BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 17 October, 2008, 13:46 GMT 18:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکی عوام اپنا صدر کسطرح چنُتے ہیں؟
جائزوں کے مطابق باراک اوباما آگے چل رہے ہیں۔
عام تاثر یہی ہے کہ تمام امریکی اپنی اپنی پسند کے صدارتی امیدوار کو ووٹ دیتے ہیں اور جس امیدوار کے ووٹ زیادہ ہوں اسے صدر تسلیم کر لیا جاتا ہے۔

لیکن یہ تاثر درست نہیں ہے کیونکہ امریکی صدر کے انتخاب کا طریقِ کار اتنا سادہ اور آسان نہیں ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ بہت سے امریکی عوام بھی اپنے صدارتی انتخاب کے طریق کار سے آگاہ نہیں ہے۔

دراصل امریکہ میں ریاست کا یونٹ بنیادی اہمیت کا حامل ہے اور جب امریکی آئین تشکیل پا رہا تھا تو اس بات کو یقینی بنایا گیا تھا کہ کسی ریاست کے مفادات کو وفاق کی بھینٹ نہ چڑھا دیا جائے۔

صدرِ امریکہ کے انتخاب میں بھی یہ بات ملحوظ رکھی جاتی ہے کہ کسی ریاست کی حق تلفی کا شائبہ تک پیدا نہ ہو اور ہر ریاست کو اسکی آبادی کے تناسب سے صدر کے انتخابی عمل میں استحقاق حاصل رہے۔

صدارتی انتخابات کا سلسلہ انفرادی رائے دہی سے شروع ہوتا ہے۔ یعنی تمام امریکی شہری اپنی اپنی ریاست میں صدر اور نائب صدر کے لئے ووٹنگ میں حصّہ لیتے ہیں۔

ہر ریاست کے اپنے مخصوص الیکٹورل ووٹ ہوتے ہیں۔

ظاہر ہے کہ تمام امریکی ریاستیں آبادی کے لحاظ سے مساوی نہیں ہیں۔ کوئی ریاست کروڑوں کی آبادی رکھتی ہے اور کوئی محض چند لاکھ کی۔ چنانچہ ایوانِ نمائندگان میں کسی ریاست سے صرف چار نمائندے جاتے ہیں اور کسی ریاست سے پچاس نمائندے۔

اس صورتِ حال میں توازن پیدا کرنے کےلئےامریکی سینیٹ میں ہر ریاست کی مساوی نمائندگی رکھی گئی ہے یعنی ریاست چھوٹی ہو یا بڑی، اسکے دو نمائندے سینیٹ میں جائیں گے۔ گویا پچاس ریاستوں کے کُل ایک سو (100 ) سینیٹر ہوتے ہیں، لیکن ایوانِ نمائندگان میں محض آبادی کے تناسب سے نیابتی حلقے مقرر ہوتے ہیں۔ مثلاً کیلی فورنیا جیسی بڑی ریاست میں 53 نیابتی حلقے ہیں تو وہاں سے 53 ارکان اپنی ریاست کی نمائندگی وفاق میں کریں گے لیکن کینسس جیسی چھوٹی ریاست میں صرف 4 نیابتی حلقے ہیں تو وہاں سے صرف 4 ارکان وفاق میں نمائندگی کریں گے۔

امریکہ میں عوام براہِ راست اپنا صدر منتخب نہیں کرتے بلکہ انتخاب کنندگان کی ایک جماعت مِل کر یہ کام کرتی ہے جِسے الیکٹورل کالج کہا جاتا ہے۔

الیکٹرل کالج میں ریاست کے وفاقی نمائندے اور سینیٹر شامل ہوتے ہیں۔ کسی بھی ریاست میں کانگریس کے جتنے نیابتی حلقے ہوں گے اتنا ہی بڑا اسکا الیکٹرل کالج ہوگا۔

مثلاً ریاست ورجینیا میں اگر کانگریس کے گیارہ نیابتی حلقے ہیں تو دو سینیٹر مِلا کر اسکا الیکٹورل کالج تیرہ ارکان پر مشتمل ہوگا اور ریاست پنسلوینیا میں اگر اُنیس حلقے ہیں تو دو سینیٹر مِلا کر اسکا الیکٹورل کالج اِکیس ارکان پر مشتمل ہوگا۔

امریکہ بھر کی تمام چھوٹی بڑی ریاستوں کے انتخاب کنندگان کی کل تعداد 538 بنتی ہے اور صدارت کےلئے امیدوار کو ان میں سے کم از کم 270 ووٹ ملنے چاہئیں۔ گویا عوام نے جس صدارتی امیدوار کو ووٹ دیئے ہیں وہ براہِ راست شمار نہیں ہوں گے بلکہ ہر ریاست میں الگ الگ شمار ہوں گے اور جس امیدوار کے عوامی ووٹ زیادہ ہیں وہ متعلقہ ریاست کے الیکٹورل کالج کے تمام ووٹ خود بخود حاصل کرلے گا۔

موجودہ طریقہ کار کو بدلنے کا مطالبہ بھی کافی پرانا ہے۔

مثلاً مِشی گن ریاست میں اگر باراک اوباما کو زیادہ لوگوں نے ووٹ دیئے تو یہ بات اہم نہیں ہے کہ انھیں کتنے لاکھ ووٹ ملے بلکہ یہ بات اہم ہے کہ ریاست میں جیتنے کے باعث انھیں مشی گن کے سترہ الیکٹرل ووٹ حاصل ہوگئے۔

اسی طرح مختلف ریاستوں میں حاصل ہونے والے الیکٹرل ووٹ جمع ہونے کے بعد اگر انھیں 270 یا اس سے زیادہ ووٹ مِل جاتے ہیں تو وہ امریکہ کے نئے صدر قرار پائیں گے اور اگر جان مک کین کے الیکٹرل ووٹ 270 تک پہنچ جاتے ہیں تو صدارت کا عہدہ انھیں پیش کیا جائے گا۔

یہاں سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب عوام کے براہِ راست ووٹوں کی گنتی سے بھی عہدہ صدارت کا فیصلہ کیا جاسکتا ہے تو پھر اتنے پیچیدہ نظام کی کیا ضرورت ہے۔

دراصل امریکہ پچاس ریاستوں کا ایک وفاق ہے جہاں ہر ریاست کو اپنے قوانین بنانے اور ٹیکس لگانے کی آزادی ہے۔ صدر کے انتخاب میں ریاستوں کو زیادہ سے زیادہ نمائندگی دینے کےلئے الیکٹرل کالج کا تصّور سامنے آیا تاکہ زیادہ آبادی والی ریاست کو اسی تناسب سے مرکز میں رسوخ حاصل ہو لیکن گزشتہ دو سو برسوں کے دوران حالات خاصے تبدیل ہو چکے ہیں اور مختلف امریکی ریاستوں میں باہمی اعتماد کی ایک ایسی فضا پیدا ہوچکی ہے کہ اسطرح کی احتیاطی تدابیر اب درکار نہیں ہیں۔

چنانچہ امریکی عوام میں اس انتخابی نظام کو تبدیل کرنے کی شدید خواہش موجود ہے۔ یہ امر دلچسپی سے خالی نہیں کہ گذشتہ دو صدیوں کے دوران امریکی کانگریس میں اس نظامِ انتخاب کی تبدیلی کےلئے کُل ملا کر سات سو تجاویز پیش کی جاچُکی ہیں۔ امریکی بار ایسوسی ایشن اس طریقِ انتخاب کو دقیانوسی قرار دے چُکی ہے اور ایک سروے کے مطابق امریکہ کے ستّر فی صد وکلاء اِس نظامِ انتخاب میں فوری تبدیلی چاہتے ہیں۔

رائے عامہ کے جائزے بھی ظاہر کرتے ہیں کہ امریکی عوام اس انتحابی طریقے سے مطمئن نہیں ہیں۔ 1967 میں ہونے والے ایک سروے میں اٹھاون فی صد عوام نے اس نظام کی مخالفت کی تھی اور اسکی فوری تبدیلی کا مطالبہ کیا تھا۔ 1968 میں ہونے والے ایک اور سروے میں اکیاسی فی صد عوام نے اور 1981 کے ایک سروے کے مطابق پچہتر فی صد امریکی عوام نے صدارتی انتخاب کے اِس بالواسطہ طریقے کو تبدیل کرنے کے حق میں فیصلہ دیا تھا۔

باراک اوبامہجمہور کی حمایت
پاکستانی ڈکٹیٹر کی حمایت نہیں کرنا :اوبامہ
اوبامہ آگے نکل گئے
اوبامہ کو مکین پر دس پوائنٹس کی برتری
پاکستانیوں کی پسند
زیادہ تر پاکستانی امریکی بظاہر اوباما کے ساتھ
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد