سچ کا سامنا کرو نہیں تو ۔۔۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
آگر آپ سے کوئی آپ کے شہر کا نام پوچھے اور آپ کہیں ۔۔۔کیونکہ ساس بھی کبھی بہو تھی، یا پھر۔۔۔ کون بنےگا کروڑپتی، تو وہ سمجھے گا کہ آپ یا مذاق کر رہے ہیں یا پھر کہیں کچھ گڑبڑ ہے۔ بی بی سی کی الیکشن بس سے ایریزونا سے گزرتے ہوئے ہم نیو مکسیکو پہنچے اور وہاں ایک چھوٹے سے شہر ميں ٹھہرے۔ شہر کا نام تھا ’ٹرتھ اینڈ کونسیکونسز‘ یعنی سچ کا سامنا کرو ورنہ تو اس کے نتائج جھیلو۔ شہر کا نام کسی کتاب کے کا نام زیادہ نظر آیا۔دراصل ہوا کچھ ایسا کہ سنہ 1950 کی دہائی میں ایک ریڈیو گیم شو کے میزبان نے کہا کہ اگر کوئی شہر ان کے گیم شو ’ٹرتھ اور کونسیکونسز‘ کے نام پر اپنے شہر کا نام رکھتا ہے تو وہ اسی شہر سے اپنا پروگرام نشر کریں گے۔ اپنے گرم پانی کے کنوؤں اور فواروں کے لیے مشہور اس شہر کا نام پہلے ’ہاٹ سپرنگ‘ تھا لیکن اس نے اپنا نام تبدیل کر لیا اور یہ شہر بن گیا ’ٹرتھ اور کوانسیکونسز‘۔ ریڈیو شو تھوڑے وقفے کے بعد ٹی وی شو بن گیا اور کافی مقبول ہوا۔ لیکن یہاں کے لوگوں کو اس نام سے پریشانیاں بھی اٹھانی پڑیں۔ شہر کے محکمہ سیاحت کی ڈائرکٹر زیانہ کیلی کے مطابق’ بہت لوگ تو نام سنتے ہی ہنسنا شروع کر دیتے ہیں۔‘ انہوں نے مزید کہا’ نیو مکسیکو کے باہر سے کوئی سیلس کمپنی جب فون کرتی ہے تو انہیں سمجھانا پڑتا ہے، انٹرنیٹ پر خریدو فروخت میں بھی دقتیں پیش آتی ہیں۔‘ کئی معنوں میں یہ شہر فنکاروں کا ہے لیکن نیو مکسیکو ریاست کی طرح یہ شہر بھی ڈیموکریٹس اور ریپبلیکنز کے درمیان منقسم ہے۔ میں نے جب یہاں کے باشندوں کو ایک بحث کے لیے جمع کیا تو عراق اور معیشت ہو یا پھر خارجہ پالسی ہو، تقسیم کی لکیر صاف صاف نظر آ رہی تھی۔ لیکن یہاں ڈیموکریٹس یعنی براک اوباما کے چاہنے والے زیادہ نظر آئے۔ جب صحت کے موضوع پر بات ہوئی تو ان میں سے ایک کا کہنا تھا ’اپنا خیال خود رکھو، حکومت سے امید رکھیں گے تو ملک سویت روس کی طرح ہو جائے گا۔‘ اس کا جواب آيا ’عراق پر اتنے روپے خرچ کیے جا سکتے ہیں لیکن ملک کے لوگوں کی صحت کے لیے نہیں کیے جا سکتے ‘
لیکن ان بڑے اور اہم معاملات سے زیادہ روز مرّہ کی پریشانیوں کے بارے میں یہ لکیر زیادہ صاف نظر آتی ہے۔ مارشل آرٹ تائی چي کی تربیت فراہم کرنے والی ایمی شیریو کا کہنا تھا ’امریکہ کے ان چھوٹے شہروں کی پریشانیوں کو مذہب اور چرچ نے نظرانداز کر کے رکھا ہے۔‘ وہ کہتی ہیں’یہاں کوئی فیملی پلاننگ کا کلینک نہیں ہے، شادی سے پہلے بہت لڑکیاں حاملہ ہو رہی ہیں، مذہب لوگوں کو لاعلمی کی طرف لے جا رہا ہے۔‘ وہيں جب میں نے شہر کے ایک چرچ کے پادری سے ملاقات کی تو ان کا کہنا تھا ’یہ مذہب ہی ہے جو خاندانوں کو باندھے ہوئے ہے۔‘ بلیکسٹون ہاٹ سپرنگ نامی ہوٹل کے مالک نے اپنے ہوٹل کے کمروں کا نام امریکہ کے ٹی وی سیرئلز کے نام پر، ٹوالائٹ زون، آئی لو لوسی، دا ولڈٹرنس جیسے نام دیے ہوئے ہیں۔ کہتے ہیں یہ شہر پورے امریکہ کا ایک چھوٹا سا چہرہ ہے۔ وہيں ڈجٹل آرٹ پر کام کرنے والے رؤے لور کا کہنا ہے کہ انہوں نے اس شہر کو اس لیے اپنا یا ہے کیونکہ یہ یاد دلاتا ہے کہ یا تو سچ کا سامنا کرو یا پھر اس کا نتیجہ جھیلنے کے لیے تیار رہو۔ در اصل ان دنوں امریکہ میں یہی بحث جاری ہے کہ تیل کی بڑھتی ہوئی قیمتیں ہوں یا پھر حصص بازار کا گرنا ہو اور یا بینکوں کا خود کو دیوالیہ قراردینے کا اعلان کرنا ہو اور یا دنیا کو موسم میں تبدیلی کا خطرہ ہو ۔۔۔کہيں نہ کہیں امریکہ نے سچ کو نظر انداز کیا ہے جس کا نتیجہ آج بھگتنا پڑ رہا ہے۔ جان میکن او ربراک اوباما دونوں ہی ان دنوں تبدیلی کے پیغام پر زور دے رہے ہیں۔ جیت چاہے جس کی بھی لیکن دیکھنے والی بات یہ ہوگی کہ اس شہر کے چھوٹے سے لیکن اہم پیغام کو جیتنے والا شخص گلے لگاتا ہے یا نہیں؟ |
اسی بارے میں نائب صدر: بائڈن اوبامہ کا انتخاب23 August, 2008 | آس پاس اوبامہ اور بائڈن کی مشترکہ ریلی24 August, 2008 | آس پاس اوباما کی نامزدگی: کنوینشن کا آغاز26 August, 2008 | آس پاس اوباما صدارت کے لیے تیار ہیں: کلنٹن27 August, 2008 | آس پاس اوباما میرے صدارتی امیدوار ہیں: ہیلری27 August, 2008 | آس پاس اوباما میرے صدارتی امیدوار ہیں: ہیلری27 August, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||