گوانتانامو میں امریکہ کیوں پھنسا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے وزیر دفاع رابرٹ گیٹس کے اس بیان سے، کہ امریکہ گوانتانامو میں ’پھنس‘ گيا ہے، پتہ چلتا ہے کہ اسے کس قدر مشکلات کا سامنا ہے۔ مسٹر گیٹس نے سینیٹ کمیٹی کو بتایا ہے کہ گوانتانامو میں دو سو ستر میں سے کم سے کم پچاس یا ستر قیدیوں کو واپس بھیجا جاسکتا ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ’مشکل یہ ہے کہ یا تو ان کے ملک کی حکومت انہیں واپس نہیں لینا چاہیں گی یا پھر ہمیں اس بات کی تشویش ہے کہ اگر ہم انہیں واپس بھیج دیں تو وہ اپنی حکومتوں کے ہاتھوں سے کہیں دوبارہ نہ نکل جائیں۔‘ رابرٹ گیٹس کا کہنا ہے کہ بعض قیدی جنہیں رہا کردیاگيا تھا پھر لڑائی کے لیے واپس نکل پڑے ہیں۔ اس میں ایک کے متعلق یہ خیال ہے کہ وہ عراق کے موصل میں خود کش بمبار بن گیا ہے۔ مسٹر گیٹس کے مطابق ان پچاس سے ستر قیدیوں پر فرد جرم بھی نہیں عائد ہوسکتی کیونکہ ان کے خلاف مقدمہ چلانے کے لیے یا تو کافی ثبوت نہیں یا پھر سرے سے ہے ہی نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ان افراد کو غیر معینہ مدت تک حراست میں رکھا جائے۔ لیکن ایسی صورت میں خود امریکی قوانین اور اخلاقیات پر سوالات اٹھیں گے۔ بش انتظامیہ کی پالیسی یہ ہے کہ گوانتانامو کو بالآخر بند کرنا ہے لیکن صدر بش کی بچي ہوئی معیاد حکومت میں ایسا ہوتے دکھتا نہیں ہے۔ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں اور بعض حکومتیں پہلے ہی سے اس جیل کو بند کرنے کا مطالبہ کرتی رہی ہیں۔ گوانتانامو کے قیدیوں کو قانونی مشورے دینے والی برطانوی شہری اینڈی ورتھنگٹن کا کہنا ہے کہ’ گيٹس تسلیم کر چکے ہیں کہ انہیں مشکل ہے جو ہم سب جانتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’ پچاس سے ستر قیدی ہیں جن کی رہائی کی بات ہو چکی ہے لیکن انہیں واپس نہیں بھیجا جا سکتا۔‘ ان قیدیوں کا تعلق چین، ازبکستان، تنزانیہ، لیبیا اور الجیریا سے ہے۔ اینڈی کا کہنا ہے کہ اس بارے میں ’گزشتہ برس امریکہ نے تیونس سمیت بعض ممالک کے ساتھ معاہدے کی ایک یاداشت پر اتفاق کیا تھا اور اس کے تحت دو قیدی واپس بھی بھیجےگئے تھے۔ انہیں ایک غیر تسلی بخش مقدمے کے بعد تین اور سات سال کی سزا سنائی گئی۔ اس کے بعد ایک امریکی عدالت نے تیسرے قیدی کی واپسی روک دی۔‘
کئی چینی مسلمانوں کو جنہیں افغانستان سے حراست میں لیا گیا تھا البانیہ بھیج دیا گيا۔ ان میں سے ایک اب بھی وہیں ہے۔ ایک اور نے سویڈن میں سیاسی پناہ کی درخواست دی ہے۔‘ اینڈی ورتھنگٹن کا کہنا ہے کہ گوانتانامو میں قیدیوں کا ایک اور گروہ ہے جس کے حوالے سے اس جیل کو بند کرنے میں مشکل ہوسکتی ہے۔’اس گروہ میں وہ قیدی شامل ہیں جن کے بارے میں یہ خیال ہے کہ انہیں آزاد کرنا بہت خطرناک ہوسکتا ہے اور ان کے خلاف بھی ملٹری کمیشن میں مقدمہ چلانے کے لیے ثبوت بھی کافی نہیں ہیں۔ ’لیکن یہ کس قانونی کتاب میں لکھا ہے کہ انہیں غیر معینہ مدت کے لیے قید رکھا جائے۔‘ انتظامیہ کو ملٹری کمیشن یا ٹریبونل تشکیل دینے میں بھی کئی مشکلات کا سامنا رہا جس کے لیے کانگریس نے اجازت دی ہے۔ ملٹری ٹریبونل کو جلد از جلد شروع کرنے کی بات کہی گئی تھی لیکن بعض مقدمات کی سماعت کے دوران فوجی ججوں کے اعتراض پر انہیں عارضی طور پر روک دیا گیا۔ ان میں سے ایک مقدمہ اسامہ بن لادن کے ڈرائیور سلیم احمد ہمٰدان کا بھی تھا۔ مقدمات کی تاخیر کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ سپریم کورٹ کو ابھی یہ فیصلہ کرنا باقی ہے کہ گوانتانامو کے قیدیوں کے پاس حبس بے جا میں رکھے جانے کے خلاف اپیل کرنے کا کوئی آئینی حق ہیں بھی کہ نہیں۔ جب تک مسئلہ حل نہیں ہو جاتا فوجی مقدمات شروع نہیں ہو سکتے۔ ایک بڑا سوال ثبوتوں کا بھی ہے۔ القاعدہ کے ایک بڑے رہنما محمد القتانی کے خلاے اس برس کے اوائل میں چارج شیٹ داخل کی گئی تھی لیکن بعد میں ناکافی ثبوتوں کے سبب اسے واپس لینا پڑا۔ ملٹری انتظامیہ کے اندرونی حالات بھی مشکل دور سے گزرتے رہے ہیں۔ ملٹری کے کئی افسروں نے ملٹری ٹربیونل کا نظام لاگو کرنے کی بجائے اپنے عہدے سے استعفی دینے کو ترجیح دی۔ ایک افسر کرنل مورس ڈیوس نے کہا کہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ القتانی کے فوج کی تحویل میں دیے گئے اقبالیہ بیان کو ثبوت کے طور پر استعمال کریں اور اسی وجہ سے ان کے ایک سینئر افسر سے اختلاف بھی ہوگئے تھے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق انتظامیہ میں شکوک و شبہات تو ہیں لیکن بہت بدنظمی بھی نہیں ہے۔ | اسی بارے میں امریکہ گوانتانامو میں ’پھنس‘ گیا21 May, 2008 | آس پاس ’گوانتانامو قیدی، عراق میں ہلاک‘07 May, 2008 | آس پاس 9/11: چھ کے خلاف الزامات عائد11 February, 2008 | آس پاس گوانتانامو بے کا مستقبل داؤ پر05 December, 2007 | آس پاس گوانتاناموکا کتابچہ ویب پر شائع 15 November, 2007 | آس پاس پانی میں لکھے لفظ انگارے ہیں27 August, 2007 | آس پاس افغان شہری کی گوانتاناموبےمنتقلی13 September, 2007 | آس پاس گوانتانامو:خالداور دیگر کیلیے وکیل30 June, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||