BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 10 September, 2008, 07:42 GMT 12:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اوباما مکین سے زیادہ پسندیدہ
 باراک اوباما اور جان مکین
باراک اوباما کو صداراتی امیدوار کی نامزدگی حاصل کرنے کی مہم کے دوران ذرائع ابلاغ کی طرف سے زبردست کوریج دی گئی
بی بی سی عالمی سروس کی جانب سے بائیس ممالک میں کیے گئے ایک عوامی جائزے کے مطابق لوگوں کی اکثریت ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار باراک اوباما کو امریکہ کا صدر دیکھنا چاہتی ہے ناکہ ان کے حریف جان مکین کو۔

بی بی سی عالمی سروس کی جانب سے بائیس ملکوں میں کیئے گئے اس جائزے میں بائیس ہزار پانچ سو افراد سے ان کی رائے حاصل کی گئی۔

جائزے میں باراک اوباما کو مکین کے مقابلے میں چارگنا زیادہ حمایت حاصل تھی۔

سروے آسٹریلیا، برازیل، کینیڈا، چین، مصر، فرانس، جرمنی، انڈیا، انڈونیشیا، اٹلی، کینیا، لبنان، میکسیکو، نائجیریا، پاناما، فلیپائن، پولینڈ، روس، سنگاپور، ترکی، متحدہ عرب امارات، اور برطانیہ میں کیا گیا تھا۔

بائیس میں سے سترہ ممالک میں عام تاثر یہ تھا کہ اوباما کی صدارات میں امریکہ کے پوری دنیا سے رشتے بہتر ہوں گے۔ جبکہ 19 ممالک میں لوگوں کی یہ رائے تھی کہ اگر مکین منتخب ہوتے ہیں تو تعلقات ایسے ہی رہیں گے جیسے صدر بش کے دور میں ہیں۔

یہ سروے ڈیموکریٹک اور رپبلکن پارٹی کی جانب سے نائب صدر کے لیے امیدواروں کے ناموں کے اعلان سے پہلے کیا گیا تھا۔

 جو ممالک اوباما کی صدارت میں امریکہ کے پوری دنیا سے بہتر تعلقات کے لیے پر امید ہیں ان میں نیٹو اتحاد کے ممالک جیسے کینیڈا (69 فیصد)، اٹلی (64 فیصد) ، فرانس (62فیصد) جرمنی (61 فیصد) ، برطانیہ (54 فیصد) آسٹریلیا (62 فیصد) ، کینیا (87 فیصد) اور نائجیریا (71فیصد) شامل ہیں۔

بی بی سی کے نامہ نگار جانتھن مارکس کا کہنا ہے کہ یہ جائزہ باراک اوباما کو ذرائع ابلاغ میں ملنے والی زبردست کوریج کا نتیجہ ہوسکتا ہے۔

باراک اوباما کی جان مکین پر کم سے کم سبقت نو فیصد جبکہ زیادہ سے زیادہ بیاسی فیصد رہی۔ بھارت میں باراک اوباما کی حمایت کرنے والے جان مکین کے حامیوں سے نو فیصد زیادہ تھے جبکہ کینیا میں یہ فرق بیاسی فیصد تھا۔

اوسطاً انچاس فیصد نے اوباما کے حق میں ووٹ دیا تو بارہ فیصد نے مکین کے حق میں جب کے تقریباً دس میں سے چار افراد نے اپنی رائے ہی ظاہر نہیں کی۔

تقریباً چھیالیس فیصد افراد کا یہ خیال تھا کہ اوباما کی صدارت میں امریکہ کے ديگر ممالک کے ساتھ رشتے بہتر ہوں گے جبکہ بائیس فیصد کا کہنا تھا کہ رشتے ایسے ہی رہیں گے جیسے اب ہیں۔ سات فیصد کا کہنا تھا رشتے مزید خراب ہوں گے۔

صرف بیس فیصد کا یہ کہنا تھا کہ اگر مکین صدر بنتے ہیں تو امریکہ کے دوسرے ممالک سے رشتے بہتر ہوں گے۔ یہ تاثرات صرف چین، انڈیا اور نائجیریا میں پائے گئے ہیں۔ جبکہ مصر، لبنان، روس اور سنگاپور میں لوگوں کا یہ کہنا تھا کہ اگر اوباما بھی صدر بنتے ہیں تو ان رشتوں میں کوئی بہتری نہیں آئے گی۔

جو ممالک اوباما کی صدارت میں امریکہ کے پوری دنیا سے بہتر تعلقات کے لیے پر امید ہیں ان میں نیٹو اتحاد کے ممالک جیسے کینیڈا (69 فیصد)، اٹلی (64 فیصد) ، فرانس (62فیصد) جرمنی (61 فیصد) ، برطانیہ (54 فیصد) آسٹریلیا (62 فیصد) ، کنیا (87 فیصد) اور نائجیریا (71فیصد) شامل ہیں۔

میکین اور اوبامااوبامہ پیچھے کیوں؟
جان میکین نے باراک اوباما پر سبقت پا لی
جوسیف بائڈینجوزف بائڈن
نائب صدر کے لیے باراک اوبامہ کا انتخاب
وہائٹ ہاؤس کے مکین
بیرونی دنیا کیوں اوباما کے ساتھ ہے؟
’خوف کی سیاست‘
اوبامہ اور ان کی اہلیہ کے کارٹون پر تنازعہ
براک اوبامااوباما کون ہیں؟
’پہلے ممکنہ ڈیموکریٹ سیاہ فام امیدوار‘
براک اوبامااوباما کی معذرت
خاتون صحافی کو ’سویٹی‘ کہنے ہر
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد