امریکہ گوانتانامو میں ’پھنس‘ گیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے کہا ہے کہ امریکہ گوانتانامو جیل کو بند کرنا چاہتے ہوئے بھی نہیں کر پا رہا۔ انہوں نے کہا کہ ’ہم پھنس چکے ہیں‘۔ انہوں نے کہا کہ گوانتانامو میں ستر ایسے قیدی ہیں جنہیں امریکہ واپس بھیجنا چاہتا ہے لیکن ان میں سے کچھ کے ملک ان کی واپسی نہیں چاہتے یا ان پر اس معاملے میں اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیمیں ایک عرصے سے اس جیل کو بند کرنے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ جیل عالمی قواعد و ضوابط پورے نہیں کرتا۔
پینٹاگون کا کہنا ہے کہ چھتیس ایسے لوگوں کے بارے میں، جنہیں گوانتانامو سے چھوڑا جا چکا ہے، وثوق سے یہ کہا جا سکتا یا ان پر کم سے کم شک کیا جاتا ہے وہ دوبارہ ’دہشت گردی‘ کی کارروائیوں میں ملوث ہو چکے ہیں۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے سینیٹر ڈائی این فینسٹائن نے وزیر دفاع سے مخاطب ہو کر کہا کہ انہوں نے جو کچھ بھی کہا ہے اس سے دنیا کی نظروں میں امریکہ کی جو ساکھ متاثر ہوئی اس کا ازالہ نہیں ہو سکتا۔ انہوں نے کہا کہ کہا جا رہا ہے کہ ہم دوغلے ہیں، ہمارے دو قوانین ہیں، کسی کے لیے قوانین ہیں جبکہ کسی کے لیے کوئی قانون نہیں۔ | اسی بارے میں گوانتانامو بے کا مستقبل داؤ پر05 December, 2007 | آس پاس الجزیرہ کا صحافی گوانتانامو سے رہا01 May, 2008 | آس پاس ’گوانتانامو قیدی، عراق میں ہلاک‘07 May, 2008 | آس پاس گوانتاناموکا کتابچہ ویب پر شائع 15 November, 2007 | آس پاس گوانتانامو، شگوفے، شاعری اور ہیری08 April, 2007 | آس پاس گوانتانامو: قیدیوں کو حقوق مل گئے11 July, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||