گوانتاناموبے سے بیوی کے نام خط | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سندھ ہائی کورٹ میں گوانتاناموبے کے پاکستانی قیدی ماجد خان کاایک خط پیش کیا گیا ہے جس میں انہوں نے اپنی بیوی کوکہا ہے کہ اب شائد ان کی ملاقات جنت میں ہی ہو پائے۔ عدالت میں ماجد خان کی بیوی ربیعہ ماجد کی اس درخواست کی ابتدائی سماعت ہورہی ہے جس میں انہوں نے ماجد خان کی پاکستان سے گوانتانامو منتقلی پر سوال اٹھایا ہے اور عدالت سے استدعا کی ہے کہ انہیں وطن واپس لانے کے اقدامات کیے جائیں۔ گوانتاناموبے سے سترہ اکتوبر کو لکھا جانے والا یہ خط سنسر ہونے کے بعد ریڈ کراس کے ذریعے ان کی بیوی تک بدھ کو ہی پہنچ پایا۔ خط میں دو مقامات پر کالی سیاہی کی موٹی لیکر لگائی ہے جو ربیعہ ماجد کے وکیل نثار ایڈووکیٹ کے بقول سنسر ہوا ہے۔ ماجد خان کے تحریر کردہ خط کے چند اقتباسات یوں ہیں۔ یہ خط سترہ اکتوبر دو ہزار چھ کو لکھا گیا تھا اور مختلف مقامات سے ہوتا ہوا دس جنوری دو ہزار سات کو ان کی بیوی کو سندھ کے شہر ٹنڈو اللہ یار میں ملا جہاں کی وہ رہنے والی ہیں۔
خط میں ماجد خان نے لکھا ہے کہ ماجد نے اپنے خط میں چند قرآنی آیتوں کا حوالہ دیکر اپنی بیوی کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اسے تفسیر کے ساتھ پڑھیں۔ اس کے بعد ماجد نے تین شعر بھی لکھے ہیں جن میں انہوں نے اپنی بیوی سے محبت کا اظہار کیا ہے۔ اس کے علاوہ انہوں نے لکھا ہے ’اپنی لائف سٹوری کسی فلمی سٹوری سے کم نہیں بس اس میں ایک دو گانے پڑ جائیں تو کچھ جان پڑ جائے‘۔ انہوں نے اپنی بیوی سے کہا ہے ’اپنا دل ہلکا کرنے کے لے روزانہ کی ایکٹوٹی(معمولات) ایک پرسنل(ذاتی) ڈائری میں لکھ لیا کریں اور میں واپس آؤں گا تو پڑھوں گا شائد سمجھ سکوں کہ تم کن خیالوں اور مشکلات سے گذر رہی تھیں‘۔ گوانتا ناموبے کا قیدی اپنی بیوی کو لکھتا ہے ’باقی جان من سب خیریت ہے بس میرے لیے دعا کرو اور اس وقت دنیا میں میرے لیے ایک تو ہی ہے جو میرے لیے دل و جان سے دعا کر سکتی ہے۔امی کے لیےمیں خاص دعا کرتا ہوں اور امی ابو کو بولنا کہ اگر اللہ نے مجھے قبول کر لیا توانشااللہ سترلوگوں میں ایک وہ بھی ہیں جنہیں اللہ نے مجاہد کے لیے شفاعت کرنے کا وعدہ کیا ہے‘۔ خط کے اختتام پر ا نہوں نے تین چار بار’ تم سے محبت ہے‘ تحریر کیا ہے۔خط پر ان کے انگلش اور اردو کے دستخط ہیں جبکہ خط کے شروع میں انگلش میں لکھا ہے کہ میری بیوی انگلش نہیں پڑھ سکتی اس لیے میں نے اردو لکھی ہے۔ ماجد خان کے وکیل نثار اے مجاہد نے یہ خط عدالت کو پیش کرتے ہوئے اس کے اقتباسات پڑھ کر بھی سنائے۔ انہوں نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خط کے ذریعے انہوں نے عدالت کو یہ بتانے کی کوشش کی ہے کہ ماجد خان کس بری طرح سے اپنے اہل خانہ کو یاد کررہے ہیں۔
گزشتہ سماعت پر سندھ ہائی کورٹ میں ان کی بیوی کی طرف سے دائر کردہ آئینی درخواست پر عدالت نے حکومت کو جواب داخل کرنے کی ہدایت کی تھی لیکن جمعرات کو کراچی میں جسٹس سرمد جلال عثمانی اور جسٹس علی سائیں متیلو پر مشتمل دورکنی بنچ کے روبروصرف وزارت خارجہ کے ایک پروٹوکول افسر پیش ہوئے۔ عدالت نے وکیل صفائی کے دلائل سننے کےبعد پاکستانی حکومت کو ہدایت کی ہے کہ وہ گوانتاناموبے میں قید پاکستانی شہری ماجدخان کے لواحقین کو ہراساں کرنا بند کریں اور ماجد خان کی امریکہ حوالگی کے حوالے سے دائر کی جانے والی ایک ابتدائی ائینی درخواست پر تئیس جنوری تک اپناجواب داخل کروائیں۔ وکیل صفائی کےمطابق ماجد خان کو پانچ مارچ دوہزار تین کو کراچی سے پکڑا گیا تھا جس کے بعدان کی گوانتا ناموبے میں حراست کی اطلاع ملی۔ ماجد کی گرفتاری کے دوماہ بعد ان کی ایک بچی منال پیدا ہوئی تھی ماجد کی اہلیہ اپنی اس بچی کے ہمراہ عدالت میں موجود تھیں۔ | اسی بارے میں گوانتانامو بے سے لکھے گئے خطوط27 September, 2006 | آس پاس گوانتانامو: قیدیوں کو حقوق مل گئے11 July, 2006 | آس پاس گوانتانامو کے مقدمات مسترد29 June, 2006 | آس پاس گوانتانامو: ریڈ کراس کا دورہ13 June, 2006 | آس پاس ’رہائی سے پہلے خودکشی‘12 June, 2006 | آس پاس گوانتانامو: قیدیوں کی خود کشی10 June, 2006 | آس پاس گوانتانامو: 75 قیدی بھوک ہڑتال پر29 May, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||