سارہ پیلن کا کنونشن سے خطاب | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی نائب صدر کے لیے ریپبلکن پارٹی کی امیدوار سارہ پیلن جب پارٹی کنونشن سے خطاب کرنے کے لیے کھڑی ہوئیں تو ان کے سامنے دو چیلنج تھے: خود کو امریکی عوام سے متعارف کرانا اور اس تنقید کا جواب دینا کہ انہیں نائب صدر کے عہدے کے لیے نامزد کرکے جان مکین سے بڑی غلطی سرزد ہوئی ہے۔ اس مقصد میں وہ کس حد تک کامیاب رہیں فی الحال یہ کہنا قبل از وقت ہوگا لیکن ان کی حکمت عملی واضح تھی۔ انہوں نے ووٹروں کی توجہ تین جانب مبذول کرانے کی کوشش کی۔ پہلا یہ کہ وہ ایک عام سی امریکی خاتون ہیں، ان کا کنبہ کسی بھی دوسرے امریکی کنبےکی طرح ہے، وہ چھوٹے سے شہر میں پلی بڑھیں جہاں اپنے والدین سے انہیں وہ اقدار حاصل ہوئیں جو ایک اچھی عزت دار زندگی گزارنے کے لیے ضروری ہیں۔ انہوں نے خواتین ووٹروں اور دیہی علاقوں میں رہنے والے لوگوں کے دلوں کو چھونے اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ وہ ان ہی میں سے ایک ہیں۔
دوسرے حصے میں انہوں نے اس تنقید کا جواب دیا کہ نائب صدر کے عہدے کے لیے وہ مناسب امیدوار نہیں۔ الاسکا کے گورنر کی حیثیت سےانہوں نے اپنی کامیابیاں گنوائیں، اس بات پر زور دیا کہ وہ واشنگٹن کے ’اسٹیبلشمنٹ‘ کا حصہ نہیں اور یہ کہ وہ کسی لڑائی سے پیچھے نہیں ہٹتیں۔ اس کےعلاوہ انہوں نے ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار سینیٹر باراک اوبامہ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے ان کےتجربے کی کمی کو نمایاں کیا اور ان کی پالیسیوں کو امریکی قوم کے مفادات کے خلاف بتایا۔ کافی احتیاط کےساتھ ترتیب دی گئی تقریر میں انہوں نے جان مکین کی’قربانیوں‘ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ صرف وہ ہی ملک کی مسلح افواج کی کمان سنبھالنے کے اہل ہیں۔ اس تقریر کو مبصرین بہت اہم تصورکر رہے تھے کیونکہ سارہ پیلن کو یہ ثابت کرنا تھا کہ انتخابی مہم میں وہ جان مکین کےساتھ شانہ بہ شانہ چل سکتی ہیں۔ ان کی اہلیت کے بارے میں بہت سے سوال ابھی باقی ہیں لیکن اس بارے میں کوئی شبہہ نہیں کہ صدارتی انتخابات کا نتیجہ کچھ بھی نکلے، ریپبلکن پارٹی میں انہوں نے اپنا مقام محفوظ کر لیا ہے۔ |
اسی بارے میں میکین: خاتون نائب صدر کا انتخاب 29 August, 2008 | آس پاس سارہ پیلن کون ہیں؟30 August, 2008 | آس پاس اوباما امریکہ سے باہر اتنے مقبول کیوں؟27 August, 2008 | آس پاس ’اخلاقی حیثیت بحال کرواؤں گا‘29 August, 2008 | آس پاس باراک حسین اوبامہ کا نئے امریکہ کا خواب29 August, 2008 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||