’ذہنی اذیت دی جاتی رہی ہے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پینٹاگون کی طرف سے جاری کیے گئے ایک مسودے میں گوانتا نامو بے میں قید ایک پاکستانی نژاد امریکی شہری نے کہا ہے کہ انہیں ذہنی طور پر اذیت دی جاتی رہی ہے۔ ماجد خان نے جن پر امریکہ میں ایک پٹرول پمپ کو دھماکے سے اڑانے کا الزام ہے ، بتایا ہے کہ کس طرح انہوں نے اپنی رگ چبا کر خودکشی کرنے کی کوشش کی تھی۔ مسٹر خان نے اپنے اوپر ہونے والے تشدد کا یہ بیان اس امریکی فوجی ٹربیونل کے سامنے دیا ہے جو اس بات پر غور کر رہی ہے کہ وہ ’دشمن جنگجو‘ ہیں۔ ان کا شمار ان چودہ خطرناک قیدیوں میں ہوتا ہے جن کو ستمبر میں گوانتاناموبے بھیجا گیا تھا۔ ان لوگوں کو پہلے سی آئی اے کے خفیہ قید خانے میں رکھا گیا تھا لیکن اب انہیں کیوبا کے زیادہ سکیورٹی والے حصے میں رکھا گیا ہے۔ مسٹر خان انیس سو نوے کے اواخر میں امریکہ آئے تھے اور یہاں بالٹی مور کے ہائی سکول میں تعلیم حاصل کی۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان واپس جانے کے بعد ان کے رشتہ داروں نے ان کو القاعدہ کے ایک اہم رہنما خالد شیخ محمد سے متعارف کروایا۔ ان پر گوانتا نامو کے ایک ساتھی قیدی علی عبدالعزیز علی سے رابطے رکھنے اور اسلامی جہادی گروپ جامعہ اسلامیہ کو رقوم پہنچانے کا بھی الزام ہے۔ گوانتا نامو بے میں پندرہ اپریل کو ایک ٹربیونل کے سامنے مسٹر خان نے القاعدہ سمیت کسی بھی اسلامی جہادی گروپ سے رابطے سے انکار کیا ہے۔ انہوں نے سختی سے کہا کہ ’میں ایک دشمن جنگجو نہیں ہوں اور نہ ہی میں شدت پسند ہوں۔ میں نہ کبھی افغانستان گیا ہوں اور نہ ہی کبھی اسامہ بن لادن سے ملا ہوں‘۔ بعد میں ماجد خان کے نمائندے نے ایک تحریری بیان بھی پڑھ کر سنایا جس میں انہوں نے نفسیاتی تشدد کے الزامات لگائے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ’میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ جگہ سی آئی اے کی جیلوں سے بھی بد تر ہے۔ مجھے یہاں ذہنی اذیت سے دوچار کیا گیا ہے۔ یہاں چھوٹی سی خلاف ورزی پر بھی تشدد کا ایک سلسلہ شروع ہو جاتا ہے‘۔ مسٹر خان نے یہ بھی شکایت کی کہ کس طرح امریکی گارڈ ان کی بیٹی کی تصویریں چھین کر لے گئے اور اسی طرح ان کو غلط نمبر کی نئی عینک دی اور ان کی مرضی کے خلاف ان کی داڑھی منڈوائی گئی اور زبردستی ان کو اس وقت کھانا کھلایا جب کہ وہ بھوک ہڑتال کر رہے تھے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کو تفریح کے موقع بھی نہیں دیے جاتے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان حالات نے انہیں دو دفعہ اپنی رگ چبا کر خود کشی پر مجبور کیا۔ بعد میں انہوں نے نفسیاتی تشدد کی مزید مثالوں کی فہرست بھی فراہم کی۔ |
اسی بارے میں گوانتاناموبے سے بیوی کے نام خط11 January, 2007 | پاکستان امریکہ سے رہائی، وطن میں اسیری17 October, 2006 | پاکستان گوانتامو بندش، عالمی دباؤ بڑھ گیا12 June, 2006 | پاکستان ’گوانتانامو میں خودکشی ناممکن‘12 June, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||