گوانتانامو بے کا مستقبل داؤ پر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی سپریم کورٹ میں بدھ کو دو ایسے مقدمات کی سماعت ہو رہی ہے جن سے کیوبا میں امریکہ کے حراستی مرکز،گوانتانامو بے میں قید افراد کے مستقبل کا فیصلہ ہوسکتا ہے۔ ان مقدمات میں امریکی پارلیمان یا کانگریس کےاس فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے جس کے تحت گوانتانامو بے کے قیدیوں کو امریکہ کی غیر فوجی یا سویلین عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹانے کے حق سے محروم کردیا گیا تھا۔ کانگریس نے قیدیوں کو حبس بے جا کے مقدمات دائر کرنے سے روک دیا تھا لیکن اگر عدالت قیدیوں کے حق میں فیصلہ سناتی ہے تو گوانتانامو بے میں ان کی غیر معینہ مدت کی حراست کو غیر قانونی قرار دیا جاسکتا ہے۔ اپنی حراست کے خلاف جن دو قیدیوں نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے، ان کے نام لخدر بؤمدین اور فوزی الاودہ ہیں۔ لخدر کا تعلق الجیریا سے ہے جو خانہ جنگی کے دوران بوسنیا گئے تھے اور بعد میں وہیں کی شہریت اختیار کر لی تھی جبکہ فوزی کویت کے شہری ہیں جن کا دعوی ہے کہ وہ درس قرآن کے لیے افغانستان گئے تھے۔ لخدر بوسنیا میں امریکی سفارت خانے پر حملے کی سازش کےالزام میں گرفتار ہوئے تھے لیکن بعد میں انہیں چھوڑ دیا گیا۔ ان کے وکلاء کا کہنا ہے کہ بعد میں انہیں امریکی ایجنٹوں نے پکڑ کر خفیہ طور پر گوانتانامو بے پہنچا دیا۔ فوزی پرائمری سکول کے ٹیچر ہیں جنہیں افغانستان سے پکڑا گیا تھا۔
اس مقدمے میں جو نظیریں پیش کی جائیں گی ان میں برطانوی شاہی خاندان سے تعلق رکھنے والے ایڈورڈ ہائڈ کی اس جیل کا بھی ذکر ہوگا جسے سترہویں صدی کا گوانتانامو بے کہا جاسکتا ہے۔ ہائڈ کا مقصد بھی اس وقت کے برطانوی حکمراں چارلس دوئم کے مخالفین کو حبس بے جا کے حق سےمحروم کرنا تھا۔ حبس بے جا ایک قدیم قانوی روایت ہے جس کے تحت عدالتیں یہ حکم دے سکتی ہیں کہ اگر کسی شخص یا ادارے نے کسی کو غیر قانونی حراست میں رکھا ہے تو وہ انہیں عدالت میں پیش کرکے ان کی حراست کا جواز پیش کرے۔ ہائڈ کے معاملے میں انہیں نہ صرف ناکامی ہاتھ لگی تھی بلکہ ملک چھوڑ کر بھاگنا پڑا تھا۔ امریکی حکومت کی بھی یہی کوشش تھی کہ ایک دور دراز علاقے میں حراستی مرکز قائم کرکے عدالتوں کو قیدیوں کی دست و رس سے درر رکھا جاسکے گا۔ لیکن سن دو ہزار چار میں رسول بمقابلہ بش کے نام سے جانےوالے ایک مقدمے میں سپریم کورٹ نے فیصلہ سنایا کہ قیدی چاہے غیرملکی ہواور کتنی بھی دور دراز جگہ پر قید ہو، اسے حبس بے جا کے حق سے محروم نہیں کیا جاسکتا۔ اس صورتحال سے بچنے کے لیے امریکی کانگریس نے سن دو ہزار چھ میں ملٹری کمیشن ایکٹ پاس کیا۔ اسی قانون کواب عدالت میں چیلنج کیا گیا ہے۔ قیدیوں کی دلیل یہ ہے کہ امریکہ کا آئین آزادی کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے اور اس کے تحت کسی بھی شخص کی غیر قانونی حراست کو نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ لیکن حکومت کی جوابی دلیل یہ ہے کہ گوانتانامو بے امریکہ کی ملکیت نہیں ہے، لہذا وہاں حبس بے جا کا اصول نافذ العمل نہیں ہوسکتا۔ مقدمے میں دلائل ایک گھنٹےکے سیشن میں سنی جائیں گی اور اس دوران جج حضرات وکیلوں سے سوالات بھی کریں گے۔ اس کے چند ماہ بعد عدالت اپنا فیصلہ سنائے گی اور اسی پر گوانتانامو بے کےمستقبل کا دارومدار ہوگا۔ |
اسی بارے میں پانی میں لکھے لفظ انگارے ہیں27 August, 2007 | آس پاس افغان شہری کی گوانتاناموبےمنتقلی13 September, 2007 | آس پاس گوانتانامو:خالداور دیگر کیلیے وکیل29 September, 2007 | آس پاس گوانتانامو قیدی کی منتقلی پر پابندی10 October, 2007 | آس پاس گوانتاناموکا کتابچہ ویب پر شائع 15 November, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||