گوانتانامو کے خاتمے پر کام شروع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے وزیر دفاع رابرٹ گیٹس نے خلیج گوانتنامو کے حراستی مرکز کو بند کرنے کے منصوبے کی تیاری پر کام شروع کرنے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ پینٹاگون کے ترجمان کے مطابق وزیر دفاع نے اپنی ٹیم سے کہا ہے کہ وہ اس حراستی مرکز کو بند کرنے کے ممکنہ طریقہ کار پر غور کر کے ایک منصوبہ تیار کرے جس میں امریکی عوام کے تحفظ کا بھی خیال کیا جائے اور حراست میں رکھے گئے افراد کو وہاں سے نکالنے کے عمل پر بھی غور ہو۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ یہ تیاریاں نو منتخب صدر براک اوباما کے اقتدار سنبھالنے سے پہلے شروع کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وزیر دفاع کی ٹیم اس منصوبے پر کام شروع کر رہی ہے تاکہ جب نو منتخب صدر اپنا عہدہ سنبھالیں، یہ ٹیم اس پوزیشن میں ہو کہ اگر نئے صدر جلد کوئی فیصلہ کرنا چاہیں تو یہ ٹیم انہیں اس بارے میں فوری مشورہ دے سکے۔ کیوبا میں واقع اس قید خانے میں تقریباً دو سو پچاس افراد زیرِ حراست ہیں۔ امریکہ کے نو منتخب صدر باراک اوباما کا کہنا ہے کہ ’ذمہ دارانہ انداز‘ سے اس حراستی مرکز کو بند کرنا ان کی اولین ترجیحات میں سے ایک ہے۔ باراک اوباما بیس جنوری کو اپنا عہدہ سنبھالیں گے اور وہ کہہ چکے ہیں کہ گوانتانامو کا قید خانہ دو برس کے اندر اندر بند کر دیا جائے گا۔ پینٹاگون کے ترجمان کا کہنا تھا کہ رابرٹس گیٹ جو نئے سیٹ اپ میں بھی وزیرِ دفاع ہی رہیں گے، اس خیال کہ حامل ہیں کہ انہیں گوانتانامو کو بند کرنے کے سلسلے میں تیار رہنا چاہیے کیونکہ ہو سکتا ہے کہ نئے صدر اپنے عہدہ سنبھالنے کے بعد وقت سے پہلے ہی اس منصوبے کو پایۂ تکمیل تک پہنچانا چاہتے ہوں۔ لہذا امریکی وزیرِ دفاع نے اپنی ٹیم سے تجویز طلب کی ہے کہ اس قید خانے کو کیسے بند کیا جا سکتا ہے اور یہاں پر قید افراد کو کہاں منتقل کیا جائے اس طرح کہ امریکی عوام کے مفاد کو کوئی زک نہ پہنچے۔ |
اسی بارے میں اوباما: گوانتانامو کی بندش کا عزم18 December, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||