گوانتامو بندش، عالمی دباؤ بڑھ گیا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گوانتاموبے میں تین قیدیوں کی خود کشی پر امریکی حکام کے منفی رد عمل کی وجہ سے ناانصافی کی علامت قرار دیئے جانے والے قید خانے کی بندش کے لیئے عالمی دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔ امریکہ کے نائب وزیر خارجہ برائے سفارت کاری کولین گرافی نے تین قیدیوں کی خود کشی پر اپنے رد عمل میں کہا تھا کہ خود کشیاں تعلقات عامہ ( پبلک ریلیشنز) کی مہم کا حصہ تھیں۔ گوانتاموبے جیل کے انچارج ایڈمرل ہیرسن نے بھی اسی سے ملتے جلتے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے قیدیوں کی خود کشی کو’جنگی حربہ‘ قرار دیا تھا۔ امریکی حکام کے منفی ردعمل کی وجہ سے اس قید خانے کو بند کرنے کے لیئے عالمی دباؤ بڑھتا جا رہا ہے۔
امریکہ کے سب سے بڑا اتحادی برطانیہ پہلے ہی گوانتاموبے کے قید خانے کو بند کرنے کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔ برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئرگوانتاموبے کے قید خانے کو ایک’ بے قاعدگی‘ قرار دیتے ہیں جبکہ برطانوی اٹارنی جنرل نے اس کو’ ناانصافی کی علامت‘ قرار دیا تھا۔ وزیر اعظم ٹونی بلئیر کے قریب سمجھی جانے والی وزیر ہیرئیٹ ہارمن نے خود کشیوں کے واقعے کے بعد کہا ہے کہ گوانتاموبے قید خانے میں سالوں سے بند لوگوں کو یا تو امریکی سرزمین پر منتقل کر دیا جانا چاہیے یا پھر ان کو رہا کر دیا جانا چاہیے۔ یورپی یونین کے خارجہ تعلقات کے کمشنر بنیتا فرریرو والڈنر نے کہا ہے کہ گوانتاموبے کا جیل خانہ بند کر دیا جانا چاہیے۔ برطانیہ کے بااثر اخبار ٹائمز آف لندن اور گارجین نے بھی گوانتاموبے قید خانے کے بارے میں امریکی موقف پر تنقید کی ہے۔ امریکی صدر جارج بش نے اپنے ایک حالیہ بیان میں گوانتاموبے قید خانے کو بند کرنے کی عندیہ دیا تھا لیکن اس کی ساری ذمہ داری سپریم کورٹ پر ڈال دی تھی جو اسامہ بن لادن کے ڈرائیور کے مقدمہ کی سماعت اسی مہینے کرنے والی ہے۔ امریکی سپریم کورٹ اس بات کا تعین کرے گی کہ کیا گوانتاموبے میں قید لوگوں کو امریکہ کی فوجی عدالتوں کے سامنے پیش کیا جا سکتا ہے یا نہیں۔ اسامہ بن لادن کے یمنی ڈرائیور سالد احمد ہمدان نے امریکہ وزیر دفاع کے خلاف مقدمہ دائر کر رکھا ہے۔ اسامہ بن لادن کے ڈرائیور کا موقف ہے کہ اس کا دہشت گردی کی کاررائیوں سے کوئی تعلق نہیں ہے اور وہ تو صرف اپنے خاندان کی کفالت کی غرض سے ڈرائیوری کرتے تھے۔ لیکن امریکی فوجی حکام ان کو ’خطرناک دشمن‘ کے درجے میں رکھتے ہیں۔ | اسی بارے میں ’رہائی سے پہلے خودکشی‘12 June, 2006 | آس پاس خودکشیاں ’پی آر‘ کے لیئے: امریکہ11 June, 2006 | آس پاس ’ گوانتاناموکا قانونی جواز نہیں‘14 February, 2006 | آس پاس گوانتانامو: قیدیوں کی پہلی فہرست20 April, 2006 | آس پاس ’گوانتاناموجیل بند کرسکتا ہوں‘07 May, 2006 | آس پاس گوانتانامو: 75 قیدی بھوک ہڑتال پر29 May, 2006 | آس پاس گوانتاموبے: قیدیوں کی خود کشی10 June, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||