کیا اوباما تبدیلی کا وعدہ پورا کر پائیں گے؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے نو منتخب صدر باراک اوباما اپنی خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی کی ٹیم کو حتمی شکل دینے میں مصروف ہیں لیکن ابھی سے یہ کہا جارہا ہے کہ واشنگٹن میں جس انقلابی تبدیلی کا وعدہ انہوں نے انتخابی مہم کے دوران کیا تھا، اس کے آثار کہیں نظر نہیں آرہے۔ یہ بات طے مانی جا رہی ہے کہ ہیلری کلنٹن وزارت خارجہ کا قلمدان سنبھالیں گی، مرین کور کے سابق جنرل جیمس جونز قومی سلامتی کے صلاحکار ہوں گے اور یہ امکان بھی ہے کہ موجودہ وزیر دفاع رابرٹ گیٹس کو ان کے عہدے پر برقرار رکھا جائے۔ نامہ نگار جوناتھن مارکس کے مطابق ڈیموکریٹک پارٹی میں جو لوگ تبدیلی کے امکان سے بہت خوش تھے، انہیں باراک اوباما کے ان فیصلوں پر مایوسی ہوئی ہے کیونکہ خارجہ پالیسی کی ٹیم ان کے اس وعدے کے منافی نظر آتی ہے کہ وہ بیرون ملک امریکہ کی شبیہہ باکل بدل دیں گے۔ ہیلری کلنٹن نے عراق کی جنگ کی حمایت کی تھی جبکہ جنرل جونز فلسطین سے متعلق سکیورٹی کے معاملات پر موجودہ خارجہ سیکریٹری کونڈولیزا رائس کے خصوصی ایلچی تھے۔
اور رابرٹ گیٹس پہلے سے ہی جارج بش کی ٹیم میں کلیدی کردار ادا کر رہے ہیں۔ لیکن مسٹر گیٹس اور مسٹر جونز کسی مخصوص نظریہ کی اشاعت کرنے والے نہیں ہیں۔ اور اب جبکہ باراک اوباما جیت گئے ہیں، اس بات کی خاص اہمیت باقی نہیں رہ جاتی کہ کئی برس پہلے ہلیری کلنٹن کا نظریہ کیا تھا۔ ویسے بھی انتخابی مہم کے دوران عراق پالسی پر باراک اوباما سے ان کے زیادہ اختلافات نہیں تھے۔ امریکی اور عراقی حکومتوں کے درمیان غیر ملکی افواج کے انخلا پر جو معاہدہ ہوا ہے اس کا نظام الاوقات مسٹر اوباما کے وعدوں سے زیادہ مختلف نہیں ہے۔ لیکن باراک اوباما کو سب سے زیادہ ضرورت باصلاحیت لوگوں کی ہے، اور اس بات کے مد نظر کے امریکہ فی الوقت دو جنگوں میں الجھا ہوا ہے، کسی حد تک تواتر کی بھی۔ انہیں جن مسائل کا سامنا ہے ان کی نوعیت پیچیدہ اور ہنگامی ہے۔ اور وقت کم ہے۔ عام خیال ہے کہ شروع میں ان کے اپنے ایجنڈے پر اقتصادی بحران اور داخلی امور چھائے رہیں گے لیکن خارجہ پالیسی کے لحاظ سے انہیں ایک ایسی ٹیم درکار ہے جو اقتدار سنبھالتے ہی صورتحال سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتی ہو۔ ہیلری کلنٹن کو وزیر خارجہ بنانے کی مبینہ تجویز پر جو لوگ نکتہ چینی کر رہے ہیں وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ ہیلری کے اندر ایک ’سٹار کوالٹی‘ ہے، وہ بہت اہل ہیں اور ان کا چہرہ دنیا بھر میں پہچانا جاتا ہے۔ اہم سوال یہ ہے کہ وہ باراک اوباما کے ساتھ کس حد تک مل کر کام کر پاتی ہیں کیونکہ اسی پر اس بات کا انحصار ہوگا کہ باہر کی دنیا اوباما انتظامیہ کی خارجہ پالیسی کو کس تناظر میں دیکھتی ہے اور اس کا اطلاق کس حد تک کامیاب ہوتا ہے۔ | اسی بارے میں ہیلری کو وزیر خارجہ بنانے کوتیار21 November, 2008 | آس پاس ’اخلاقی وقار بحال کروں گا‘17 November, 2008 | آس پاس اوباما: پچیس لاکھ نئی نوکریاں22 November, 2008 | آس پاس اوباما ای میل کرنا بند کرسکتے ہیں18 November, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||