امریکہ: انتخاب سے قبل آخری مباحثہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ میں صدارت کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار سینیٹر باراک اوباما اور ریپبلیکن پارٹی کے امیدوار سینیٹر جان مکین کے درمیاں تیسرا لیکن آخری مباحثہ زیادہ تر معشیت سمیت ملک کے داخلی مسائل اور ایک دوسرے کے خلاف مبینہ منفی مہم کے الزامات پر ختم ہوا۔ اب جبکہ امریکی صدارتی انتخابات میں بمشکل بیس روز رہ گئے ہیں تو صدارتی امیدواروں کے درمیاں آخری لیکن گرما گرما مباحثہ نیویارک کے لانگ آئیلینڈ میں مشہور ہوفسٹرا یونیورسٹی میں جمعرات کی شب شروع ہوا۔ مباحثے کی میزبانی معروف امریکی صحافی اور ایک ٹیلیویژن نیٹ ورک کے اینکر باب شیفرڈ نے کی۔ باب شیفرڈ نے مباحثے کے اختتام پر کہا کہ ’میری ماں کہا کرتی تھی- جاؤ جا کر ووٹ دو کیونکہ اس سے تم مضبوط ہوگے-‘ مباحثے میں امریکہ کو درپیش موجودہ معاشی صورتحال اور حال ہی میں ریکارڈ خسارے کے کا بجٹ بھی بات چیت کا محور رہا۔
بروکلین میں کونی آئيلینڈ ایوینو پر ایک پاکستانی گروپ نے اوبامہ اور مکین کی جمعرات کی شب والے مباحثے کے بعد ایک ’ٹاؤن ہال میٹنگ‘ کے نام سے غیر رسمی اجلاس بلایا تھا۔ نیویارک کے ہوفسٹر یونیورسٹی کیمپس میں جہاں آخری صدارتی مباحثہ ہورہا تھا امریکی حکومت کی جانب سے پاکستان سمیت دنیا بھر سے کئي صحافیوں کی ایک اچھی تعداد بھی مدعو تھی۔ دونوں صدارتی امیدواروں سینیٹر جان مکین اور باراک اوباما کے درمیان ایک ’آزمائشی سوال‘ کے طور پر ان کی ایک دوسرے کے خلاف اشتہاری مہم اور الزمات کے تبادلے زیر بحث آئے پھر دونوں امیدواروں نےایک دوسرے کے خلاف مہم کا حصہ بننے والے الزامات پھر دہرائے۔ دونوں امیداروں نے انتخابی مہم کو ’مشکل‘ قرار دیا۔ جان مکین نے اوباما کے خلاف الزام لگایا کہ ان کے ایک ساتھی کانگریس مین نے ایک اشتہار میں انہیں ( سینیٹر جان مکین) اور ان کی نائب صدارت کے لیے ساتھی امیدوار گورنر سارہ پیلن کو ایک نسل پرست گروپ سے منسلک کیا ہے جس نے امریکہ کے جنوب میں نسلی امتیاز اور تشدد میں حصہ لیا تھا- سینیٹر باراک اوباما نے اشتہاری مہم چلانے والوں کی طرف سے جان مکین اور سارہ پیلن کی انتخابی مہم کو امریکہ میں سن انیس سو ساٹھ میں چلنے والی شہری حقوق تحریک کے مخالف قرار دینے کو نامناسب مانا- تاہم سینیٹر جان مکین نے سینیٹر اوباما پر مبینہ طور دہشتگرد خیالات کا پرچار کرنے والے ایک پروفیسر سے تعلقات سمیت کئي الزامات کو پھر دہرایا اور کہا یہ باراک اوباما کی انتخابی مہم واٹر گیٹ کے بعد امریکہ کی سب سے مہنگی ترین مہم ہے۔ سینیٹر جان مکین نے اعتراف کیا کہ ان کی مہم میں شامل کچھ لوگوں کا سینیٹر باراک اوباما کو ’دہشتگرد‘ قرار دینا نامناسب تھا اور انہوں نے ان کو روک دیا تھا۔ لیکن انہوں نے کہا کہ سنیٹر باراک اوباما نے اب تک ان کے خلاف ’گندی‘ مہم چلانے والوں کو نہیں روکا-
انہوں نے کہا کہ ان کے برعکس، باراک اوباما ایک بار بھی اپنی پارٹی کی قیادت کے خلاف نہیں کھڑ ے ہوئے۔ یاد رہے کہ جریدے ہفت روزہ ’نیویارکر‘ ایک بڑی اسٹوری شائع کرچکا ہے جس میں اس نے دعویٰ کیا ہے کہ بش انتظامیہ کی پالیسیوں پر اختلافات کی وجہ سے مبینہ طور پر صدر بش اور جان مکین کے درمیاں بول چال تک بند رہی تھی۔ ریپبلیکن پارٹی نے سینیٹر اوباما پر الزام لگایا کہ ان کا تارکین وطن اور دوسرے کئي مسائل پر کام کرنیوالی غیر سرکاری تنظیموں کے ایک اتحاد اوکران سے تعلق ہے جس نے مبینہ طور پر ووٹروں کے اندراج میں بڑے پیمانے پر دھاندلیاں کی ہیں۔ امریکی پبلک ریڈیو این پی آر نے کہا ہے کہ اوکران کے حوالے سے ریپبلیکن پارٹی کی طرف سے انتخابات ہارنے کی صورت میں دو ہزار کے انتخابات کی طرح دھاندلیوں کے الزامات لگائے جائيں گے، اور پھر امکان ہے کہ انتخابی نتائج کا قضیہ عدالتوں تک جائےگا۔ تاہم امریکی معیشت ، ہیلتھ کیئر، تعلیم ہاؤسنگ، فری ٹریڈ، کولمبیا میں مزدور تحریک کے حوالے سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں، تیل اور توانائي، ٹیکس جیسے موضوع مباحثے کا محور رہے۔ ایک موقعہ پر سینیٹر جان مکین نے امریکہ کے غیر ملکی تیل پر دارومدار کے حوالے سے وینزویلا اور مشرق وسطیٰ کے تیل کو ’خراب تیل‘ اور اس سے آئندہ سالوں میں بقول ان کے جان چھڑانے اور کینیڈا کے تیل کو ’اچھا تیل‘ کہا-
اوباما نے کہا ہے کہ ہیلتھ کيئر وہ مسئلہ ہے جہاں آکر ہر امریکی کا دل بار بار ٹوٹ جاتا ہے جبکہ جان مکین نے کہا کہ امریکہ میں چار کروڑ ستر لاکھ کے قریب لوگ ہیلتھ انشورنس سے محروم ہیں۔ جان مکین نے ٹیکس میں واپسی کے موقع پر ہر خاندان کو صحت کی انشورنس میں پانچ ہزار ڈالر کا وعدہ کیا جبکہ سینیٹر باراک اوباما نے وفاقی انشورنس کا وعدہ کیا جو بقول ان کے وہ اور سینیٹر جان مکین استعمال کرتے ہیں- امیدواروں کے درمیاں مباحثے کا مرکزی لیکن خاموش کردار ’جو‘ نامی ایک امریکی ووٹر اور چھوٹا بزنس مین تھا جس نے گزشتہ دنوں باراک اوباما سے ان کی چھوٹی بزنسوں اور محنت کش لوگوں کے لیے ٹیکس پالیسی پر سوال پوچھا تھا- دونوں امیدوار بار بار ’جو‘ سے مخاطب ہوتے رہے۔ لیکن چھوٹی سکرین پر چھوٹے پاکستان کہلانے والے بروکیلین کی کونی آئی لینڈ کے یا مقامی ریستوران میں ایک پاکستانی گروپ پاکستان یو ایس فریڈم فورم کی جانب سے پاکستانیوں اور مقامی شہری حقوق کے کچھ سرگرم امریکی کارکنوں کی بلائي گئي ایک غیر رسمی میٹنگ میں مباحثہ دیکھا گیا اور زیر بحث رہا۔ پاکستان یو ایس فریڈم فورم کے شاہد کامریڈ نے بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ ان سمیت وہاں موجود پاکستانیوں کو توقع تھی کہ امیگریشن اور گوانتانامو بے جیسے مسائل زیر بحث لائے جائيں گے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نےکہا کہ بہرحال امریکی تاریخ میں اقلیت سے تعلق رکھنے والے صدارتی امیدوار کا ابھرنا امریکہ میں اہم تبدیلی کا غماز ہے۔ | اسی بارے میں اوباما کی حامی 106 سالہ راہبہ13 October, 2008 | آس پاس پاکستان میں حملہ، احمقانہ بات: مکین08 October, 2008 | آس پاس اوبامہ: سارہ پیلن کا الزام مسترد06 October, 2008 | آس پاس صدارتی بحث میں کون جیتا؟27 September, 2008 | آس پاس امریکی انتخاب - نیو میکسیکو کا پلڑا بھاری19 September, 2008 | آس پاس بی بی سی کا انتخابی سفر15 September, 2008 | آس پاس اوباما مکین سے زیادہ پسندیدہ10 September, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||