BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 05 November, 2008, 13:59 GMT 18:59 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکہ کے بارے میں رائے تبدیل ہو گی

اوباما
دنیا بھر میں رائے عامہ نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکہ کو ناپسند کیا جاتا ہے

نومبر انیس سو ساٹھ میں جان ایف کینیڈی کے انتخاب کے بعد امریکہ نے اپنے عالمی رتبے میں سب سے بڑی تبدیلی دیکھی ہے۔

یہ ملک اپنے آپ کو ایک جواں سال اور پھلتا پھولتا ملک کہتا رہا ہے۔ کئی بار یہ دکھاوا ہوتا ہے لیکن کئی بار یہ تاثر باالکل درست بھی ہوتا ہے، اور اوباما کی فتح ان لمحات میں شامل ہے جن سے یہ تاثر صحیح ثابت ہوا۔

ماضی میں کبھی بھی امریکہ اتنا بدنام اور نفرت سے نہیں دیکھا گیا جتنا کہ صدر جارج بش کی حکومت کے آخری حصے میں ہوا ہے۔ میں نے حال ہی میں سابق صدر کلنٹن کی وزیر خارجہ میڈیلن البرائٹ سے پوچھا کہ کیا ان کو یاد ہے کہ امریکہ کو اتنا ناپسند کیا گیا ہو۔

’میری زندگی میں تو نہیں۔ میں اس ملک سے پیار کرتی ہوں کیونکہ یہ ایک شاندار ملک ہے۔ لیکن عالمی دنیا میں اس ملک کے لیے اس قسم کے تاثرات کبھی پہلے نہیں تھے۔‘

دنیا بھر میں رائے عامہ کے جائزوں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ امریکہ کو ناپسند کیا جاتا ہے۔ لیکن دنیا نے ایک جوان، ظاہری طور پر خوش اخلاق اور معقول سیاہ فام شخص کے صدر بننے کا خیر مقدم کیا ہے۔

اسی سال بی بی سی نے بائیس ممالک میں سروے کروایا جس کے مطابق پانچ میں سے چار افراد مکین سے زیادہ اوباما کو ترجیح دیتے ہیں۔ اور تقریباً پچاس فیصد نے کہا کہ ان کی امریکہ کے بارے میں رائے تبدیل ہو جائے گی اگر اوباما صدر بنتے ہیں۔

گزشتہ آٹھ سال لوگوں نے صدر بش کی حکومت کے لیے لفظ ’مغرور‘ کا استعمال بار بار کیا ہے۔ اور اس دور میں واشنگٹن کی برتری کی زبان باقی دنیا کے لیے حقارت کی حد تک بڑھ گئی۔

ذرا ڈونلڈ رمسفیلڈ، پال ولفووٹز اور پال بریمر کی تقریروں کے بارے میں سوچیئے۔ ان سب کا عراق پر حملے کے ساتھ قریبی تعلق ہے اور یہ حملہ پوری دنیا کی رضا کے بغیر کیا گیا تھا۔

عراق پر حملہ کیوں کیا؟ بش انتظامیہ سے تعلق رکھنے والے ایک اور فرد نے جواب میں کہا ’اس لیے کے ہم امریکہ ہیں کر سکتے ہیں۔‘

امریکہ سے باہر زیادہ تر افراد البرائٹ کی اس بات سے اتفاق کریں گے کہ ’میرے خیال میں عراق (جنگ) امریکہ کی خارجہ پالیسی کی بدترین ناکامی کے طور پر قلمبند ہو گی۔‘

 دنیا میں جو بھی عراق پر حملے کے خلاف تھا یہ محسوس کریں گے کہ امریکی عوام نے نئے راستے کا انتخاب کیا ہے۔ وہ رستہ جو ابو غریب، گوانتانامو اور تشدد سے علیحدہ ہے۔

سنہ دو ہزار تین میں عراق پر حملے سے قبل جب سیاستدان عام رائے کے خلاف نہیں جانا چاہتے تھے اس وقت اوباما نے کھلے عام اس منصوبے کی مخالفت کی۔

اوباما کا صدر منتخب ہونا اسی مخالفت کی وجہ سے ہے۔ اور دنیا میں جو بھی عراق پر حملے کے خلاف تھا یہ محسوس کریں گے کہ امریکی عوام نے نئے راستے کا انتخاب کیا ہے۔ وہ رستہ جو ابو غریب، گوانتانامو اور تشدد سے علیحدہ ہے۔

امریکہ وہ ملک نہیں رہا جو پہلے ہوا کرتا تھا۔ امریکہ ابھی بھی عالمی قیادت کر سکتا ہے لیکن اپنی رضا کو مسلط نہیں کر سکتا۔

اوباما اس بات کو سمجھتے ہیں۔ ایک ایفریقی۔امریکن ہونے کے ناطے مراعات یافتہ طبقے سے تعلق نہیں رکھتے اور نہ ہی ان کو بڑے پن کا گھمنڈ ہے۔ وہ دنیا کے ساتھ اس طرح پیش آئیں گے جس طرح جارج بش نے کبھی نہیں کیا۔

لیکن یہ اس بات کا ضامن نہیں کہ وہ ایک کامیاب صدر ہوں گے۔ جمی کارٹر نے امریکہ کی ویت نام کے بعد پوزیشن کو سمجھ لیا اور دنیا پر اپنی مرضی مسلط نہیں کی۔ آج کل امریکی عوام کی اکثریت ان کو ایک ناکام صدر کے طور پر یاد کرتی ہے۔

لیکن عالمی دنیا باراک اوباما کی فتح سے خوش ہے اور ان کے امریکہ کے بارے میں خیالات اس کے مطابق تبدیل ہوں گے۔

امریکی الیکشن تاریخی انتخابات
امریکی الیکشن میں دنیا بھر کی دلچسپی
اب تک کی دوڑ
جائزوں اور انتخابی برتری میں فیصلے کا وقت
ایریزوناایریزونا ووٹنگ
مکین کی آبائی ریاست کے پاکستانی ووٹر
بش بش کی مقبولیت
ان کا اور ان کی پالیسیوں کا ذکر غائب ہو گیا
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد