گوانتاناموبے ایک سال کے اندر بند | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر باراک اوبامہ نے جمعرات کے روز کیوبا میں قائم متنازع امریکی حراستی مرکز گوانتانامو بے کو ایک برس کے اندر بند کرنے کے احکامات جاری کر دیئے ہیں۔ ان احکامات میں دہشتگردی میں ملوث ملزمان سے تفتیش کے ظالمانہ طریقوں کی بھی ممانعت کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ امریکی فوج جسے بھی گرفتار کرے اس کے ساتھ انسانی برتاؤ کیا جانا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ ان اقدامات سے قانون کی عملداری قائم ہوگی اور وہ اقدار بحال ہوں گی جن کی بیناد امریکی اکابرین نے ڈالی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ان اقدار کو امریکہ کی سلامتی پر فوقیت حاصل ہے۔ صدر ابامہ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران اس حراستی مرکز کو بند کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ گوانتانامو بے میں اس وقت تقریباً ڈھائی سو افراد قید ہیں۔ ان میں سے اکثریت کو بغیر کئی برس سے بغیر کسی مقدمہ کے قید رکھا گیا ہے۔ حقوق انسانی کی تنظیموں کی جانب سے وہاں قید رکھے گئے افراد پر تشدد اور غیر انسانی برتاؤ کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں اور امریکہ کی بارہا مذمت کی گئی ہے۔ اس سے قبل امریکی صدر نے اپنی حکومت کی خارجہ پالیسی کے اصولوں کا اعلان کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ایران سے غیر مشروط مذاکرات کے لیے تیار ہیں اور ان کی انتظامیہ دنیا سے جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کے لیے کام کرے گی۔ نئی انتظامیہ کی خارجہ پالیسی کی وضاحت وہائٹ ہاؤس نے اپنی ویب سائٹ پر کی ہے جس سے نئی حکومت کے عالمی ایجنڈے کی جھلک ملتی ہے۔ اس پالیسی دستاویز کے مطابق پاکستان کی غیر فوجی امداد بڑھائی جائے گی لیکن ساتھ ہی حکومت پاکستان کو’ سرحدی علاقوں میں سکیورٹی کے لیے جوابدہ‘ بنایا جائے گا۔ لیکن یہ کیسےکیا جائے گا اس کی وضاحت نہیں کی گئی ہے۔ | اسی بارے میں ایران سےغیرمشروط بات، پاکستان کی جوابدہی22 January, 2009 | آس پاس اوباما: صدارت کا پہلا مکمل دن21 January, 2009 | آس پاس پہلا سرکاری کام گوانتانامو کے نام21 January, 2009 | آس پاس پانچ مقدمات کی سماعت معطل21 January, 2009 | آس پاس ’امریکہ اور دنیا کا تعلق بہترہوجائیگا‘20 January, 2009 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||