’لابیسٹس کا اثر کم کرنے کا عزم‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے نو منتخب صدر باراک اوباما اپنی انتظامیہ میں تشخص ساز افراد (لابیسٹس) کے کردار کو کم کرنے کے لیے نئے اصول وضع کریں گے۔ اقتدار کی منتقلی کے عمل کی نگرانی کرنے والے اوباما کے ساتھی جان پوڈیسٹا کا کہنا ہے کہ باراک اوباما اس سلسلے میں’ کڑے اور دور رس نتائج کے حامل اخلاقی اصول‘ متعارف کروائیں گے۔ نیویارک میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ’ نو منتخب صدر نے واشنگٹن کے کام کرنے کا طریقہ بدلنے اور لابیئسٹس کے اثرورسوخ کو لگام دینے کا عزم کیا ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ اس مرتبہ اقتدار کی منتقلی کا عمل’ کھلا اور شفاف ترین‘ ہوگا۔ یاد رہے کہ باراک اور بامہ اور ان کے مخالف جان مکین دونوں ہی اپنی انتخابی مہم کے دوران لابیسٹس کے خلاف خیالات کا اظہار کر چکے ہیں۔ پوڈیسٹا نے بتایا کہ نئے اقدامات کے تحت گزشتہ بارہ ماہ کے دوران بطور لابیئسٹ کام کرنے والا کوئی بھی شخص ٹرانزیشن کے دوران کسی ایسی پالیسی پر کام نہیں کرے گا جس کے لیے وہ لابیئنگ کرتا رہا ہو۔ اور یہی نہیں بلکہ منتقلی اقتدار کے سلسلے میں کام کرنے والا کوئی شخص اگر بعد میں لابیئسٹ بن جاتا ہے تو اسے اپنے متعلقہ شعبے کی انتظامیہ سے روابط بڑھانے کے لیے بارہ ماہ انتظار کرنا ہوگا۔
گوانتانامو بے کے حوالے سے بات کرتے ہوئے جان پوڈیسٹا نے کہا کہ اس حراستی مرکز کے مستقبل کے سلسلے میں کام ہو رہا ہے تاہم یہ ایک پیچیدہ معاملہ ہے۔ خیال رہے کہ منگل کو یہ بات سامنے آئی تھی کہ باراک اوباما کے مشیر گوانتانامو بے حراستی مرکز سے کچھ قیدیوں کی رہائی اور زیادہ تر کو امریکی جیلوں میں منتقل کرنے اور پر امریکی عدالتوں میں مقدمے چلانے کے منصوبے پر کام کر رہے ہیں۔ بی بی سی کے جسٹن ویب کے مطابق وہ افراد جن پر قومی سلامتی کے معاملات کے پیشِ نظر کھلی عدالت میں مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا ان کے مقدمات کی سماعت کے لیے ایک نئی عدالت کے قیام کی تجویز بھی سامنے آئی ہے۔ | اسی بارے میں بش کی پالیسی بدلیں گے: اوباما 10 November, 2008 | آس پاس وائٹ ہاؤس میں اوبامہ، بش ملاقات10 November, 2008 | آس پاس کیاایران کی امیدوں پر پانی پھرگیا؟10 November, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||