BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 16 October, 2008, 12:21 GMT 17:21 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکہ: انتخاب سے قبل آخری مباحثہ

باراک اوباما اور جان مکین
دونوں امیداروں نے انتخابی مہم کو ’مشکل‘ قرار دیا
امریکہ میں صدارت کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار سینیٹر باراک اوباما اور ریپبلیکن پارٹی کے امیدوار سینیٹر جان مکین کے درمیاں تیسرا لیکن آخری مباحثہ زیادہ تر معشیت سمیت ملک کے داخلی مسائل اور ایک دوسرے کے خلاف مبینہ منفی مہم کے الزامات پر ختم ہوا۔

اب جبکہ امریکی صدارتی انتخابات میں بمشکل بیس روز رہ گئے ہیں تو صدارتی امیدواروں کے درمیاں آخری لیکن گرما گرما مباحثہ نیویارک کے لانگ آئیلینڈ میں مشہور ہوفسٹرا یونیورسٹی میں جمعرات کی شب شروع ہوا۔

مباحثے کی میزبانی معروف امریکی صحافی اور ایک ٹیلیویژن نیٹ ورک کے اینکر باب شیفرڈ نے کی۔ باب شیفرڈ نے مباحثے کے اختتام پر کہا کہ ’میری ماں کہا کرتی تھی- جاؤ جا کر ووٹ دو کیونکہ اس سے تم مضبوط ہوگے-‘

مباحثے میں امریکہ کو درپیش موجودہ معاشی صورتحال اور حال ہی میں ریکارڈ خسارے کے کا بجٹ بھی بات چیت کا محور رہا۔

منفی انتخابی مہم
 سینیٹر باراک اوبامہ نے اشتہاری مہم چلانے والوں کی طرف سے جان مکین اور سارہ پیلن کی انتخابی مہم کو امریکہ میں سن انیس سو ساٹھ میں چلنے والی شہری حقو‍ق تحریک کے مخالف قرار دینے کو نامناسب مانا- تاہم سینیٹر جان مکین نے سیینٹر اوبامہ پر مبینہ طور پر دہشتگرد خیالات کا پرچار کرنے والے ایک پروفیسر سے تعلقات سمیت کئي الزامات کو پھر دہرایا اور کہا یہ باراک اوبامہ کی انتخابی مہم واٹر گیٹ کے بعد امریکہ کی سب سے مہنگی ترین مہم ہے
اگرچہ مباحثے میں خارجہ پالیسی اور ’دہشتگردی کے خلاف جنگ‘ کے پس منظر میں پاکستان اور افغانستان ایجنڈے پر نہیں تھا لیکن نیویارک کے بروکلین میں ’لِٹل پاکستان‘ کہلانے والے ریستورانوں پر رکھے ٹیلیویژن سیٹوں پر مباحثہ دیکھنے والے پاکستانیوں کی خاصی تعدا موجود رہی۔

بروکلین میں کونی آئيلینڈ ایوینو پر ایک پاکستانی گروپ نے اوبامہ اور مکین کی جمعرات کی شب والے مباحثے کے بعد ایک ’ٹاؤن ہال میٹنگ‘ کے نام سے غیر رسمی اجلاس بلایا تھا۔

نیویارک کے ہوفسٹر یونیورسٹی کیمپس میں جہاں آخری صدارتی مباحثہ ہورہا تھا امریکی حکومت کی جانب سے پاکستان سمیت دنیا بھر سے کئي صحافیوں کی ایک اچھی تعداد بھی مدعو تھی۔

دونوں صدارتی امیدواروں سینیٹر جان مکین اور باراک اوباما کے درمیان ایک ’آزمائشی سوال‘ کے طور پر ان کی ایک دوسرے کے خلاف اشتہاری مہم اور الزمات کے تبادلے زیر بحث آئے پھر دونوں امیدواروں نےایک دوسرے کے خلاف مہم کا حصہ بننے والے الزامات پھر دہرائے۔ دونوں امیداروں نے انتخابی مہم کو ’مشکل‘ قرار دیا۔

جان مکین نے اوباما کے خلاف الزام لگایا کہ ان کے ایک ساتھی کانگریس مین نے ایک اشتہار میں انہیں ( سینیٹر جان مکین) اور ان کی نائب صدارت کے لیے ساتھی امیدوار گورنر سارہ پیلن کو ایک نسل پرست گروپ سے منسلک کیا ہے جس نے امریکہ کے جنوب میں نسلی امتیاز اور تشدد میں حصہ لیا تھا-

سینیٹر باراک اوباما نے اشتہاری مہم چلانے والوں کی طرف سے جان مکین اور سارہ پیلن کی انتخابی مہم کو امریکہ میں سن انیس سو ساٹھ میں چلنے والی شہری حقو‍ق تحریک کے مخالف قرار دینے کو نامناسب مانا- تاہم سینیٹر جان مکین نے سینیٹر اوباما پر مبینہ طور دہشتگرد خیالات کا پرچار کرنے والے ایک پروفیسر سے تعلقات سمیت کئي الزامات کو پھر دہرایا اور کہا یہ باراک اوباما کی انتخابی مہم واٹر گیٹ کے بعد امریکہ کی سب سے مہنگی ترین مہم ہے۔

سینیٹر جان مکین نے اعتراف کیا کہ ان کی مہم میں شامل کچھ لوگوں کا سینیٹر باراک اوباما کو ’دہشتگرد‘ قرار دینا نامناسب تھا اور انہوں نے ان کو روک دیا تھا۔ لیکن انہوں نے کہا کہ سنیٹر باراک اوباما نے اب تک ان کے خلاف ’گندی‘ مہم چلانے والوں کو نہیں روکا-

تبدیلی کا غماز
 وہاں موجود پاکستانیوں کو توقع تھی کہ امیگریشن اور خلیج گوانتانامو جیسے مسائل زیر بحث لائے جائيں گے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نےکہا کہ بہرحال امریکی تاریخ میں اقلیت سے تعلق رکھنے والے صدارتی امیدوار کا ابھرنا امریکہ میں اہم تبدیلی کا غماز ہے
شاہد کامریڈ
تاہم سینیٹر باراک اوباما نے صدر بش کی ٹارچر کی پالیسیوں سمیت جنگ عراق پر سینیٹر جان مکین کے موقف کو سراہا- صدر بش کی پالسیوں کے بار بار ذکر پر سینٹر جان مکین نے اوباما سے کہا کہ ’میں صدر بش نہیں ہوں۔ اگر تمہیں اس کی پالیسیوں پر بولنا تھا تو چار سال قبل ان کے خلاف انتخابات لڑتے-‘

انہوں نے کہا کہ ان کے برعکس، باراک اوباما ایک بار بھی اپنی پارٹی کی قیادت کے خلاف نہیں کھڑ ے ہوئے۔ یاد رہے کہ جریدے ہفت روزہ ’نیویارکر‘ ایک بڑی اسٹوری شائع کرچکا ہے جس میں اس نے دعویٰ کیا ہے کہ بش انتظامیہ کی پالیسیوں پر اختلافات کی وجہ سے مبینہ طور پر صدر بش اور جان مکین کے درمیاں بول چال تک بند رہی تھی۔

ریپبلیکن پارٹی نے سینیٹر اوباما پر الزام لگایا کہ ان کا تارکین وطن اور دوسرے کئي مسائل پر کام کرنیوالی غیر سرکاری تنظیموں کے ایک اتحاد اوکران سے تعلق ہے جس نے مبینہ طور پر ووٹروں کے اندراج میں بڑے پیمانے پر دھاندلیاں کی ہیں۔

امریکی پبلک ریڈیو این پی آر نے کہا ہے کہ اوکران کے حوالے سے ریپبلیکن پارٹی کی طرف سے انتخابات ہارنے کی صورت میں دو ہزار کے انتخابات کی طرح دھاندلیوں کے الزامات لگائے جائيں گے، اور پھر امکان ہے کہ انتخابی نتائج کا قضیہ عدالتوں تک جائےگا۔

تاہم امریکی معیشت ، ہیلتھ کیئر، تعلیم ہاؤسنگ، فری ٹریڈ، کولمبیا میں مزدور تحریک کے حوالے سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں، تیل اور توانائي، ٹیکس جیسے موضوع مباحثے کا محور رہے۔

ایک موقعہ پر سینیٹر جان مکین نے امریکہ کے غیر ملکی تیل پر دارومدار کے حوالے سے وینزویلا اور مشرق وسطیٰ کے تیل کو ’خراب تیل‘ اور اس سے آئندہ سالوں میں بقول ان کے جان چھڑانے اور کینیڈا کے تیل کو ’اچھا تیل‘ کہا-

صحت کا مسئلہ
 ہیلتھ کيئر وہ مسئلہ ہے جہاں آکر ہر امریکی کا دل بار بار ٹوٹ جاتا ہے جبکہ جان مکین نے کہا کہ امریکہ میں چار کروڑ ستر لاکھ کے قریب لوگ ہیلتھ انشورنس سے محروم ہیں۔ جان مکین نے ٹیکس میں واپسی کے موقع پر ہر خاندان کو صحت کی انشورنس میں پانچ ہزار ڈالر کا وعدہ کیا جبکہ سینٹیر باراک اوباما نے وفاقی انشورنس کا وعدہ کیا جو بقول ان کے وہ اور سینیٹر جان مکین استعمال کرتے ہیں-
جبکہ سینیٹر جان مکین نے امریکی محنت کش خاندانوں، اجرت میں اضافے، چھوٹے کاروبار یا کمپنیوں اور متوسط طبقے کو ابھارنے پر بات کرتے ہوئے ايگزان اور موبائيل جیسی بڑی تیل کمپنیوں کے چار ارب ڈالر کے ریکارڈ منافعوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے محنت کش اور متوسط طبقے کو ٹیکسوں میں چھوٹ دینے کی بات کی جسے جان مکین نے ان کی (اوباما کی) دولت کو ہر جگہ بکھیرنے اور طبقاتی جنگ چھیڑ دینے کی باتوں سے تعبیر کیا-

اوباما نے کہا ہے کہ ہیلتھ کيئر وہ مسئلہ ہے جہاں آکر ہر امریکی کا دل بار بار ٹوٹ جاتا ہے جبکہ جان مکین نے کہا کہ امریکہ میں چار کروڑ ستر لاکھ کے قریب لوگ ہیلتھ انشورنس سے محروم ہیں۔ جان مکین نے ٹیکس میں واپسی کے موقع پر ہر خاندان کو صحت کی انشورنس میں پانچ ہزار ڈالر کا وعدہ کیا جبکہ سینیٹر باراک اوباما نے وفاقی انشورنس کا وعدہ کیا جو بقول ان کے وہ اور سینیٹر جان مکین استعمال کرتے ہیں-

امیدواروں کے درمیاں مباحثے کا مرکزی لیکن خاموش کردار ’جو‘ نامی ایک امریکی ووٹر اور چھوٹا بزنس مین تھا جس نے گزشتہ دنوں باراک اوباما سے ان کی چھوٹی بزنسوں اور محنت کش لوگوں کے لیے ٹیکس پالیسی پر سوال پوچھا تھا- دونوں امیدوار بار بار ’جو‘ سے مخاطب ہوتے رہے۔

لیکن چھوٹی سکرین پر چھوٹے پاکستان کہلانے والے بروکیلین کی کونی آئی لینڈ کے یا مقامی ریستوران میں ایک پاکستانی گروپ پاکستان یو ایس فریڈم فورم کی جانب سے پاکستانیوں اور مقامی شہری حقوق کے کچھ سرگرم امریکی کارکنوں کی بلائي گئي ایک غیر رسمی میٹنگ میں مباحثہ دیکھا گیا اور زیر بحث رہا۔

پاکستان یو ایس فریڈم فورم کے شاہد کامریڈ نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ان سمیت وہاں موجود پاکستانیوں کو توقع تھی کہ امیگریشن اور گوانتانامو بے جیسے مسائل زیر بحث لائے جائيں گے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نےکہا کہ بہرحال امریکی تاریخ میں اقلیت سے تعلق رکھنے والے صدارتی امیدوار کا ابھرنا امریکہ میں اہم تبدیلی کا غماز ہے۔

اسی بارے میں
صدارتی بحث میں کون جیتا؟
27 September, 2008 | آس پاس
بی بی سی کا انتخابی سفر
15 September, 2008 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد