’صدر کے عہدے سے ایک دھڑکن دور‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے صدارتی انتخابات کی مہم پہلے ہی کسی’ رولر کوسٹر‘ سے کم نہیں تھی لیکن الاسکا کی گورنر سارہ پیلن کے میدان میں آنے سے صورتحال بر انگیختہ ہو گئی ہے۔ ریپبلکن پارٹی کے صدارتی امیدوار جان مکین نے چوالیس سالہ سارہ پیلن کو نائب صدر کے لیے اپنا امیدوار بنایا اور چند ہی گھنٹوں میں ان کی زندگی کے تمام راز منظر عام پر آنا شروع ہوگئے۔ جان مکین کی عمر بہتر برس ہے، ان کی صحت بہت اچھی نہیں اور اگر وہ منتخب ہوجاتے ہیں تو بقول مبصرین سارہ پیلن ’صدر کے عہدے اور امریکی مسلح افواج کے کمانڈر ان چیف کی ذمہ داریوں سے صرف ایک دھڑکن دور ہوں گی۔‘ یہی وجہ ہے کہ ان کی سیاسی اور ذاتی زندگی کی ہر پرت کو کریدا جارہا ہے۔ تو سارہ پیلن کے بارے میں اب ہمیں ایسا کیا معلوم ہے جو پہلے سیغہ راز میں تھا؟ وہ خود پانچ بچوں کی ماں ہیں، اور اب انکی سترہ سالہ غیرشادی شدہ بیٹی، جو ابھی سکول ہی میں ہے، ماں بننے والی ہے۔ سارح پیلن کو اختیارات کے بے جا استعمال کے معاملے میں ایک انکوائری کا سامنا ہے جس میں اپنے دفاع کے لیے انہوں نے ایک وکیل کی خدمات حاصل کی ہیں۔ کافی عرصہ پہلے ان کے شوہر ٹاڈ پیلن کو شراب کے نشے میں گاڑی چلاتے ہوئے گرفتار کیا گیا تھا۔ اور تازہ ترین یہ کہ رپبلکن پارٹی میں شمولیت سے قبل وہ الاسکا کی امریکہ سے علیحدگی کا مطالبہ کرنے والی ایک جماعت سے وابستہ تھیں۔
اس پس منظر میں اب یہ سوال اٹھایا جارہا ہے کہ کیا سارہ پیلن کو چننے سے قبل جان مکین کو ان باتوں کا علم تھا یا ان سے چوک ہوگئی؟ اگر سیاسی تجربہ دیکھا جائے تو سارہ پیلن دس ہزار سےکم آبادی والے ایک چھوٹے سے شہر کی مئیر تھیں اور اب دو سال سے الاسکا کی گورنر ہیں۔ ان کا نام بھی زیادہ تر لوگوں نے چار روز پہلے پہلی بار ہی سناہے۔ جان مکین نے انہیں بظاہر اس لیے اپنے ٹکٹ پر شامل کیا کہ ان خاتون ووٹروں کو اپنی طرف مائل کر سکیں جو ہلیری کلنٹن کے ڈیموکریٹک پارٹی کا امیدوار نہ بن پانے کی وجہ سے مایوس ہیں۔ لیکن ہلیری کلنٹن سیاسی منظر نامہ کے دوسرے سرے پر ہیں۔ مثال کے طور پر وہ اسقاط حمل کے سوال پر ’پرو چوائس‘ ہیں، ینعی ان کے خیال میں اسقاط کے بارے میں حتمی فیصلے کا اختیار عورت کے پاس ہونا چاہیے جبکہ سارہ پیلن مذہبی بنیاد پر اسقاط کے خلاف ہیں۔ اور بھی بہت سے نظریاتی اختلافات ہیں لیکن فی الحال بحث ان کی سیاسی وابستگیوں اور نظریات سے زیادہ ان کی ذاتی زندگی پر مرکوز ہے۔ ’کیا وہ نائب صدر کے عہدے کے فرائض کے ساتھ ساتھ اپنے پانچ بچوں کے تئیں اپنی ذمہ داریاں نبھا سکیں گی؟ کیا جان مکین کو پہلے سے یہ معلوم تھا کہ ان کی بیٹی ماں بننے والی ہے؟ امریکی ووٹروں پر اس خبرکا کیا اثر پڑے گا۔۔۔‘ ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار باراک اوباما نے واضح کیا ہے کہ امیدواروں کی ذاتی زندگیوں اور خاص طور پر ان کے بچوں کو انتخابی مہم میں نہیں گھسیٹا جانا چاہیے، اور شاید ایسا ہو بھی جائے، لیکن یہ بات طے ہے کہ چار نومبر کے انتخابات کے بعد جو خاتون صدر کے عہدے سے صرف ایک دھڑکن دور ہوسکتی ہے، اس نے جان مکین اور ریپبلکن پارٹی دونوں ہی کے دلوں کی دھڑکنیں تیز کر دی ہیں۔ |
اسی بارے میں میکین: خاتون نائب صدر کا انتخاب 29 August, 2008 | آس پاس سارہ پیلن کون ہیں؟30 August, 2008 | آس پاس اوباما امریکہ سے باہر اتنے مقبول کیوں؟27 August, 2008 | آس پاس ’اخلاقی حیثیت بحال کرواؤں گا‘29 August, 2008 | آس پاس باراک حسین اوبامہ کا نئے امریکہ کا خواب29 August, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||