گوانتانامو فیصلے پر امریکی برہمی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ نے گوانتانامو میں قید سترہ چینی مسلمان قیدیوں کی رہائی سے متعلق عدالتی فیصلے پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔ ڈسٹرکٹ جج رِکارڈو اربینا نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ امریکہ ان قیدیوں کو مزید حراست میں نہیں رکھ سکتا کیونہ اب انہیں دشمن جنگجو قرار نہیں دیا جا سکتا۔ سن دو ہزار چار میں ان سترہ چینی نژاد مسلمان کی رہائی کا حکم دیا گیا تھا لیکن امریکی حکومت کا موقف تھا کہ اگر انہیں واپس چین بھیج دیا جائے تو وہاں انہیں مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ لیکن اب ڈسٹرکٹ عدالت کے جج نے حکم دیا ہے کہ انہیں واپس امریکی بھیجنے کے بجائے امریکہ میں ہی رہا کر دیا جائے۔ واائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ نئے امریکی فیصلے سے اپنے نئی نظیر قائم ہو جائے گی اور امریکہ کےشدید مخالفین کو امریکہ آنے کی اجازت ہو گی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ اگر ان سترہ افراد کو اامریکی میں چھوڑڑ دیا جائے تو اس سے ایک سکیورٹی خطرہ پیدا ہو جائے گا۔ بش انتظامیہ کی نمائندگی کرنے والے وکلاء کا کہنا ہے کہ فیڈرل جج کو گوانتانامو کے قیدیوں کو امریکہ میں چھوڑنے کا کوئی اختیار نہیں ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ تازہ عدالتی فیصلہ حکومت کے لیے ایک دھچکا ہے اور اس سے گوانتانامو میں قید درجنوں افراد کی رہائی کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے۔ قیدیوں کی نمائندگی کرنے والے وکیلوں کا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقع ہے کہ عدالت نے گوانتانامو میں قید کسی شخص کی امریکہ میں رہائی کا حکم دیا ہے۔ | اسی بارے میں ’افغانستان: فتح کی امید نہ رکھیں‘05 October, 2008 | آس پاس طالبان سے بات کی جا سکتی ہے: گیٹس07 October, 2008 | آس پاس ’انخلاء کے فیصلے پر محفوظ راستہ‘30 September, 2008 | آس پاس بغداد کا سینئر بمبار ہلاک:امریکہ05 October, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||