BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 19 September, 2008, 11:34 GMT 16:34 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکی انتخاب - نیو میکسیکو کا پلڑا بھاری

امریکی فوج نے مقامی میلے میں لوگوں کو راغب کرنے کی کوششیں کی

امریکی ریاست نیو میکسیکو کے شہر البیوکرکی میں ان دنوں ایک بڑا میلہ لگا ہوا ہے جہاں تماشے ہوتے ہیں، جانوروں کے کرتب دکھائے جاتے ہیں، کھانے پینے کے اسٹال لگے ہیں، گانا بجانا ہوتا ہے۔

لیکن جس دن میں وہاں پہنچا تو ایک آرمی ڈے تھا، میلے میں گھستے ہی میری نظر پڑی سفید کپڑوں میں ملبوس خواتین پر جن میں سے ایک، میری کولر، ایک اونچے سے اسٹیج سے اپنے بیٹے سمیت عراق اور افغانستان میں مارے گئے ان امریکی فوجیوں کے نام پڑھ رہیں تھیں جو اس علاقے سے تعلق رکھتے تھے۔

وہاں کئی ایسی مائیں تھیں جنہوں نے اپنے بیٹے کھودیے تھے، انہیں گولڈ اسٹار مام کہتے ہیں۔ کئی ایسی تھیں جن کے بیٹے یا تو عراق میں ہیں یا جانے والے ہیں۔

جس جنگ کو پورے امریکہ میں دو تہائی لوگ ایک غلط جنگ قرار دے رہے ہیں اس میں میری کولر کا اکیس سالہ بیٹا مارا گیا۔ کیا انہیں کبھی غصہ آتا ہے؟ وہ کہتی ہیں کہ ان کے بیٹے نے خود ہی فوج میں شامل ہونے کا فیصلہ کیا تھا، اس لیے وہ اس کے فیصلے کی عزت کرنا چاہتی ہیں۔

صدارتی انتخاب اور نیو میکسیکو
 جنگ کے میدان میں ہی نہیں، بلکہ انتخابی میدان میں ہی ریاست نیومیکسیکو اس بار بےحد اہم ہے اور اسے سووِنگ اسٹیٹ مانا جارہا ہے یعنی ایسی ریاست جو صدارتی انتخاب کا پلڑا بدل سکتا ہے۔ یہاں صدارت کے امیدوار جان میکین اور باراک اوبامہ رائے شماری کے جائزوں میں برابر ہیں۔
میری کولر کے ساتھ ہی موجود سینڈرا سپون نے بھی اپنا چھبیس سالہ بیٹا عراق میں کھودیا ہے۔ وہ بھی کسی اور پر انگلی نہیں اٹھانا چاہتی ہیں۔

جب تک یہ تقریب چلتی رہی، گانا بجانا بند تھا، لیکن اس کے بعد موج مستی شروع ہوگئی۔ مجھے لگا کہ شاید یہ اچھا طریقہ ہے کہ ملک کے فوجیوں کو عوام کے سامنے عزت دینے کا۔ لیکن ابھی بہت کچھ دیکھنا باقی تھا۔

جیسے ہی میں آگے بڑھا تو کھلونوں، کپڑوں، کھیل تماشوں، ٹاکو اور میکسیکن کھانے کے اسٹالوں کے سامنے امریکی فوج کی مختلف یونٹوں کے اسٹال لگے ہوئے تھے، یو ایس مرینز، یو ایس نیوی، نیشنل گارڈز، ایئر فورس، وغیرہ۔ ان اسٹالوں پر چابی کے رِنگ اور آرم بینڈ جیسی چیزیں مفت دیکر بچوں اور نوجوانوں کو متوجہ کرنے کی کوشش کی جارہی تھی۔

ایک اسٹال پر تو ہر طرح کے جان لیوا ہتھیار سجائے ہوئے تھے، راکٹ لانچر، گرینیڈ لانچر، طرح طرح کی بندوقیں اور چھوٹے چھوٹے بچے انہیں چھوکر دیکھ رہے تھے اور فوجی افسر انہیں بتا رہے تھے کہ کون ہتھیار کتنا مار سکتا ہے۔

نئے خون کو کم عمر میں فوجی کی جانب متوجہ کرنے کے لیے اس سے بہتر کیا طریقہ ہوسکتا تھا۔ لیکن گڈے گڈیوں، ہاتھی گھوڑوں، ہی مین، سپرمین کے درمیان ان ہتھیاروں کو دیکھ کر تھوڑی حیرانی ضرور ہوئی۔

شان لانگسٹیڈ اپنے سات سالہ بیٹے کے ساتھ کھڑی تھیں۔ میں نے پوچھا کہ کیا انہیں یہ صحیح لگتا ہے۔

امریکی فوج کی بچوں کو راغب کرنے کی ایک کوشش
ان کا کہنا تھا کہ یہ بہت اچھی بات ہے کہ ابھی سے بچے دل میں فوج کے لیے جذبہ پیدا ہو اور جہاں تک بندوق کی بات ہے تو اگر سمجھدار لوگ بندوقوں اور بموں کی ذمہ داری نہیں لیں گے تو یہ ہتھیار ان لوگوں کے ہاتھوں میں چلے جائیں گے جو ناسمجھ ہیں۔

وہاں موجود ایک لاطینی خاندان کی سوچ بھی کچھ ایسی ہی تھی۔ فوج اور عوام کے درمیان کوئی دوری دکھائی نہیں دے رہی تھی۔ کوئی بھی عراق جنگ کے خلاف بولنے والا یہاں نہیں تھا۔

نیومیکسیکو کئی معاملوں میں ایک مختلف ریاست ہے۔ لاطینی امریکیوں کو امریکہ سے کافی شکایتیں ہیں، گورے لوگوں کو لاطینی امریکیوں سے شکایتیں ہیں۔ یہاں کے اصل باشندے یعنی نیٹِو امریکن یہ کہتے ہیں کہ ان کا حق مارکر گورے لوگ آگے بڑھ رہے ہیں۔

ریولابادِن ویتنام جنگ کے ریٹائرڈ فوجی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس ملک میں کسی صدر نے یہاں کے سب سے پرانے باشندوں پر توجہ نہیں دی ہے۔

گورے لوگوں سے بات کریں تو ان میں سے زیادہ تر ریپلِکن پارٹی کے صدارتی امیدوار جان میکین پر اعتماد کر رہے ہیں، جبکہ لاطینی امریکی ڈیموکریٹِک پارٹی کے امیدوار باراک اوبامہ کی جانب راغب ہیں۔ لیکن وہ سبھی فوج سے جڑے ہوئے ہیں۔

نیومیکسیکو یونیورسٹی میں دس سال سے پڑھانے والی پروفیسر رینیٹا مجمدار کہتی ہیں کہ فوج سے لگاؤ کی وجہ یہ ہے کہ سرکار سے لاکھ شکایتوں کے باوجود امریکہ میں فوج ملازمت کی بڑی جگہ ہے۔

اور جنگ کے میدان میں ہی نہیں، بلکہ انتخابی میدان میں ہی ریاست نیومیکسیکو اس بار بےحد اہم ہے اور اسے سووِنگ اسٹیٹ مانا جارہا ہے یعنی ایسی ریاست جو صدارتی انتخاب کا پلڑا بدل سکتا ہے۔ یہاں صدارت کے امیدوار جان میکین اور باراک اوبامہ رائے شماری کے جائزوں میں برابر ہیں۔

اس ریاست میں سن دو ہزار چار کے انتخابات میں بےحد کم ووٹوں سے جارج بش نے اپنے مخالف امیدوار جان کیری کو ہرایا تھا۔ اور اس دفعہ بھی اس ریاست میں کوئی دعوے سے یہ کہنے کو تیار نہیں ہے کہ جیت کسی ہوگی، باراک اوبامہ یا جان میکین کی۔

بی بی سی بسسچ کا سامنا کرو
ایک چھوٹے سے شہر کا چھوٹا لیکن اہم پیغام
میکین اور اوبامااوبامہ پیچھے کیوں؟
جان میکین نے باراک اوباما پر سبقت پا لی
جوسیف بائڈینجوزف بائڈن
نائب صدر کے لیے باراک اوبامہ کا انتخاب
وہائٹ ہاؤس کے مکین
بیرونی دنیا کیوں اوباما کے ساتھ ہے؟
’خوف کی سیاست‘
اوبامہ اور ان کی اہلیہ کے کارٹون پر تنازعہ
براک اوبامااوباما کون ہیں؟
’پہلے ممکنہ ڈیموکریٹ سیاہ فام امیدوار‘
براک اوبامااوباما کی معذرت
خاتون صحافی کو ’سویٹی‘ کہنے ہر
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد