افغان شہری کی گوانتاناموبےمنتقلی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی محمکۂ دفاع کے مطابق اس شخص کو جس کا نام صرف عنایت اللہ بتایا گیا ہے، افغانستان میں آپریشنز کے دوران پکڑا گیا ہے۔ امریکی فوجی حکام کا کہنا ہے کہ اس شخص نے تسلیم کیا ہے کہ وہ ایران کے شہر زاہدان میں القاعدہ کا ایک رہنما تھا اور وہ دہشت گرد کارروائیوں کی منصوبہ بندی اور اس سلسلے میں احکامات جاری کرتا تھا۔ پینٹاگون کے مطابق گوانتانامو کی جیل میں اس وقت تقریباً تین سو چالیس قیدی موجود ہیں۔ پینٹاگون کا کہنا ہے کہ ’عنایت اللہ مقامی کارندوں سے ملاقاتیں اور ان کے ساتھ مل کر افغانستان، ایران، پاکستان اور عراق سمیت دیگر ممالک سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں کے لیے غیرقانونی طور پر آمدورفت کے لیے مختلف سفری راستوں کی تیاری، دستاویزات کی تیاری، رہائش اور گاڑیوں کا بندوبست کرتا تھا‘۔ پینٹاگون کا کہنا تھا کہ وہ القاعدہ کا ایک اہم رکن ہے اور اس مشتبہ دہشت گرد کی موجودگی ایک مسلسل خطرہ ہے جس کے پیش نظر اسے گوانتاناموبے منتقل کیا گیا ہے۔ امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کے بیرون ملک واقع سی آئی اے کے خفیہ قید خانوں کے خالی کیے جانے کے اعلان کے باوجود پینٹاگون ستمبر سےاب تک تقریباً انیس افراد کو گوانتاناموبے کی جیل میں بھیج چکا ہے۔ گوانتانامو بے کی جیل کو قیدیوں کے انسانی حقوق کی خلاف ورزی گردانتے ہوئے اسے نہ صرف امریکہ بلکہ باہر بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ امریکی صدر بش اور ڈیفنس سیکریٹری رابرٹ گیٹس کا کہنا ہے کہ انہیں اس قید خانے کو بند کرکے خوشی ہوگی تاہم کسی ایسے راستے کی تلاش مشکل ہے جس کے تحت گوانتانامو بے کے انتہائی خطرناک قیدیوں کی امریکہ میں قید کو قانونی قرار دینے کی یقین دہانی کی جاسکے۔ امریکی محمکۂ دفاع کے ایک ترجمان کمانڈر جیفری گورڈن کا کہنا ہے کہ ریڈ کراس کی انٹرنشینل کمیٹی کو اس نئے قیدی تک رسائی دی جائے گی۔ |
اسی بارے میں گوانتانامو کے مقدمات مسترد29 June, 2006 | آس پاس گوانتا نامو میں حالات ابتر: ایمنسٹی05 April, 2007 | آس پاس گوانتانامو: ’کوئی راستہ نکالیں گے‘30 June, 2006 | آس پاس گوانتانامو بے سے لکھے گئے خطوط27 September, 2006 | آس پاس گوانتانامو کے چودہ قیدیوں پر مقدمہ09 March, 2007 | آس پاس تشدد کے نتیجے میں اعتراف کیا: قیدی30 March, 2007 | آس پاس گوانتانامو قیدیوں کی بھی سنی گئی30 June, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||