BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 16 May, 2007, 09:02 GMT 14:02 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’ذہنی اذیت دی جاتی رہی ہے‘
ماجد خان
ماجد خان نے القاعدہ سمیت کسی بھی اسلامی شدت پسند گروہ سے تعلق سے انکار کیا ہے
پینٹاگون کی طرف سے جاری کیے گئے ایک مسودے میں گوانتا نامو بے میں قید ایک پاکستانی نژاد امریکی شہری نے کہا ہے کہ انہیں ذہنی طور پر اذیت دی جاتی رہی ہے۔

ماجد خان نے جن پر امریکہ میں ایک پٹرول پمپ کو دھماکے سے اڑانے کا الزام ہے ، بتایا ہے کہ کس طرح انہوں نے اپنی رگ چبا کر خودکشی کرنے کی کوشش کی تھی۔

مسٹر خان نے اپنے اوپر ہونے والے تشدد کا یہ بیان اس امریکی فوجی ٹربیونل کے سامنے دیا ہے جو اس بات پر غور کر رہی ہے کہ وہ ’دشمن جنگجو‘ ہیں۔

ان کا شمار ان چودہ خطرناک قیدیوں میں ہوتا ہے جن کو ستمبر میں گوانتاناموبے بھیجا گیا تھا۔

ان لوگوں کو پہلے سی آئی اے کے خفیہ قید خانے میں رکھا گیا تھا لیکن اب انہیں کیوبا کے زیادہ سکیورٹی والے حصے میں رکھا گیا ہے۔

مسٹر خان انیس سو نوے کے اواخر میں امریکہ آئے تھے اور یہاں بالٹی مور کے ہائی سکول میں تعلیم حاصل کی۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ پاکستان واپس جانے کے بعد ان کے رشتہ داروں نے ان کو القاعدہ کے ایک اہم رہنما خالد شیخ محمد سے متعارف کروایا۔

ان پر گوانتا نامو کے ایک ساتھی قیدی علی عبدالعزیز علی سے رابطے رکھنے اور اسلامی جہادی گروپ جامعہ اسلامیہ کو رقوم پہنچانے کا بھی الزام ہے۔

گوانتا نامو بے میں پندرہ اپریل کو ایک ٹربیونل کے سامنے مسٹر خان نے القاعدہ سمیت کسی بھی اسلامی جہادی گروپ سے رابطے سے انکار کیا ہے۔

انہوں نے سختی سے کہا کہ ’میں ایک دشمن جنگجو نہیں ہوں اور نہ ہی میں شدت پسند ہوں۔ میں نہ کبھی افغانستان گیا ہوں اور نہ ہی کبھی اسامہ بن لادن سے ملا ہوں‘۔

بعد میں ماجد خان کے نمائندے نے ایک تحریری بیان بھی پڑھ کر سنایا جس میں انہوں نے نفسیاتی تشدد کے الزامات لگائے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ’میں خدا کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ یہ جگہ سی آئی اے کی جیلوں سے بھی بد تر ہے۔ مجھے یہاں ذہنی اذیت سے دوچار کیا گیا ہے۔ یہاں چھوٹی سی خلاف ورزی پر بھی تشدد کا ایک سلسلہ شروع ہو جاتا ہے‘۔

مسٹر خان نے یہ بھی شکایت کی کہ کس طرح امریکی گارڈ ان کی بیٹی کی تصویریں چھین کر لے گئے اور اسی طرح ان کو غلط نمبر کی نئی عینک دی اور ان کی مرضی کے خلاف ان کی داڑھی منڈوائی گئی اور زبردستی ان کو اس وقت کھانا کھلایا جب کہ وہ بھوک ہڑتال کر رہے تھے۔ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کو تفریح کے موقع بھی نہیں دیے جاتے۔

ان کا کہنا تھا کہ ان حالات نے انہیں دو دفعہ اپنی رگ چبا کر خود کشی پر مجبور کیا۔ بعد میں انہوں نے نفسیاتی تشدد کی مزید مثالوں کی فہرست بھی فراہم کی۔

جنگ تیز ہوجائےگی
امریکہ، برطانیہ میں حملے کریں گے: بیت اللہ
گوانتاناموبے گوانتاناموبے
قیدی کا اپنی بیوی کے نام محبت بھرا خط
بندش کے لیےدباؤ
قید خانے کی بندش کے لیے عالمی دباؤ بڑھ گیا
محمد صغیر کا ردعمل
’گوانتانامو میں کسی کا خودکشی کرنا ناممکن ہے‘
گوانتاموبےگوانتاناموبے کےبعد
گوانتاناموبے کے بعد معاشی اور ذہنی مسائل
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد