خالد شیخ کےخلاف مقدمہ شروع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
گوانتاموبے میں امریکی فوجی ٹرائیبونل نے نائن الیون کے مبینہ منصوبہ کار خالد محمد شیخ کے خلاف مقدمے کی باقاعدہ کارروائی شروع کر دی ہے۔ خالد شیخ محمد پر دو ہزار نو سو تہتر (2973) لوگوں کے قتل کا الزام لگایاگیا ہے۔ پانچ سال قبل راولپنڈی سےگرفتاری کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ خالد شیخ کو کسی عدالت میں پیش کیا گیا ہے۔ خالد شیخ کو مارچ 2003 میں پاکستان سے گرفتار کیا گیا تھا اور انہیں القاعدہ کے سینئر ترین رہنماؤں میں شمار کیا جاتا ہے۔ خالد شیخ کو گرفتاری کے بعد گوانتانامو بے منتقلی سے پہلے کسی نامعلوم محفوظ مقام پر رکھا گیا تھا۔ خالد شیخ کے ساتھ چار اور لوگوں کے خلاف مقدمے کی کارروائی شروع کی گئی ہے جن پر الزام ہے کہ انہوں نے نائن الیون حملے میں معاونت کی تھی۔ بی بی سی کے نامہ نگار جوناتھن بیل کا، جو ان ساٹھ صحافیوں میں شامل ہیں جنہیں مقدمے کی کارروائی دیکھنے کی اجازت ہے، کہنا ہے کہ اس سماعت کےدوران امریکی فوجی ٹرائیبونلز کے قانونی ہونے سے متعلق سوالات اٹھیں گے۔ امریکی محکمۂ دفاع کا کہنا ہے کہ خالد شیخ گیارہ ستمبر سنہ 2001 کو نیویارک کے ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر حملے کے مبینہ ’ماسٹر مائنڈ‘ تھے۔ امریکی محکمہ دفاع کا کہنا ہے کہ خالد شیخ نے لندن کے بگ بین اور ہیتھرو ہوائی اڈے کو نشانہ بنانے سمیت دنیا بھر میں دہشتگردی کی انتیس کارروائیوں کی منصوبہ بندی کا بھی اعتراف کیا ہے۔ محکمۂ دفاع کے مطابق گوانتانامو بے کیمپ میں ہونے والی عدالتی کارروائی میں خالد شیخ محمد کو ایسا دشمن جنگجو قرار دیا گیا ہے جنہیں غیر معینہ مدت تک حراست میں رکھا جا سکتا ہے اور اسی فیصلے سے خالد شیخ محمد پرگوانتامو بے میں خصوصی فوجی ٹرائبیونل کے تحت مقدمہ چلانے کی راہ ہموار ہو ئی۔ خالد شیخ کے علاوہ جن لوگوں پر مقدمہ چلایا جا رہا ہے ان میں ولید بن اتاش، رمزی بنالشبہ، علی عبد العزیز علی اور مصطفیٰ احمد حواثاوی شامل ہیں۔ امریکہ محکمہ دفاع کا کہنا کہ مقدمے کی سماعت کے دوران تمام لوگوں کو اپنے دفاع کا موقع ملے گا۔ امریکی فوجی کمیشن کے سربراہ برگیڈیئر ہارٹمین کا کہنا ہے کہ گوانتاموبے نہ تو کیمپ ایکسرے ہے اور نہ ہی ابوغریب ۔’ ہم ایک فوجی کمیشن ہیں جو قاعدے اور قانون کے تحت کارروائی کرتے ہیں اور باوردی افسران عدالتی کارروائی کو چلاتے ہیں۔‘ | اسی بارے میں گوانتانامو میں امریکہ کیوں پھنسا گیا 22 May, 2008 | آس پاس 9/11:خالد شیخ کا ’اعترافِ جرم‘15 March, 2007 | آس پاس میں پرل کا قاتل ہوں:خالد شیخ محمد15 March, 2007 | آس پاس 9/11: چھ کے خلاف الزامات عائد11 February, 2008 | آس پاس مشتبہ قیدی دشمن جنگجو ہیں؟10 March, 2007 | آس پاس ’گوانتاموبے: بات کی اجازت نہیں‘02 November, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||