گوانتاناموکا کتابچہ ویب پر شائع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی فوج کا گوانتانامو بے کی جیل چلانے کا ایک خاص کتابچہ انٹرنیٹ پر شائع ہوگیا ہے۔ سن دو ہزار تین کا کتابچہ، جو دو سو اڑتیس صفحات پر مشتمل ہے، جیل کے گارڈز کے لیےگوانتانامو بے کے قید خانوں کو چلانے کے لیے مخصوص طریقِ کار اور دائروں کومقرر کرتا ہے۔ اس کےانٹرنیٹ پر شائع ہونے کے بارے میں امریکی فوج نے بیان دیا ہے کہ یہ کتابچہ پرانا ہے مگر بہرحال سچا لگتا ہے اور اسے اس طرح سےشائع نہیں ہونا چاہیے تھا۔ اب تک گوانتانامو کی جیلوں میں تین سو چالیس قیدی ہیں۔ اسے سن دو ہزار دو میں اُن لوگوں کے لیے کھولا گیا تھا جن پر دہشتگردی، القاعدہ اور طالبان سے منسلک ہونے کا الزام تھا۔ مگراس کے قیدیوں، ان کے وکلاء اور انسانی حقوق کے کارکنوں کا کہنا ہے کہ ان پر تشدد کیا جا رہا ہے۔ تاہم خود امریکہ اور بین الاقوامی کمونیٹی کی گوانتانامو کو بند کرنے کی مانگ امریکہ کی حکومت مسترد کر چکی ہے۔ امریکی فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ یہ کتابچہ اہمیت کے اعتبار سے خفیہ نہیں ہے تاہم یہ صرف سرکاری کام کے لیے تھا۔ اس کتابچہ کے مطابق کسی قسم کا تشدد یا جسمانی سزا کی اجازت نہیں، مگر نۓ قیدیوں کو دو ہفتوں کے لیے قیدِ تنہائی میں رکھنے کی ہدایت دی گئی ہے۔ اس کتابچہ کے ایک اور سیکشن میں کہا گیا تھا کہ گوانتانامو بے کے بعض قیدیوں کو ریڈ کراس کی انٹرنیشنل کمیٹی کے اہلکاروں سے ملنے سے روکا جائے، جب کہ امریکی فوج نے اس بات کی تردید کی ہے۔ اس میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کس طرح سے جیلوں کی تلاشی لی جائے اور بےقابو قیدیوں پر مرچوں کے سپرے کیے جائیں۔ مزید چار صفحوں پر یہ بھی بتایا گیا ہے کہ کس طرح سے نۓ قیدیوں کو ہوائی جہازوں سے جیل کے خاص کیمپسوں تک منتقل کیا جائے۔ | اسی بارے میں ’ذہنی اذیت دی جاتی رہی ہے‘16 May, 2007 | پاکستان گوانتانامو: حکومتی وکیل کو سزا19 May, 2007 | آس پاس ’خودکشی کرنے والا سعودی فوجی‘01 June, 2007 | آس پاس افغان شہری کی گوانتاناموبےمنتقلی13 September, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||