BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 18 November, 2008, 09:06 GMT 14:06 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اوباما ای میل کرنا بند کرسکتے ہیں
باراک اوبامہ
باراک اوبامہ ای میل کے لیے بلیک بیری فون سے چپکے رہتے ہیں
امریکہ کے نومنتخب صدر باراک اوباما نے صدارتی انتخابات سے قبل سگریٹ نوشی ترک کر دی تھی اور اب صدر بننے کے بعد انہیں ای میل کرنے کی اپنی عادت سے بھی باز آنا پڑےگا ۔

باراک اوباما کے معاونین نے اخبار نیو یارک ٹائمز کو بتایا ہے کہ امکان ہے کہ اوباما ای میل کا استعمال بھی ترک کردیں گے کیونکہ ٹرانسپیرنسی قوانین کے تحت باراک اوباما کی ای میل (خط و کتابت) تک عوام کی بھی رسائی ہوتی ہے۔

موجودہ صدر جارج بش اور سابق صدر بل کلنٹن نے بھی عہدہ صدارت کے دوران ای میل کا استعمال نہیں کیا تھا۔ لیکن یہ لوگ اوباما کے بر عکس بلیک بیری فون کے استعمال کے اس قدر دلدادہ بھی نہیں تھے۔ اوباما ای میل کی رسائی کے لیے موبائیل فون کو ہمیشہ ساتھ رکھتے ہیں۔

انتخابی مہم کے دوران بھی ای میل چیک کرنے کے لیے وہ فون ہمیشہ ساتھ رکھتے تھے۔ موسم گرما میں انہیں کیمرے پر دکھایا گیا تھا کہ اپنی بیٹی کا ایک فٹبال میچ دیکھتے ہوئے بھی وہ اپنے فون پر ای میل چیک کر رہے تھے اور ان کی بیوی مشیل نے ان کے ہاتھ پر ہاتھ مارا تھا تاکہ وہ فون رکھ دیں۔

بل کلنٹن کے دور کے پریس سکریٹری جو لاک ہارٹ نے اس بارے میں ایسو سی ایٹڈ پریس سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’ میں سوچتا ہوں کہ اوباما ایسے پہلے صدر ہیں جنہیں ہم سبھی کی طرح بلیک بیری کی عادت پڑی ہوئی ہے، صدر کے ریکارڈ اور آرکائیو کے لیے کئی طرح کے اصول ہوتے ہیں کہ کیا جمع کیا جائے اور کیا نا ریکارڈ کیا جائے۔‘

اس بارے میں ابھی آخری فیصلہ ہونا باقی ہے کہ آیا باراک اوباما ای میل استعمال کرنے والے پہلے صدر ہوں گے یا نہیں لیکن اس بات کے امکان ہیں کہ وہ ایسے پہلے صدر ہوں گے جن کے اوول آفس کی ڈیسک پر لیپ ٹاپ ہوگا۔

ایک امکان جس پر ابھی غور ہورہا ہے وہ یہ ہے کہ وہ ای میل موصول کرتے رہے ہیں لیکن وہ خود بھیجنے سےگریز کریں۔

انتخابی مہم کے دوارن ان کے مشیروں نے میموز چھاپنے کے بجائے اکثر اوباما کے بلیک بری فون پر ای میل کر دیتے تھے۔

امریکہ میں صدارتی ریکارڈ کا مطلب یہ ہے کہ صدر کی تمام خط و کتابت عوام کے سامنے کھول کر رکھ دی جائیں لیکن اس سے بھی سنگین مسئلہ سکیورٹی کا ہے۔ ماہرین کے مطابق ڈیجیٹل کمیونکیشن کو کبھی بھی ہیک کیا جاسکتا ہے۔

اس سے اس بات کا بھی خطرہ رہتا ہے کہ فون ٹریک کرنے کے بعد صدر کے مقام کا بآسانی پتہ چل سکتا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد