BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Wednesday, 08 October, 2008, 06:03 GMT 11:03 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
پاکستان میں حملہ، احمقانہ بات: مکین
 باراک اوباما اور جان مکین
اوبامہ ایران کےساتھ مذاکرات کےحامی ہیں
جان مکین نے اپنے حریف صدارتی امیدوار اوبامہ کی طرف سے طالبان کے تعاقب میں پاکستان کے اندر حملے کرنے کی بات کو احمقانہ قرار دیا ہے۔

امریکی ریاست ٹینیسی میں ہونے والے دوسری صدارتی مباحثے میں انہوں نے سابق امریکی صدر روز ویلٹ کے ایک بیان کا حوالہ دیا اور کہا کہ کمانڈر اِن چیف کو دھیمی بات کرنی چاہیے لیکن ہاتھ میں ایک ڈنڈا رکھنا چاہیے۔

دوسری طرف ڈیموکریٹ صدارتی امیدوار باراک اوبامہ نے جان مکین کی طرف سے خارجہ امور پر کیے جانے والے دعوؤں کو چیلنج کیا اور کہا ’یہ تو وہ ہیں جو ایران پر بمباری کی بات کرتے ہیں اور شمالی کوریا کو صفحہِ ہستی سے مٹانے کی بات کرتے ہیں۔ ان سے دھیمے لہجے میں بات کرنے کی کیسے توقع کی جا سکتی ہے۔‘

اوبامہ کا جواب
 ’یہ تو وہ ہیں جو ایران پر بمباری کی بات کرتے ہیں اور شمالی کوریا کو صفحہِ ہستی سے مٹانے کی بات کرتے ہیں۔ ان سے دھیمے لہجے میں بات کرنے کی کیسے توقع کی جا سکتی ہے
اوبامہ نے کہا کہ ایران کے ساتھ اس کے جوہری پروگرام پر بات کرتے ہوئے امریکہ کبھی فوجی کارروائی کو خارج از امکان نہیں قرار دے گا، تاہم، انہوں نے کہا کہ امریکہ کو اقتصادی پابندیوں سمیت تمام امکانات پر غور کرنا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ کے لیے ضروری ہے وہ ایران سے براہ راست بات چیت کرے اور ’سخت پیغام‘ دے کہ اسے اپنا طریقۂ کار بدلنا ہوگا نہیں تو پھر اس کے نتائج بھگتنا پڑیں گے۔

اوبامہ نے کہا کہ کوئی بھی ملک مشکل اقتصادی صورتحال میں فوجی اثر و رسوخ قائم نہیں رکھ سکتا۔ انہوں نے کہ جارج بُش کی خارجہ پالیسی نے، جس کے جان مکین بھی حمایتی تھے، امریکہ کے لیے غیر ملکی تنازعات میں کردار ادا کرنا مشکل کر دیا ہے کیونکہ اس نے اپنے اتحادیوں کی حمایت کھو دی ہے۔

مباحثے کے دوران دونوں امیدواروں نے اقتصادی بحران کے حل کے لیے اپنی تجاویز بھی لوگوں کے سامنے رکھیں اور ان کا دفاع کیا۔

امریکہ میں انتخابات میں ایک مہینے سے کم وقت رہ گیا اور حالیہ جائزوں کے مطابق باراک اوبامہ کی برتری میں اضافہ ہو رہا ہے۔ گیلپ کے یومیہ جائزہ کے مطابق اوبامہ کی حمایت پچاس فیصد ہے جبکہ مکین کی بیالیس فیصد، جبکہ سی این این کے جائزے کے مطابق ترپن فیصد ووٹر اوبامہ کے حامی ہیں اور پینتالیس فیصد مکین کے۔

میکین اور اوبامااوبامہ پیچھے کیوں؟
جان میکین نے باراک اوباما پر سبقت پا لی
جوسیف بائڈینجوزف بائڈن
نائب صدر کے لیے باراک اوبامہ کا انتخاب
وہائٹ ہاؤس کے مکین
بیرونی دنیا کیوں اوباما کے ساتھ ہے؟
’خوف کی سیاست‘
اوبامہ اور ان کی اہلیہ کے کارٹون پر تنازعہ
براک اوبامااوباما کون ہیں؟
’پہلے ممکنہ ڈیموکریٹ سیاہ فام امیدوار‘
براک اوبامااوباما کی معذرت
خاتون صحافی کو ’سویٹی‘ کہنے ہر
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد