گوانتانامو قیدی کی منتقلی پر پابندی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک امریکی جج نےامریکی فوج کوگوانتانامو بے میں قید ایک شخص کو تیونس منتقل کرنے سے روک دیا ہے۔ اپنی رولنگ میں جج کا کہنا تھا کہ محمد عبدالرحمان نامی اس قیدی کو تیونس منتقل کرنا شدید ناانصافی ہوگی کیونکہ عبدالرحمان کے مطابق وہاں اس پر تشدد کیا جا سکتا ہے۔ انسانی حقوق کے گروپوں کا کہنا ہے کہ یہ اس قسم کے مقدمات میں کسی جج کی جانب سے اس قسم کا پہلا حکم ہے۔ تاہم امریکی جج کا یہ حکم عارضی ہے کیونکہ امریکی سپریم کورٹ اس بات کا فیصلہ کرے گی کہ گوانتانامو میں قید افراد سول عدالتوں میں اپیل کر سکتے ہیں یا نہیں۔ اس حکم کے آنے کے بعد فی الحال امریکی محکمۂ دفاع محمد عبدالرحمان کو تیونس منتقل نہیں کر سکتا۔ عبدالرحمان کو تیونس میں ان کی غیر موجودگی میں سزا سنائی جا چکی ہے اور ان کا دعوٰی ہے کہہ ان کی تیونس واپسی پر انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جائے گا۔ تیونس کی حکومت اس الزام سے انکار کرتی ہے تاہم اس برس کے اوائل میں امریکہ کی ہی ایک سرکاری رپورٹ میں کہا جا چکا ہے کہ تیونس میں حقوقِ انسانی کی خلاف ورزیاں وقوع پذیر ہوتی ہیں۔ پنٹاگون کے مطابق اس وقت گوانتانامو بے میں تین سو چالیس کے قریب افراد قید ہیں اور متعدد عدالتوں میں چیلنج کیے جانے کے بعد پنٹاگون نے اپنے قواعد میں تبدیلی کر کے ان قیدیوں کو قانونی مدد حاصل کرنے کی سہولت دینے کا فیصلہ کیا تھا۔ | اسی بارے میں گوانتانامو:خالداور دیگر کیلیے وکیل29 September, 2007 | آس پاس افغان شہری کی گوانتاناموبےمنتقلی13 September, 2007 | آس پاس ’خودکشی کرنے والا سعودی فوجی‘01 June, 2007 | آس پاس گوانتانامو قیدی، کیس خارج05 June, 2007 | آس پاس گوانتانامو: پہلا مقدمہ، پہلی سزا30 March, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||