تاریخی صدارتی انتخاب میں بھاری ووٹنگ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں چوالیسویں صدر کے تاریخ ساز انتخاب میں بڑی تعداد میں لوگ حق رائے دہی کا استعمال کر رہے ہیں۔ ڈیموکریٹ باراک اوباما امریکہ کے پہلے سیاہ فام صدر بننے کی کوشش میں ہیں اور ان کا مقابلہ ریپبلکن جان مکین سے ہے جن کا دعوی ہے کہ وہ تمام انتخابی جائزوں کو غلط ثابت کردیں گے۔ کئی ریاستوں میں پولنگ مکمل ہو گئی ہے۔ ان میں انڈیانا، ورجینیا، جورجیا، ساؤتھ کیرولائنا، ورمونٹ اور کینٹکی شامل ہیں۔ جلدی ہی ابتدائی نتائج ملنا شروع ہوجائیں گے۔ انتخابی جائزوں کے مطابق باراک اوباما کو جان مکین پر تقریباً دس پوائنٹس کی سبقت حاصل ہے لیکن جان مکین کا اب بھی یہ اصرار ہے کہ وہ جیت سکتے ہیں۔ نامہ نگار جیمس کماراسوامی کے مطابق باراک اوباما کو سبقت ضرور حاصل ہے لیکن ان کی کامیابای کا دارومدار کافی حد تک اس بات پر ہوگا کہ سفید فام ووٹروں نے اپنا فیصلہ کرتے وقت کس حد تک ان کی جلد کے رنگ کو نظر انداز کیا۔ امریکی تاریخ کی اس طویل ترین اور سب سے مہنگی انتخابی مہم نے ووٹروں میں زبردست جوش و خروش پیدا کیا ہے اور ماہرین کے مطابق ساٹھ کی دہائی میں جان ایف کینیڈی کے انتخاب کے بعد سے ایسا انتخابی ماحول پہلی مرتبہ دیکھنے کو ملا ہے۔ باراک اوباما نے شکاگو میں اپنی اہلیہ اور دونوں بیٹیوں کے ساتھ ووٹ ڈالا جبکہ جان مکین فینکس میں ووٹ ڈالنے کے بعد پھر انتخابی مہم پر نکل پڑے۔
توقع ہے کہ آج تقریباً تیرہ کروڑ لوگ حق رائے دہی کا استعمال کریں گے جبکہ تقریباً تین کروڑ لوگ پہلے ہی اپنا ووٹ ڈال چکے ہیں۔ ریپبلکن پارٹی کا گڑھ تصور کی جانے والی ریاست ورجینیا میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے باراک اوباما نے زبردست کوششیں کی ہیں اور آخری لمحات میں بھی انہوں نے وہاں ایک ریلی سے خطاب کیا۔ آخری اطلاعات آنے تک ریاست میں بھاری ووٹنگ ہو رہی تھی۔ اوہایو اور مسوری میں، جہاں ووٹروں کی وفاداریاں دونوں جماعتوں کے درمیان تقریباً برابر تقسیم رہتی ہیں، ’عدیم المثال پولنگ‘ ہو رہی ہے۔ نارتھ کیرولائنا کے دو علاقوں میں ووٹنگ کے اوقات بڑھا دئے گئے ہیں۔ اپنا ووٹ ڈالنے کے بعد باراک اوباما نے کہا کہ’ انتخابی سفر تو اب ختم ہو جائےگا، لیکن اپنی بیٹیوں کے ساتھ ووٹ ڈالنا، یہ میرے لیے ایک اہم بات تھی۔‘ کولوراڈو میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے جان مکین نے کہا کہ ’ ہوا کا رخ ہمارے ساتھ ہے۔۔۔ ہم یہ انتخاب جیت رہے ہیں۔‘ ’باہر نکلیں اور ووٹ دیں۔ مجھے آپ کی مدد کی ضرورت ہے۔‘ انہوں نے اپنے حامیوں سے یہاں تک کہا کہ ضرورت پڑے تو اپنے پڑوسیوں کو گھسیٹ کر پولنگ سٹیشنوں تک لیجائیں۔ ادھر پرائمری انتخابات میں باراک اوباما کی حریف سینیٹر ہلری کلنٹن نے کہا کہ اوباما بھاری اکثریت سے جیتیں گے۔ فاتح امیدوار کو پچاس ریاستوں کے کل 538 الیکٹورل ووٹوں میں سے 270 ووٹ حاصل کرنے ہیں۔ صدارتی انتخاب کے ساتھ ساتھ کانگریس کے بھی انتخاب ہو رہے ہیں۔
ایوانِ نمائندگان میں 435 نشستوں اور سینٹ کی سو میں سے 35 نشستوں پر بھی انتخاب ہو رہا ہے۔ ڈیموکریٹ پارٹی کو امید ہے کہ وہ سینٹ میں اپنی اکثریت کو 60 ووٹوں تک بڑھا لے گی۔ منگل کو امریکہ میں سب سے پہلے نیو ہیمشائر کے علاقے ڈکسوائل نؤچ میں ووٹ ڈالے گئے جہاں باراک اوباما نے پندرہ جبکہ ان کے حریف جان مکین نے چھ ووٹ حاصل کیے۔ اس چھوٹے سے مقام پر کل ووٹ اکیس ہیں۔ یہ علاقہ گزشتہ ساٹھ برس سے امریکہ میں سب سے پہلے ووٹ ڈالنے کی روایت کا حامل ہے۔ سنہ انیس سو اڑسٹھ کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ اس قصبے کے لوگوں نے ڈیموکریٹ کو اکثریت سے ووٹ دیا ہو۔ امریکہ کے مشرقی ساحلی علاقوں میں پولنگ کا آغاز صبح چھ بجے یاگرینچ کے معیاری وقت کے مطابق صبح گیارہ بجے ہوا۔ رائے عامہ کے جائزوں کے مطابق امریکی عوام، حالیہ اقتصادی بحران کی وجہ سے تنزلی کی کیفیت میں انتخابات میں حصہ لے رہے ہیں۔ اس سے قبل امریکی تاریخ میں کبھی بھی انتخابات کے موقع پر حکمران پارٹی اور اس کا صدر اس قدر غیر مقبول نہیں رہے جیسے آج کے صدر جارج ڈبلیو بش ہیں۔ | اسی بارے میں باراک اوبامہ کی نانی انتقال کر گئیں03 November, 2008 | آس پاس مکین کی حمایت میں ڈک چینی02 November, 2008 | آس پاس ’صدر کوئی بھی، بڑا چیلنج پاکستان‘01 November, 2008 | آس پاس پاکستان میں حملہ، احمقانہ بات: مکین08 October, 2008 | آس پاس امریکی انتخاب محض کاسمیٹک تبدیلی؟22 October, 2008 | آس پاس پیٹریئس، سینٹرل کمانڈ کے سربراہ31 October, 2008 | آس پاس امریکی مسلمان: اوباما کی حمایت28 October, 2008 | آس پاس مکین کےحملوں سے ناراض25 October, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||