلیا تھا کہ صرف چند قیدیوں کو چھوڑ کر وہ کسی خلاف کامیابی سے عدالتی کارروائی مکمل نہیں کرپائے گی۔ ان قیدیوں کے خلاف کارروائی کے لیے یا تو شواہد نہیں تھے یا جس طرح وہ شواہد حاصل کیے گئے تھے ان پر سوالیہ نشان لگے ہوئے ہیں، بیشتر شواہد تشد، دباؤ اور انٹیلیجنس کے طریقۂ کار کے ذریعے حاصل کیے گیے تھے جس کا انکشاف انٹیلیجنس کے اہلکار عدالت کے سامنے نہیں کرنا چاہیں گے۔ اس سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان لوگوں کے ساتھ کیا کیا جائے جن کے خلاف کامیابی سے مقدمہ نہیں چلایا جاسکتا یا جو ممکنہ رہائی کے بعد امریکہ پر حملہ کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ امریکی ایوان نمائندگان میں ریپبلِکن رہنما جان بوئہنر نے کہا ہے کہ گوانتانامو بے کے کچھ قیدی امریکہ کے خلاف معرکوں میں شامل ہوجائیں گے۔ لیکن اگر انہیں غیرمعینہ مدت کے لیے امریکہ میں کسی حراستی مرکز میں رکھا جائے تو صدر اوبامہ پر الزام لگے گا کہ انہوں نے ناانصافی کا ازالہ کیے بغیر قیدیوں کو صرف ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کردیا ہے۔ تاہم امریکی صدر یہ چاہتے ہیں کہ جو بھی متبادل راستہ اپنایا جائے اس کے تحت معصوم افراد کو رہا کردیا جائے اور ذمہ داروں کے خلاف کامیابی سے کارروائی کی جائے جس کی سپریم کورٹ سے منظوری مل سکے اور امریکہ کو محفوظ رکھا جاسکے۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||