پہلا سرکاری کام گوانتانامو کے نام | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
عہدہِ صدارت سنبھالنے کے بعد باراک اوباما نے بطور صدر اپنے پہلے عمل میں گوانتانامو میں فوجی ٹرائبیونلز کی کارروائی ایک سو بیس دن تک معطل کرنے کی درخواست کی ہے۔ یہ درخواست منگل کو رات گئے فوجی عدالت میں داخل کی گئی۔ اپنی صدرارتی مہم کے دوران باراک اوباما نے وعدہ کیا تھا کہ وہ گوانتانامو کے متنازع قید خانے کو بند کر دیں گے۔ یہ قید خانہ بش انتظامیہ نے مشتبہ دہشت گردوں کو امریکی سرزمین اور امریکی عدالتی نظام سے باہر رکھنے کے لیے قائم کیا تھا۔ بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس ’صدارتی درخواست‘ سے نئی انتظامیہ کو عدالتی کارروائی پر نظرِ ثانی کا موقع مل جائے گا۔ امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ باراک اوباما جلد ہی اس قید خانے کے مستقبل کے سلسلےمیں واضح فیصلہ کرتے ہوئے اس بند کرنے کا اعلان کر دیں گے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ کم سے کم ایک سو بیس دن تک کارروائی معطل کرنا ضروری ہے کیونکہ نظرثانی سے موجودہ نظام میں بڑے پیمانے پر تبدیلی کی جاسکتی ہے۔ درخواست پر بدھ کی صبح وہ جج غور کریں گے جو امریکہ پر حملوں کے سلسلے میں پانچ افراد کے خلاف مقدمات کی سماعت کر رہے ہیں۔ ہیومن رائٹس فرسٹ کی انٹرنیشنل ڈائریکٹر گابور رونا نے کہا کہ یہ ایک اچھا لیکن صرف پہلا قدم ہے۔ لیکن جتنی جلدی انہوں نے یہ فیصلہ کیا ہے اس سےمعلوم ہوتا ہے کہ وہ اس معاملے کو اتنی اہمیت دیتےہیں۔ گوانتانامو بےمیں قید افراد میں سےاکیس کو جنگی جرائم کے الزامات کا سامنا ہے۔ اوباما نے اپنی انتخابی مہم کے دوران یہ وعدہ کیا تھا کہ یہ بدنام زمانہ قید خانہ بند کردیا جائے گا۔ اس سینٹر میں تقریباً دو سو پینتالیس افراد قید ہیں۔ | اسی بارے میں گوانتانامو قیدیوں کو پناہ دینے پر غور02 January, 2009 | آس پاس گوانتانامو کے خاتمے پر کام شروع19 December, 2008 | آس پاس اوباما: گوانتانامو کی بندش کا عزم18 December, 2008 | آس پاس گوانتانامو سے فوری رہائی کا حکم21 November, 2008 | آس پاس ’اخلاقی وقار بحال کروں گا‘17 November, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||