اوباما کی حامی 106 سالہ راہبہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اٹلی کے شہر روم کے ایک کانوینٹ میں رہنے والی راہبہ شاید امریکہ کے 2008 میں ہونے والے صدارتی انتخابات میں ووٹ ڈالنے والی سب سے عمر رسیدہ خاتون ہوں۔ ایک سو چھ سالہ سسٹر سسلیا گودے نے اپنا آخری ووٹ 1952 میں صدر آئسنہاور کے لیے ڈالا تھا۔ اس کے بعد انہوں نے کبھی ووٹ نہیں ڈالا۔ لیکن اب انہوں نے ووٹ کے لیے اپنے آپ کو رجسٹر کروایا ہے اور کہتی ہیں کہ وہ ڈیموکریٹ باراک اوباما کو ووٹ دیں گی۔ اگرچہ کانوں میں خرابی کی وجہ سے ان کو سسنے میں بہت دشواری ہوتی ہے لیکن وہ کانوینٹ کے اندر ٹی وی، اخبارات اور رسائل پڑھ کر اپنے آپ کو باہر کی دنیا سے باخبر رکھتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ ’مجھے سینیٹر اوباما سے امید نظر آتی ہے۔‘ ’میں ان سے کبھی نہیں ملی، لیکن وہ اچھی نجی زندگی والے ایک اچھے شخص نظر آتے ہیں۔ یہ اولین ترجیح ہے۔ اس کے بعد وہ یقیناً حکومت کر سکتے ہیں۔‘ ان سے جب پوچھا گیا کہ ان کی اوباما سے امریکہ کا صدر بننے کے بعد کیا توقعات ہوں گی، تو ان کا کہنا تھا: ’دنیا میں امن۔ میں عراق کی جنگ کے متعلق اتنی پریشان نہیں ہوتی۔ کیوں کہ میں اس کے متعلق کچھ نہیں کر سکتی۔ صرف خدا ہی جانتا ہے کہ وہ کیسے ختم ہو گی۔‘ چار نومبر کو انتخابات میں ووٹ ڈالنے کے باوجود سسٹر سسلیا امریکہ میں مستقل بسنا نہیں چاہتیں۔ ’میرے مستقبل کے متعلق کوئی منصوبے نہیں ہیں۔ میں امریکہ جانے کے لیے بہت بوڑھی ہو چکی ہوں۔ زندگی بہت بدل چکی ہے۔‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||