امریکہ سے رہائی، وطن میں اسیری | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کی حراست سے رہائی پانے کے بعد اسلام آباد پہنچنے والے اپنے آٹھ شہریوں کو پاکستان کی سکیورٹی فورسز نے اپنی تحویل میں لے لیا ہے۔ سیکورٹی حکام کا کہنا ہے کہ ان شہریوں کو امریکی حراستی مراکز سے رہائی کے بعد وطن پہنچنے پر محض اس لیے تحویل میں لیا گیا ہے تاکہ ان سے معمول کی پوچھ گچھ کی قانونی کارروائی مکمل کی جاسکے۔ وزارت داخلہ میں قائم’نیشنل کرائیسس منیجمنٹ سیل‘ کے سربراہ بریگیڈئر (ر) جاوید اقبال چیمہ نے بتایا کہ پیر کو پاکستان پہنچنے والے آٹھ باشندوں میں سے چھ افغانستان سے جبکہ دو گوانتانامو بے سے رہا کئے گئے ہیں۔ ایک سوال پر انہوں نے بتایا کہ آٹھوں شہریوں کی طبی اور نفسیاتی معائنہ ہوگا اور آئندہ آٹھ سے دس روز تک انہیں گھروں کو بھیج دیا جائے گا۔ انہوں نے رہائی پانے والوں کے نام تو یہ کہتے ہوئے نہیں بتائے کہ وہ فہرست ان کے سامنے نہیں ہے لیکن اتنا بتایا کہ رہائی پانے والوں میں سے کا تعلق صوبہ سرحد، دو کا سندھ جبکہ ایک کا تعلق پنجاب سے اور ایک کا بلوچستان سے ہے۔ انہوں نے بتایا کہ افغانستان میں واقع امریکی حراستی مرکز بگرام سے چھ پاکستانیوں کی رہائی کے بعد وہاں اب چودہ پاکستانی قیدی رہ گئے ہیں جبکہ ان کے بقول گوانتانامو بے میں اب دو قیدیوں کی رہائی کے بعد باقی پانچ رہ گئے ہیں۔ پروگرام کے مطابق ان آٹھ پاکستانی قیدیوں کی آمد اتوار اسلام آباد متوقع تھی لیکن اس میں ایک روز کی تاخیر ہوئی ہے۔ سکیورٹی حکام نے بتایا کہ القاعدہ اور طالبان کی حمایت کے شبہہ میں امریکی حراست میں رہنے کے بعد وطن پہنچنے والے شہریوں کو چکلالہ ایئربیس پر لایا گیا جہاں انہیں سکیورٹی فورسز نے اپنی حراست میں لیا۔ |
اسی بارے میں گوانتانامومیں امریکیوں کا ظلم29 July, 2006 | پاکستان گوانتامو بندش، عالمی دباؤ بڑھ گیا12 June, 2006 | پاکستان ’گوانتانامو میں خودکشی ناممکن‘12 June, 2006 | پاکستان ’ تیرہ نہیں انتیس پاکستانی‘16 May, 2006 | پاکستان گوانتانامو: فہرست میں تیرہ پاکستانی20 April, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||