گوانتانامو: سماعت جاری رہے گی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی سپریم کورٹ کے فیصلے کے باوجود امریکی حکومت گوانتا نامو بے جیل کے قیدیوں کے خلاف فوجی عدالت میں سماعت جاری رکھے گی۔ امریکہ کی سپریم کورٹ نے گوانتانامو بے کے غیرملکی قیدیوں کو اجازت دی تھی کہ وہ امریکہ کی سویلین عدالتوں میں اپنی حراست کے خلاف مقدمے دائر کرسکتے ہیں۔ امریکہ کے اٹارنی جنرل مائیکل موکیزی نے کہا سپریم کورٹ کے فیصلے پر مایوسی ظاہر کی لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ فوجی عدالت میں ان قیدیوں کے خلاف چلائے جانے والے مقدمے جاری رہیں گے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے کا انسانی حقوق کی تنظیموں نے خیرمقدم کیا ہے۔ امریکی صدر جارج بش نے کہا ہے کہ وہ سپریم کورٹ کے فیصلے کا احترام کرینگے لیکن انہیں اس فیصلے سے اختلاف ہے۔ یورپی ممالک کے اپنے الوداعی دورے پر انہوں نے روم میں یہ بھی واضح کیا کہ وہ اس عدالتی فیصلے سے قومی سلامتی کے حوالے سے اختلاف رکھتے ہیں۔ واشنگٹن سے بی بی سی کے نامہ نگار کیون کونلی کا کہنا ہے کہ بش انتظامیہ کی جانب سے ایک نئے حراستی نظام کی تخلیق کو سپریم کورٹ کی جانب سے روکنے کے لیے خاصی دیر سے جاری مقابلے کا یہ تازہ ترین راؤنڈ تھا۔ ایک ایسا حراستی نظام جہاں فوج کی زیر نگرانی طالبان اور القاعدہ سے مبینہ تعلق رکھنے والے جنگجؤوں پر مقدمہ چلا کر انہیں سزائیں دی جاسکیں۔ وائٹ ہاؤس کا موقف ہے کہ اِن غیرملکی باشندوں کو غیرملکی سرزمین پر قید رکھا گیا ہے، اور چونکہ گونتانامو کیوبا کے جزیرے پر واقع ہے اس لیے اس پر امریکہ کا آئین لاگو نہیں ہونا چاہیئے۔ گوانتانامو بے میں قید افراد کو امریکی قانون کے تحت ان کے حقوق دینے کی سپریم کورٹ کی گزشتہ کوشش کو بش انتظامیہ نے ایک نئی طرز کی فوجی عدالتیں بنا کر غیر مؤثر کرنا چاہا تھا جسے اب سپریم کورٹ کے ججوں نے اپنے فیصلے میں نامناسب قرار دے دیا ہے۔ صدر بش نے روم میں دیے گئے اپنے بیان میں واضح کردیا کہ وہ عدالت کے فیصلے کا احترام تو کرینگے لیکن انہوں نے یہ فیصلہ دل سے قبول نہیں کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’اِس فیصلے پر ججوں میں ایک گہری خلیج نظر آئی ہے اور میں اِس فیصلے سے اختلاف کرنے والوں کے ساتھ اتفاق کرتا ہوں۔ اب ہم اِس فیصلے پر غور کرینگے اور دیکھیں گے کہ کہیں ہمیں اضافی قانون سازی کی تو ضرورت نہیں تاکہ ہم ایمانداری سے امریکی عوام سے کہہ سکیں کہ ان کی حفاظت کے لیے جو ہوسکتا ہے ہم کر رہے ہیں۔‘ اِس عدالتی فیصلے کا یہ مطلب نہیں کہ گونتانامو کے قیدیوں کو فوری یا مستقبل قریب میں رہائی مل جائے گی۔ لیکن اس کا یہ مطلب ہوسکتا ہے کہ شاید وہ فوجی کمیشن جس نے یہاں زیر حراست کچھ قیدیوں کے کیسوں پر کام شروع کردیا ہے وہ رک جائے یا معطل ہوجائے اور اِس دوران ان قیدیوں کے وکلاء امریکی عدالتوں سے اُن کی حراست کے قانونی یا غیرقانونی ہونے پر فیصلہ لے لیں۔ گونتانامو کا تنازعہ ویسے بھی شاید زیادہ دیر نہ چل سکے کیونکہ اگلے امریکی صدر کے لیے دونوں امیدوار پہلے ہی اِس حراستی مرکز کو بند کر دینے کی بات کر چکے ہیں۔ | اسی بارے میں ’گوانتامو قیدی اپیل کر سکتے ہیں‘12 June, 2008 | آس پاس CIA کی خفیہ جیلیں، برطانوی رپورٹ26 July, 2007 | آس پاس امریکہ گوانتانامو میں ’پھنس‘ گیا21 May, 2008 | آس پاس گوانتانامو میں امریکہ کیوں پھنسا22 May, 2008 | آس پاس ’جہاں اللہ اللہ کرنے کے سوا کچھ نہ ہو‘12 April, 2007 | آس پاس گوانتا نامو میں حالات ابتر: ایمنسٹی05 April, 2007 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||