وائٹ ہاؤس میں اوبامہ، بش ملاقات | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے نومنتخب صدر باراک اوبامہ نے گزشتہ ہفتے ہونے والے صدارتی انتخاب میں فتح کے بعد پہلی مرتبہ وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر جارج بش سے ملاقات کی ہے۔ ادھر اطلاعات کے مطابق باراک اوبامہ کے مشیروں نے گوانتانامو بے کا قید خانہ بند کرنے اور کچھ قیدیوں کی رہائی اور بقیہ پر امریکی عدالتوں میں مقدمات چلانے کے منصوبے پر کام شروع کر دیا ہے۔ صدر بش اور باراک اوبامہ کے درمیان ملاقات ایک گھنٹے سے زیادہ دیر تک جاری رہی جو دونوں رہنماؤں کے رفقاء کے مطابق دوستانہ اور مثبت رہی۔اس ملاقات کی زیادہ تفصیلات جاری نہیں کی گئیں تاہم اطلاعات کے مطابق باراک اوبامہ اور جارج بش نے عالمی اقتصادی بحران، عراق اور افغانستان کی جنگوں اور اقتدار کی منتقلی جیسے امور پر بات کی۔ مبصرین کے مطابق اس ملاقات میں ماحول خاصا سازگار معلوم ہوا، جو کہ سنہ دو ہزار میں صدر کلنٹن اور نو منتخب صدر جارج بش کی ملاقات میں دیکھنے کو نہیں ملا تھا۔ باراک اوبامہ کے دورۂ وائٹ ہاؤس کے موقع پر ان کے اہلِ خانہ بھی ان کے ہمراہ تھے اور اوول ہاؤس میں بش اوبامہ ملاقات کے دوران امریکہ کی خاتونِ اول نے آنے والی خاتونِ اول مشیل اوبامہ اور ان کی بیٹیوں کو وائٹ ہاؤس کے رہائشی علاقے کی سیر کروائی۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ صدر بش اور باراک اوبامہ کی ملاقات میں جلدبازی اس لیے کی گئی کیونکہ یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے کہ جب ایک جانب امریکہ حالتِ جنگ میں ہے تو دوسری جانب اسے شدید اقتصادی بحران کا بھی سامنا ہے۔
صدر بش اور نو منتخب صدر باراک اوباما کی اس ملاقات کے بعد دونوں جانب سے جاری کردہ بیانات میں اس ملاقات کو دوستانہ اور مثبت قرار دیا گیا۔باراک اوبامہ نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ یہ ملاقات ’اقتدار کی آسان اور پراثر طریقے سے منتقلی کا نقطۂ آغاز ثابت ہوگی‘۔صدر بش نے بھی نو منتخب صدر کو اقتدار کی منتقلی کے عمل کے دوران مکمل تعاون کا یقین دلایا ہے۔ بیان میں باراک اوبامہ نے یہ بھی کہا ہے کہ ’میں ان(صدر بش) کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے جماعتی سیاست سے بالاتر ہو کر کام کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ قوم کو درپیش موجودہ مشکلات سے نمٹنے کے لیے یہ ضروری تھا‘۔ خیال رہے کہ باراک اوبامہ پہلے ہی اس بات کا عندیہ دے چکے ہیں کہ وہ بیس جنوری سنہ 2009 کو عہدۂ صدارت سنبھالنے کے بعد صدر بش کی متعدد پالیسیاں تبدیل کر دیں گے۔ امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ کے مطابق اوبامہ اور انکے مشیروں نے بیس انتظامی احکامات پر نظرِثانی کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ واشنگٹن سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق باراک اوبامہ کے ساتھی تندہی سے ان معاملات کی نشاندہی پر کام کر رہے ہیں جہاں سے تبدیلیوں کا آغاز کیا جائے گا۔ یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ باراک اوبامہ کے مشیر گوانتانامو بے حراستی مرکز سے کچھ قیدیوں کی رہائی اور زیادہ تر کو امریکی جیلوں میں منتقل کرنے اور پر امریکی عدالتوں میں مقدمے چلانے کے منصوبے پر بھی کام کر رہے ہیں۔ بی بی سی کے جسٹن ویب کے مطابق وہ افراد جن پر قومی سلامتی کے معاملات کے پیشِ نظر کھلی عدالت میں مقدمہ نہیں چلایا جا سکتا ان کے مقدمات کی سماعت کے لیے ایک نئی عدالت کے قیام کی تجویز بھی سامنے آئی ہے۔ |
اسی بارے میں بش کی پالیسی بدلیں گے: اوباما 10 November, 2008 | آس پاس کیاایران کی امیدوں پر پانی پھرگیا؟10 November, 2008 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||