سارہ پیلن کا پہلا ٹی وی انٹرویو | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ریپبلکن پارٹی کی امریکہ کی نائب صدر کی امیدوار سارہ پیلن نے امریکی ٹی وی پر اپنے پہلے انٹرویو میں اس تاثر کو رد کر دیا ہے کہ وہ زیادہ تجربہ کار نہیں ہیں۔ انہوں نے بار بار دہرایا کہ وہ نائب صدر کے عہدے کے لیے تیار ہیں۔ اے بی سی نیوز کو دیے گئے انٹرویو میں سارہ پیلن نے کہا کہ وہ جان مکین کی نائب بن کر امریکہ کی خدمت کے لیے تیار ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا امریکہ کو اس بات کا حق ہے کہ پاکستان کی اجازت کے بغیر پاکستان کی سرحد کے اندر حملہ کر دے تو ان کا کہنا تھا جو بھی اور کہیں بھی امریکہ کو اور اس کے اتحادیوں کو نقصان پہنچانے کے متعلق سوچتا ہے تو ’ہمیں حملہ کرنے میں ذرا بھی تعمل نہیں کرنا چاہیئے۔‘ خارجی معاملات کے متعلق ایک اور سوال میں 44 سالہ الاسکا کی گورنر نے کہا کہ وہ یوکرین اور جارجیا کی نیٹو میں شمولیت کی حمایت کرتی ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا جارجیا کی نیٹو میں شمولیت کی حمایت کا مطلب ہے کہ اگر روس جارجیا پر قبضہ کرتا ہے تو امریکہ کو اس کے ساتھ جنگ کرنا پڑے گی، تو سارہ پیلن نے کہا کہ یہ بھی ممکن ہے۔ ’یہ ممکن ہے۔ میرا مطلب ہے کہ معاہدہ یہ ہے کہ جب آپ نیٹو کے اتحادی ہیں اور کوئی دوسرا ملک حملہ کرتا ہے تو آپ کو مدد کے لیے پکارا جا سکتا ہے۔‘ تاہم انہوں نے کہا کہ امریکہ اور روس سرد جنگ دوبارہ شروع نہیں کر سکتے۔ سارہ پیلن دو سال سے بھی کم عرصے تک الاسکا کی گورنر رہی ہیں اور کئی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ ان کے پاس نائب صدر ہونے کے لیے جو تجربہ درکار ہے وہ نہیں ہے، خصوصاً خارجی پالیسی کے حوالے سے۔ |
اسی بارے میں جارج بش کے امیدوار جان مکین03 September, 2008 | آس پاس میکین: خاتون نائب صدر کا انتخاب 29 August, 2008 | آس پاس سارہ پیلن کا کنونشن سے خطاب04 September, 2008 | آس پاس اوباما امریکہ سے باہر اتنے مقبول کیوں؟27 August, 2008 | آس پاس ’صدر کے عہدے سے ایک دھڑکن دور‘03 September, 2008 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||