BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 12 June, 2006, 21:09 GMT 02:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گوانتامو بندش، عالمی دباؤ بڑھ گیا

امریکہ نے گوانتاموبے کے جیل خانے میں قیدیوں کو بغیر کوئی مقدمہ چلائے بند کر رکھا ہے۔
گوانتاموبے میں تین قیدیوں کی خود کشی پر امریکی حکام کے منفی رد عمل کی وجہ سے ناانصافی کی علامت قرار دیئے جانے والے قید خانے کی بندش کے لیئے عالمی دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔

امریکہ کے نائب وزیر خارجہ برائے سفارت کاری کولین گرافی نے تین قیدیوں کی خود کشی پر اپنے رد عمل میں کہا تھا کہ خود کشیاں تعلقات عامہ ( پبلک ریلیشنز) کی مہم کا حصہ تھیں۔

گوانتاموبے جیل کے انچارج ایڈمرل ہیرسن نے بھی اسی سے ملتے جلتے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے قیدیوں کی خود کشی کو’جنگی حربہ‘ قرار دیا تھا۔

امریکی حکام کے منفی ردعمل کی وجہ سے اس قید خانے کو بند کرنے کے لیئے عالمی دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔

اسامہ بن لادن کے ڈرائیور کا موقف
میرا دہشت گردی سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ میں تو صرف اپنے خاندان کی کفالت کی غرض سے اسامہ بن لادن کی گاڑی چلاتا تھا۔
سالد احمد ہمدان

امریکہ کے سب سے بڑا اتحادی برطانیہ پہلے ہی گوانتاموبے کے قید خانے کو بند کرنے کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔

برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئرگوانتاموبے کے قید خانے کو ایک’ بے قاعدگی‘ قرار دیتے ہیں جبکہ برطانوی اٹارنی جنرل نے اس کو’ ناانصافی کی علامت‘ قرار دیا تھا۔

وزیر اعظم ٹونی بلئیر کے قریب سمجھی جانے والی وزیر ہیرئیٹ ہارمن نے خود کشیوں کے واقعے کے بعد کہا ہے کہ گوانتاموبے قید خانے میں سالوں سے بند لوگوں کو یا تو امریکی سرزمین پر منتقل کر دیا جانا چاہیے یا پھر ان کو رہا کر دیا جانا چاہیے۔

یورپی یونین کے خارجہ تعلقات کے کمشنر بنیتا فرریرو والڈنر نے کہا ہے کہ گوانتاموبے کا جیل خانہ بند کر دیا جانا چاہیے۔

برطانیہ کے بااثر اخبار ٹائمز آف لندن اور گارجین نے بھی گوانتاموبے قید خانے کے بارے میں امریکی موقف پر تنقید کی ہے۔

امریکی صدر جارج بش نے اپنے ایک حالیہ بیان میں گوانتاموبے قید خانے کو بند کرنے کی عندیہ دیا تھا لیکن اس کی ساری ذمہ داری سپریم کورٹ پر ڈال دی تھی جو اسامہ بن لادن کے ڈرائیور کے مقدمہ کی سماعت اسی مہینے کرنے والی ہے۔

امریکی سپریم کورٹ اس بات کا تعین کرے گی کہ کیا گوانتاموبے میں قید لوگوں کو امریکہ کی فوجی عدالتوں کے سامنے پیش کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔

اسامہ بن لادن کے یمنی ڈرائیور سالد احمد ہمدان نے امریکہ وزیر دفاع کے خلاف مقدمہ دائر کر رکھا ہے۔

اسامہ بن لادن کے ڈرائیور کا موقف ہے کہ اس کا دہشت گردی کی کاررائیوں سے کوئی تعلق نہیں ہے اور وہ تو صرف اپنے خاندان کی کفالت کی غرض سے ڈرائیوری کرتے تھے۔ لیکن امریکی فوجی حکام ان کو ’خطرناک دشمن‘ کے درجے میں رکھتے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد