انتخابات، صدر بش اور ان کی وراثت | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدارتی انتخابات میں ووٹنگ سے قبل کئی ماہ ان انتخابات کی مہم چلی۔ لیکن صدارتی انتخابات کی مہم میں ماضی کے مقابلے میں صدر کا ذکر بالکل نہیں ہو رہا۔ خاص طور پر اس پارٹی کے امیدوار کی طرف سے صدر کا ذکر نہیں آیا جس پارٹی کے صدر اس وقت وائٹ ہاؤس میں بیٹھے ہیں۔ اس سے قبل سنہ دو ہزار کے انتخابات میں جو کہ ڈیموکریٹ کے ایل گور اور ریپبلکن کے جارج بش کے درمیان تھا، ایل گور نے اس وقت کے صدر بل کلنٹن کے بطور صدر کاموں اور پالیسیوں کا بارہا ذکر کیا۔ اسی طرح اس سے قبل صدارتی پالیسیوں اور کامیابی سے چلائی جانے والی پالیسیوں کے حوالے سے انتخابی مہم میں اس وقت کے صدر کا ذکر رہا ہے۔ لیکن اس بار ریپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار جان مکین نے ریپبلکن پارٹی ہی کے صدر جارج بش کا ذکر نہیں کیا۔ اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ صدر بش کی پالیسیاں امریکہ میں نہایت غیر مقبول ہیں اور اسی وجہ سے ان پالیسیوں اور صدر بش کا انتخابی مہم میں ذکر کرنے سے فائدہ کم اور نقصان زیادہ ہے۔ نہ صرف یہ کہ ریپبلکن پارٹی صدر بش کا نام لینے سے جان بوجھ کر گریز کر رہی ہیں بلکہ بش انتظامیہ کے کسی بھی فرد کا نام نہیں لینا چاہتی۔ جان مکین کی اہلیہ سنڈی مکین سے جب لائیو ود لیری کنگ پروگرام میں ڈک چینی کی طرف سے حمایت کے متعلق سوال پوچھا تو انہوں نے اعتراف کیا کہ ریپبلکن پارٹی کی موجودہ پوزیشن دو جنگوں اور پھر اچانک حال ہی میں آنے والے معشیت کے بحران کی وجہ سے ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس امر کا زبردست فائدہ اٹھانے کے لیے ڈیموکریٹ پارٹی نے زبردست حکمت عملی سے انتخابی مہم چلائي ہے۔
صدر بش کی خارجہ پالیسی ہو یا معاشی پالیسی، امریکہ کے لیے بہتر نہیں رہی۔ اور جان مکین کو جس مسئلے کا سامنا ہے وہ ہے کہ ان کی اور صدر بش کی سوچ جو دو بڑی ایشوز عراق اور معیشت پر ایک ہی ہے۔ جان مکین نے کلیولینڈ میں صدر بش کی معاشی پالیسی سے اختلاف کرنے کی کوشش کی تھی اور کہا تھا کہ صدر بش کی پالیسی درست نہیں تھی اور اگر وہ صدر منتخب ہوتے ہیں تو وہ حکومتی خرچوں کو کم کرنے پر کام کریں گے۔ لیکن گیلپ کے رواں سال جولائی میں کیے گئے ایک سروے میں کہا گیا تھا کہ انچاس فیصد امریکیوں کا خدشہ ہے کہ مکین صدر بش کی پالیسیوں ہی کو جاری رکھیں گے۔ امریکی تنظیم ہیرس پول کے مطابق عام امریکی صدر بش کی معاشی پالیسیوں سے مطمئن نہیں ہیں۔ اس سروے کے مطابق ستر فیصد امریکیوں نے معاشی پالیسی کو غلط کہا جب کہ صرف چودہ فیصد امریکی اس پالیسی کے حق میں تھے۔ دوسری طرف خارجہ پالیسی ہے جس کے حوالے سے صدر بش اور ان کی انتظامیہ کو دنیا میں اکیلے ہی مہم جوئی پر نکل جانے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ صدر بش عراق سے جلد امریکی فوج واپس بلانے کہ حق میں نہیں ہیں۔ یہ پالیسی بھی امریکی عوام میں زیادہ پسند نہیں کی جاتی۔ خارجہ پالیسی کے حوالے سے انیس سو بائیس میں معرض وجود میں آئی شکاگو کونسل آن گلوبل افیئرز نے رواں سال ستمبر میں ایک سروے کیا جس میں کہا گیا کہ اکاسی فیصد ریپبلکنز اور اٹھاسی فیصد ڈیموکریٹس کا یہ کہنا ہے کہ دنیا بھر میں امریکہ کے امیج کو بہتر بنانے کی ضرورت ہے۔ اس کے علاوہ دونوں پارٹیوں کی کثیر تعداد کا کہنا تھا کہ امریکہ کو دنیا بھر میں ناپسندیدہ ممالک کے رہنماؤں سے بات چیت کرنی چاہیے۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ عراق میں ایک مقررہ وقت تک رہنا چاہیے۔ اس سروے کے مطابق تریپن فیصد امریکیوں کا خیال ہے کہ امریکہ کی خارجہ پالیسی کو کامیاب بنانے کے لیے قابلیت میں کمی آئی ہے۔
اس کے علاوہ 59 فیصد کا خیال ہے کہ جنگ سے ملک کو درپیش خطرات میں کمی نہیں آئی ہے جبکہ 76 فیصد کا کہنا ہے کہ جو پیسے اس جنگ میں لگائے جا رہے ہیں وہ پیسے ملک میں مزید بہتری لانے کے لیے لگ سکتے ہیں۔ اسی طرح ورلڈ پبلک اوپینیئن نامی تنظیم نے پچھلے سال اگست میں ایک پول جاری کیا جس میں کہا گیا کہ امریکی عوام نے امریکہ کو اکیلے کرنے کی پالیسی کو نامنظور کیا اور اس کے علاوہ یہ بھی کہا کہ امریکہ کو دوسرے ممالک کو ساتھ لے کر چلنا چاہیے اور امریکہ کو جمہوریت اور انسانی حقوق کے لیے زیادہ کام کرنا چاہیے۔ سنہ دو ہزار آٹھ میں پبلک ایجنڈا نامی تنظیم نے ایک سروے کیا جس کے مطابق 69 فیصد لوگوں کا کہنا ہے کہ فوجی کارروائی کی جگہ ڈپلومیسی سے کام لینا چاہیے۔ اسی طرح 51 فیصد لوگوں نے کہا کہ حلیف ممالک کے ساتھ کام کرنا بہت ضروری ہے۔ اسی طرح اس سروے میں کہا گیا ہے کہ 47 فیصد لوگ چاہتے ہیں ایران کے ساتھ بات چیت کرکے مسئلے کو حل کیا جائے۔ دریں اثنا پینسٹھ فیصد امریکیوں کا کہنا ہے کہ امریکہ کے دنیا کے دیگر ممالک کے ساتھ روابط خراب ہیں۔ معاشی اور خارجہ پالیسیوں کے بارے میں امریکی تنطیموں کے ان جائزوں سے واضح ہے کہ جان مکین کے لیے یہ بہتر ہی تھا کہ صدر جارج بش اور ان کی پالیسیوں کا ذکر نہ کیا جائے کیونکہ مکین کی ان انتخابات میں پوزیشن ویسے ہی کچھ بہتر نظر نہیں آ رہی تھی۔ |
اسی بارے میں امریکی انتخاب: نوجوانوں کا بڑا دھماکہ04 November, 2008 | صفحۂ اول پُرجوش ووٹر، لمبی قطاریں04 November, 2008 | صفحۂ اول اب تک سے آگے: جائزے اور انتخاب04 November, 2008 | صفحۂ اول ووٹروں پر ریپبلیکن کی گرفت کمزور04 November, 2008 | صفحۂ اول باراک اوباما یا جان مکین: فیصلے کا دن 04 November, 2008 | صفحۂ اول امریکی الیکشن اور غلاموں کی فروخت03 November, 2008 | صفحۂ اول ٹیکسی ڈرائیور کیا کہتے ہیں03 November, 2008 | صفحۂ اول بلیک امریکہ اوباما سے کیا چاہتا ہے؟03 November, 2008 | صفحۂ اول | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||