امریکی انتخاب محض کاسمیٹک تبدیلی؟ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
مسز ڈینس آگوائیر ایک پکی ریپبلیکن ووٹر اور، بقول انکے، راسخ العقیدہ عیسائي ہیں۔ مجھے وہ کیلیفورنیا سے بتا رہی تھیں کہ انیس سو اسی تک وہ ڈیموکریٹ ووٹر تھیں۔ لیکن ، بقول انکے جب سے ان پر یہ کھلا کہ عیسائي عقیدے کا پلیٹ فارم ریپبلیکن پارٹی ہے کیونکہ ریپبلیکن پارٹی ہی اسقاطِ حمل ، ہم جنس لائف سٹائل اور آزادیوں کیخلاف ہے۔ کل رات لیری کنگ لائيو میں جب رونالڈ ریگن کے بیٹے ران ریگن سے پوچھا گیا کہ کیا باراک اوبامہ سوشلسٹ ہیں تو انہوں نے کہا ’وہ سوشلسٹ تو نہیں لیکن میں یہ جانتا ہوں کہ میں امیر نہیں اس لیے مجھے ان کی دولت پھیلانے والی باتیں اچھی لگتی ہیں۔یعنی یہ جو اوبامہ کہتا ہے کہ بڑی بڑی کمپنیوں پر ٹیکس لگا کر چھوٹے کاروبار اور محنت کش اور متوسط لوگوں پر ٹیکس گھٹانے کی بات‘۔ مسز ڈینس اگوائر کہہ رہی تھیں کہ وہ قدامت پسند کرسچين ہیں۔ پھر انہوں نے کہا جان مکین اور سارہ پیلن ’میرے عقیدے کی تعلمیات کے مطابق ہیں۔ لیکن مجھے یقین نہیں کہ جان مکین اور سارہ پیلن یہ انتخابات جیت جائيں گے‘۔ ڈینس کہتی ہیں کہ وہ سارہ پیلن کی اس لیے حمایت نہیں کرتی کہ وہ عورت ہے۔ ڈینس کے مطابق، جنس امریکہ میں کبھی مسئلہ نہیں رہا۔ لیکن،بقول ان کے، ’بدقسمتی سے یہ دونوں امیدوار قدامت پرست عیسائی ہیں۔ خدا امریکہ پر رحم کرے۔‘ لیکن ڈیموکریٹک پارٹی کی نیویارک میں جنوبی ایشیائي قومی کمیٹی کے رکن علی مرزا مانتے ہیں کہ شروع شروع میں سارہ پیلن کے نائب صدارت کی امیدوار کے طور پر سامنے آجانے پر ڈیموکریٹس کے کمیپ میں دلچسپی اور جوش و خروش پایا گیا تھا کیونکہ ریپلکنز نے اپنی تاریخ میں پہلی بار کسی عورت کو نائب صدارت کیلیے امیدوار منتخب کیا۔
علی مرزا مجھے بتارہے تھے کہ امریکہ میں مسلمانوں کے کوئی پانچ لاکھ ووٹ ہونگے جن میں سے تین لاکھ کے قریب ووٹ نیویارک ریاست میں ہیں جن میں ایک اندازے کے مطابق ایک لاکھ پچہتر ہزار ووٹ پاکستانیوں کے رجسٹرڈ ہیں۔ وہ کہہ رہے تھے کہ زیادہ تر نوجوانوں اور کالج کے طلبہ و طالبات نے ووٹ رجسٹرڈ کرواۓ ہوۓ ہیں۔ گذشتہ دنوں ایک لیگ آف مسلم ویمن نامی نتظیم نے مقامی اسلامک سینٹروں میں جاکر پاکستانیوں سمیت مسلمان خواتین کو ووٹ رجسٹرڈ کروانے کیی ترغیب دی تھی انہوں نے ’پچاس فی صد پاکستانی مسلمان عورتوں کے ووٹ رجسٹر کیے‘۔ علی مرزا جیسے ڈیموکریٹس کا کہنا ہے کہ جان مکین کی مہم میں باراک اوباما کیخلاف منفی مہم اور اسے مسلمانوں سے جوڑنے نے مسلمان اور پاکستانی ووٹروں کو باراک اوباما کے حق میں کردیا ہے۔ میرے ایک پاکستانی دوست جن کی پوری فیملی ڈیموکریٹس کی حامی اور مذہبی خیالات کی ہے، کہہ رہے تھے اگر اوباما نہ جیتے تو امریکہ کو بہت نقصان ہوگا۔ اگر دیکھا جاۓ تو اس میں باراک اوبامہ یا ان کی مہم کا کوئي کمال نہیں۔جیسے کئي مسلمان یا پاکستانی آبادیوں میں ڈیموکریٹس کے دفاتر اور رضاکار یا کارکن تو ہیں لیکن باراک اوباما یا کسی بھی بڑے ڈیموکریٹ لیڈرنے ان علاقوں کا دورہ نہیں کیا کیونکہ وہ ریپبلکن پارٹی کی ’منفی مہم‘ سے اتنے نروس ہیں کہ وہ خود کو مسلمانوں کیساتھ کھڑا یا نظر آتا دکھانا نہیں چاہتے۔ اسکی ایک مثال مشی گن ریاست ہے جہاں ایک بڑی تعداد میں عرب آبادی ہے۔ وہاں ڈیموکریٹس کے ووٹ ہیں لیکن اوباما اب تک نہیں پہنچے۔ لیکن دانشور ڈاکٹر منظور اعجاز، جو گذشتہ تقریبن تین دہائیوں سے امریکہ میں مقیم ہیں اور سرگرم ڈیموکریٹ بھی ہیں کہتے ہیں کہ بات امریکہ میں الیکشن سے نہیں اس سے آگے کی ہے۔ بات اصل میں یہ ہے کہ امریکہ تبدیلی چاہتا ہے۔ امریکہ وہ نہیں رہا جو آٹھ سال پہلے تھا۔ امریکہ اپنی سمت تبدیل کررہا ہے۔ ڈاکٹر منظور اعجاز کا کہنا ہے ’امریکہ میں کئي ببلز آۓ ہوۓ ہیں۔ سٹاک ببل، ہاؤسز ببل، اور اب سیاست یا اوباما ببل۔ ببل پھٹنا چاہتا ہے۔ کسی بھی طرح ہوا میں معلق نہیں رہنا چاہتا۔ الیکشنز تو محض ایک کاسمیٹک چینج ہوگي۔‘ |
اسی بارے میں ڈکٹیٹر کی حمایت نہیں کرنا:اوبامہ08 October, 2008 | آس پاس اوبامہ مکین سے دس پوائنٹس آگے13 October, 2008 | آس پاس اوبامہ: سارہ پیلن کا الزام مسترد06 October, 2008 | آس پاس اوباما کی حامی 106 سالہ راہبہ13 October, 2008 | آس پاس مکین کے لیے راستہ تنگ ہو رہا ہے16 October, 2008 | آس پاس اوباما، مکین مباحثہ، الزامات کی بوچھاڑ16 October, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||