گوانتانامو سے فوری رہائی کا حکم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
واشنگٹن میں ایک وفاقی جج نے چھ میں سے ان پانچ الجیریائی باشندوں کو فوری طور رہا کرنے کا حکم دیا ہے جو قریب قریب سات سال سے گوانتانامو کے قید خانے بند ہیں اور ان کے خلاف فرد جرم عائد نہیں کی گئی۔ ان الجیریائی باشندوں کو امریکہ میں سن دو ہزار ایک میں ہونے والے حملوں کے تھوڑے عرصے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔ ان لوگوں پر ابتدائی طور پر بوسنیا میں امریکی سفارتخانے پر حملے کی منصوبہ بندی کا الزام لگایا گیا تھا جو واپس لے لیا گیا۔ جج کا یہ فیصلہ جون کے مہینے میں سپریم کورٹ کے اُس کلیدی فیصلے کے بعد آیا ہے جس میں حکم دیا گیا تھا کہ گوانتانامو کے حراستی اپنی قید کو چیلنج کرنے کا حق رکھتے ہیں۔ اس فیصلے میں جج نے کہا ہے کہ حکومت یہ ثابت کرنے میں ناکام رہی ہے کہ یہ پانچ الجیریائی افغانستان جاکر امریکی فوجوں سے لڑنے کی تیاری کر رہے تھے۔ جج نے ان کی رہائی کا حکم تو دے دیا ہے لیکن واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے اس کی کوئی ضمانت نہیں ہے کہ انہیں رہائی مل جائے گی۔ امریکی حکومت کو اس فیصلے کے خلاف اپیل کا حق حاصل ہے۔ جج نےچھٹے شخص کی حراست جاری رکھنے کی اجازت دے دی ہے۔ | اسی بارے میں ’جب تک بش، تب تک گوانتانامو‘22 October, 2008 | آس پاس گوانتانامو فیصلے پر امریکی برہمی08 October, 2008 | آس پاس ’گوانتانامو کا قیدی دشمن جنگجو نہیں‘23 June, 2008 | آس پاس گوانتانامو میں امریکہ کیوں پھنسا22 May, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||