BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 05 June, 2008, 16:37 GMT 21:37 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
خالد شیخ کےخلاف مقدمہ شروع
خالد شیخ محمد
خالد شیخ کو مارچ 2003 میں پاکستان سے گرفتار کیا گیا تھا
گوانتاموبے میں امریکی فوجی ٹرائیبونل نے نائن الیون کے مبینہ منصوبہ کار خالد محمد شیخ کے خلاف مقدمے کی باقاعدہ کارروائی شروع کر دی ہے۔

خالد شیخ محمد پر دو ہزار نو سو تہتر (2973) لوگوں کے قتل کا الزام لگایاگیا ہے۔ پانچ سال قبل راولپنڈی سےگرفتاری کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ خالد شیخ کو کسی عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔

خالد شیخ کو مارچ 2003 میں پاکستان سے گرفتار کیا گیا تھا اور انہیں القاعدہ کے سینئر ترین رہنماؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔

خالد شیخ کو گرفتاری کے بعد گوانتانامو بے منتقلی سے پہلے کسی نامعلوم محفوظ مقام پر رکھا گیا تھا۔

خالد شیخ کے ساتھ چار اور لوگوں کے خلاف مقدمے کی کارروائی شروع کی گئی ہے جن پر الزام ہے کہ انہوں نے نائن الیون حملے میں معاونت کی تھی۔

بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن بیل کا، جو ان ساٹھ صحافیوں میں شامل ہیں جنہیں مقدمے کی کارروائی دیکھنے کی اجازت ہے، کہنا ہے کہ اس سماعت کےدوران امریکی فوجی ٹرائیبونلز کے قانونی ہونے سے متعلق سوالات اٹھیں گے۔

امریکی محکمۂ دفاع کا کہنا ہے کہ خالد شیخ گیارہ ستمبر سنہ 2001 کو نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر حملے کے مبینہ ’ماسٹر مائنڈ‘ تھے۔

امریکی محکمہ دفاع کا کہنا ہے کہ خالد شیخ نے لندن کے بگ بین اور ہیتھرو ہوائی اڈے کو نشانہ بنانے سمیت دنیا بھر میں دہشتگردی کی انتیس کارروائیوں کی منصوبہ بندی کا بھی اعتراف کیا ہے۔

محکمۂ دفاع کے مطابق گوانتانامو بے کیمپ میں ہونے والی عدالتی کارروائی میں خالد شیخ محمد کو ایسا دشمن جنگجو قرار دیا گیا ہے جنہیں غیر معینہ مدت تک حراست میں رکھا جا سکتا ہے اور اسی فیصلے سے خالد شیخ محمد پرگوانتامو بے میں خصوصی فوجی ٹرائبیونل کے تحت مقدمہ چلانے کی راہ ہموار ہو ئی۔

خالد شیخ کے علاوہ جن لوگوں پر مقدمہ چلایا جا رہا ہے ان میں ولید بن اتاش، رمزی بنالشبہ، علی عبد العزیز علی اور مصطفیٰ احمد حواثاوی شامل ہیں۔

امریکہ محکمہ دفاع کا کہنا کہ مقدمے کی سماعت کے دوران تمام لوگوں کو اپنے دفاع کا موقع ملے گا۔

امریکی فوجی کمیشن کے سربراہ برگیڈیئر ہارٹمین کا کہنا ہے کہ گوانتاموبے نہ تو کیمپ ایکسرے ہے اور نہ ہی ابوغریب ۔’ ہم ایک فوجی کمیشن ہیں جو قاعدے اور قانون کے تحت کارروائی کرتے ہیں اور باوردی افسران عدالتی کارروائی کو چلاتے ہیں۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد