’گوانتانامو کا قیدی دشمن جنگجو نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک امریکی عدالت نے پہلی مرتبہ خلیج گوانتانامو میں قید ایک شخص کو ’دشمن جنگجوؤں‘ کے زمرے میں شمار کیے جانے کا فیصلہ رد کر دیا ہے۔ چین کے سنکیانگ صوبے سے تعلق رکھنے والےحذیفہ پرہات نامی اس مسلمان کو سنہ 2001 میں افغانستان میں پکڑا گیا تھا اور امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ اس کا تعلق شمالی ترک اسلامی تحریک سے ہے جس کے روابط القاعدہ کے ساتھ ہیں۔ تاہم حذیفہ کے وکلاء نے عدالت کو بتایا کہ حدیفہ کی جنگ امریکہ کے نہیں بلکہ چین کے خلاف ہے اور وہ جس نسل سے تعلق رکھتا ہے وہ لوگ چین سے خودمختاری حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ اس پر تین ججوں پر مشتمل پینل نے امریکی فوج کو ہدایت کی کہ یا تو وہ حذیفہ کو فوری طور پر رہا کر دیں یا نیا فوجی ٹربیونل بنا کر ان پر مقدمہ چلایا جائے۔ عدالت نے یہ بھی واضح کیا کہ حذیفہ امریکی سپریم کورٹ کے اس ماہ بارہ جون کو دیے جانے والے فیصلے کی روشنی میں اپنی فوری رہائی کی اپیل بھی دائر کر سکتا ہے۔ امریکی سپریم کورٹ نے اپنے اس فیصلے میں گوانتانامو میں قید افراد کو ان کی حراست سول عدالتوں میں چیلنج کرنے کا حق دے دیا تھا۔ یاد رہے کہ گوانتانامو میں حذیفہ کے علاوہ متعدد چینی مسلمان بھی قید ہیں۔ | اسی بارے میں امریکی فوج کی تفتیش پر تنقید18 June, 2008 | آس پاس گوانتانامو: سماعت جاری رہے گی13 June, 2008 | آس پاس خالد شیخ کےخلاف مقدمہ شروع05 June, 2008 | آس پاس دنیا سیاسی جبر کا شکار:ایمنسٹی28 May, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||