تاریخی انتخابات میں تاریخ ساز فتح | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
چار جولائی سترہ سو چھہتر کو برطانیہ سے آزادی حاصل کرنے والے ملک امریکہ میں پہلی بار ڈیموکریٹک پارٹی کے سیاہ فام امیدوار باراک اوبامہ نے بہت بڑی اکثریت سے صدر منتخب ہوکر ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔ امریکی صدارتی الیکٹورل کالج کے کل پانچ سو اڑتیس ووٹوں میں سے صدر منتخب ہونے کے لیے دو ستر ووٹ درکار ہیں لیکن تاحال باراک اوبامہ نے ساڑھے تین سو ووٹ حاصل کرکے ریبلکن پارٹی کے امیدوار سینیٹر جان مکین کو بدترین شکست دی ہے۔ ان کے حریف جان مکین کو کو ایک سو تریسٹھ ووٹ مل سکے ہیں۔ پچیس صدارتی ووٹوں کا فیصلہ ابھی باقی ہے۔ کینیا سے تعلق رکھنے والے سیاہ فام باپ اور گوری امریکی والدہ کے بیٹے سینتالیس سالہ باراک اوبامہ جب محض چار برس کے تھے تو امریکہ میں سیاہ فام شہریوں کو ووٹ کا حق ملا تھا۔ لیکن کسے معلوم تھا کہ تینتالیس برس قبل جن سیاہ فام لوگوں کو امریکہ میں ووٹ دینے کا حق نہیں تھا آج ان میں سے ہی کوئی دنیا کی واحد عظیم طاقت کا سربراہ مملکت ہوگا۔ بلاشبہ سیاہ فام اوبامہ کو امریکی صدر کے سب سے بڑے منصب پر پہنچانے میں امریکہ کے ترقی پسند سوچ کے حامل کروڑوں گورے امریکیوں کا ہی ہاتھ ہے اور انہوں نے ایک لحاظ سے اس ملک میں صدیوں تک کالی چمڑی والوں سے نفرت کا کفارہ بھی ادا کردیا ہے۔ لیکن باراک اوبامہ پر امریکہ کی مشکل ترین لمحوں میں قیادت کا ایک بڑا بوجھ بھی ڈالا ہے اور امریکہ کو معاشی بحران سے نکالنا اوبامہ کا سب سے بڑا چیلینج ہوگا۔ تقریبا تیس کروڑ آبادی والے ملک امریکہ میں منگل چار نومبر کے تاریخی صدارتی انتخاب کے لیے رجسٹرڈ ووٹرز کی تعداد ساڑھے اٹھارہ کروڑ رہی۔ پچاس ریاستوں اور کولمبیا ضلع پر مشتمل امریکہ میں صدارتی انتخاب کے ساتھ ساتھ چار سو پینتیس ایوان نمائندگان کی نشستوں کے لیے بھی ووٹنگ ہوئی۔ ایک ہی بیلٹ پیپر پر امریکی صدر، ایوان نمائندگاں کے علاوہ تینتیس ریاستوں کے پینتیس سینیٹرز اور گیارہ ریاستوں کے گورنرز کے لیے بھی ووٹ ڈالے گئے اور ڈیموکریٹک پارٹی نے جہاں صدر کا انتخاب جیتا وہاں ایوان بالا سنیٹ اور کانگریس میں بھی واضح برتری حاصل کرکے ایک طاقتور حکومت کی بنیاد رکھ دی ہے۔
چار نومبر کے انتخابات میں ڈالے گئے ووٹوں کی شرح بہت زیادہ رہی ہے اور ساؤتھ ڈکوٹا اور نویڈا سمیت بعض ریاستوں میں ایک سو فیصد ووٹ ڈالے گئے۔ جبکہ ٹیکساس، ایریزونا، مونٹانا، نارتھ ڈکوٹا اور بعض دیگر ریاستوں میں ڈالے گئے ووٹوں کی شرح ننانوے فیصد رہی۔ مقامی ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ ساٹھ کی دہائی میں صدر جان ایف کینیڈی کے انتخاب کے وقت کے بعد پہلی بار امریکی ووٹرز اتنی بڑی تعداد میں سرگرم دکھائی دیے ہیں اور انیس سو 76 کے بعد پہلی بار ڈیموکریٹک پارٹی کو اتنی واضح برتری حاصل ہوئی ہے۔ امریکہ کی پچاس میں سے اڑتالیس ریاستیں ایسی ہیں جہاں ’ونرز فار آل‘ کا طریقہ کار رائج ہے۔ یعنی جس امیدوار کو زیادہ ووٹ ملیں گے، انہیں متعلقہ ریاست کے تمام صدارتی ووٹ مل جائیں گے۔ اس اصول کے تحت گزشتہ چار دہائیوں سے ریپبلکن کا گڑھ سمجھی جانے والی ریاستوں ورجینیا اور کولوراڈو میں باراک اوبامہ نے اپنے حریق جان مکین کو شکست دے کر اپنی فتح کی نئی مثال قائم کی ہے۔ محض چار برس قبل شکاگو سے سنیٹر منتخب ہونے والے باراک اوبامہ کے بارے میں شاید ہی کسی کو معلوم ہو کہ وہ امریکہ کے صدر بن جائیں گے۔ سن دو ہزار چار کے انتخاب میں صدر بش نے جو ریاستیں جیتی تھیں ان میں سے سات باراک اوبامہ نے واپس چھین لی ہیں۔ جس میں فلوریڈا، انڈیانہ، اوہائیو، کولوراڈو، پینسلوانیا اور ورجنیا بھی شامل ہیں۔ چار نومبر کے انتخابات میں امریکیوں نے گوروں پر کالے کو راج کرنے اختیار دے کر جمہوریت کی تاریخ میں ایک نیا باب رقم کیا ہے۔ یہ بھی امریکی جمہوریت کی ہی ایک بڑی خوبی ہے کہ ہارنے والے امیدوار جان مکین نے انتخابی نتائج کو قوم کا فیصلہ قرار دے کر قبول کیا۔ ابھی کلی طور پر الیکشن نتائج سامنے ہی نہیں آئے اور محض رجحان دیکھ کر جان مکین نے اپنی شکست تسلیم کرلی اور باراک اوبامہ، جسے کل تک وہ کم تر شخص ثابت کرنے پر تلا ہوا تھا انہیں فون کرکے فتح پر مبارک دی اور اپنی حمایت کا یقین دلایا۔ اپنی آبائی ریاست ایریزونا کے دارالحکومت فینکس کے ایک بڑے ریستوران میں جان مکین نے تو جشن فتح منعقد کیا تھا لیکن وہ عین وقت پر شام غم بن گئی۔ عمارت کے اوپر قوسِ قزح کے رنگوں کی طرح روشنیوں سے سجی اس محفل میں جب جان مکین نے اپنے حامیوں سے کہا کہ وہ اختلافات بھلا کر باراک اوبامہ کو امریکہ کا صدر تسلیم کرلیں تو کئی شرکاء کی آنکھوں سے آنسو ٹپک آئے اور خود جان مکین اپنی نائب صدر کی امیدوار سارا پیلن کے ہمراہ اشکبار آنکھوں اور بھاری آواز سے ہاتھ ہلاتے روانہ ہوئے۔ امریکہ کی پالیسیوں سے لاکھ اختلافات سہی لیکن ان کی یہ جمہوری روایات دیکھ کر تو یہی خواہش ہوتی ہے کہ کاش ایسی روایات پاکستان میں بھی قائم ہوں۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||