بی بی سی کا انتخابی سفر | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے صدارتی انتخابات میں اب بمشکل چھ ہفتے باقی رہ گئے ہیں اور اگرچہ ہم اس انتخاب کا ہر پہلو، ہر نشیب و فراز، ماحول اور رنگ آپ تک پہنچاتے رہے ہیں، لیکن دس ستمبر سے بی بی سی نے اپنی ہی ایک الیکشن بس چلائی ہے جو آپکو امریکی ووٹروں کے زیادہ قریب لے جائے گی۔ لاس اینجیلس سے لانگ انگلینڈ تک، یعنی امریکہ کے ایک کونے سےدوسرے کونے تک، یہ سفر ایسا ہوگا جیسے ایک ساتھ کئی ملکوں کا سفر کررہے ہوں۔ اور بی بی سی کی یہ الیکشن بس اپنے اس طویل سفر میں آپکو امریکہ کے چھوٹے بڑے شہروں، دیہات، گرجہ گھروں اور سکول کالجوں میں لے جائے گی۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ یہاں صرف وقت ہی الگ نہیں۔ یہ ملک بٹا ہوا ہے لال یعنی ڈیموکریٹک اور نیلے یعنی ریپبلکن امریکہ میں، کالےاور گورے امریکہ میں، ’سٹریٹ‘ اور گ’گے‘ امریکہ میں، مذہبی اور ماڈرن امریکہ میں اور حال ہی میں کرائے گئے ایک سروے کے مطابق یہاں پچاسی فیصد لوگوں کا ماننا ہے کہ ملک غلط سمت میں جا رہا ہے۔ اور ہم ان سے معلوم کرنے کی کوشش کریں گے کہ صحیح سمت کیا ہے۔ کدھر جاتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں وہ اپنے ملک کو۔ اور اس کے لیے میں سوار ہو رہا ہوں اس بس پر اریزونا سے یعنی وہ ریاست جہاں سے جان مکین سینیٹ کے لیے منتخب ہوتے ہیں۔ اور ہماری بس گزرے گی میکسیکو کے سرحدی علاقوں سے، یعنی وہ علاقے جہاں سے ہزاروں لاکھوں لاطینی امریکی قانونی اور غیر قانونی طریقوں سے امریکہ میں داخل ہوتے ہیں امریکن ڈریم کی تلاش میں۔ میں جاؤں کا نیو میکسیکو اور ٹیکساس بھی۔ کوشش کروں گا یہ سمجھنے کی کہ کیوں اسقاط حمل ایک اہم الیکشن اشو ہے اور کیوں سیاست میں مذہب کی اتنی دخل اندازی ہے۔ اور جتنی دلچسپی دنیا لے رہی ہے امریکہ کے انتخابات میں کیا امریکیوں کی بھی باقی دنیا میں اتنی دلچسپی ہے۔ اور اس سفر میں میرے ساتھ ہوں گے بی بی سی کے مختلف چینلوں کے نامہ نگار۔ کوئی ایران سے تو کوئی ویتانام سے۔ کوئی ریڈیو سے، کوئی ٹی وی سے اور کوئی آن لائن سے۔ کوئی امریکہ کو انڈونیشیا پہنچا رہا ہوگا تو کوئی افریقہ۔ یعنی ایک بس میں پوری دنیا۔ ہے نہ انوکھی کوشش؟ | اسی بارے میں اوباما میرے صدارتی امیدوار ہیں: ہیلری27 August, 2008 | آس پاس اوباما امریکہ سے باہر اتنے مقبول کیوں؟27 August, 2008 | آس پاس صدارتی امیدوار، بیویاں اور تقاریر03 September, 2008 | آس پاس انکوائری: پیلن کے شوہر بیان دیں گے13 September, 2008 | آس پاس سارہ پیلن کا پہلا ٹی وی انٹرویو12 September, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||