BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 17 October, 2008, 12:10 GMT 17:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مکین کے حامی پاکستانی ڈھونڈنے سے نہیں

باراک اوباما اور جان مکین
دونوں نے ایک دوسرے پر منفی پروپیگنڈے کا الزام لگایا
نیویارک ایک قسم کا ’منی پاکستان‘ تو ہے ہی لیکن اس پاکستان میں وہ پاکستانی جو امریکہ میں ووٹر بھی ہو واقعی بھوسے میں سوئی ڈھونڈھنے کے مترادف ہے۔

’پاکستانی تو ہوں لیکن ووٹر نہیں۔۔۔نہیں میں یہاں رہتا نہیں امریکہ گھومنے آیا ہوں۔۔۔ میرا نام شکیل لاری ایڈووکیٹ ہے۔ میں آپ کو بتائوں کہ باراک اوباما کو مسلمان کہہ کر ان کی کردار کشی کی جا رہی ہے اور اپنی شناخت چھپانے کیلیے وہ پاکستان پر حملے والے بیانات دینے پر مجبور ہیں-‘

مجھے شکیل لاری صاحب نے بتایا:’وہ پاکستان آئے اور اپنے دوستوں کیساتھ حیدرآباد سندھ میں رہے تھے۔‘

’اوباما میرے بیٹے کامران کو شکاگو یونیوسرٹی میں آئینی قانون پڑھاتے تھے‘
مجھے مشہور ٹیکنوکریٹ علی نواز میمن نے بتایا۔

میں نے کئي شعبوں سے تعلق رکھنے والے پاکستانیوں سے بات کی: بزنس مین، ڈاکٹر، ماہر تعلیم، مزدوری پیشہ، ورلڈ بنک کے سابق سینئر عہدیدار، سیاستدان، شہری حقوق کے کارکن، انجینئرز، لکھاری اور دانشور، مرد اور خواتین۔

لیکن مجھے ابھی ریپبلکن پارٹی کا حامی یا ووٹر پاکستانی نہیں ملا۔

مجھے شاعر اور دانشور نون میم دانش نے بتایا کہ بش یا ربپلیکن پارٹی کا پاکستانی حامی ملنا مشکل ہی ہے۔

میں نے کوشش تو کی لیکن ناکام رہا۔ جن پاکستانیوں سے میری بات چیت ہوئي انکی آرا:

محمد آصف، نیویارک، بزنس مین
’دونوں کے پاس کچھ نہیں سوائےمعاشی بحران پر بولنے کے۔ ذاتی طور پر میں سمجھتا ہوں اوباما بہتر شخص ہے۔ پاکستان کے بارے میں بیانات کی انکے ترجان تردید کر چکے ہیں- لیکن بش تو پاکستان میں پہلے ہی وہ حملے کر رہے ہیں۔‘

اوباما کی دادی جو کینیا میں رہتی ہیں۔

علی نواز میمن، واشنگٹن ڈی سی
فنانشل ایڈوائزر، ڈیموکریٹک پارٹی کے کارکن
اوباما کا آنا امریکہ کے تاریخ کا ایک اہم واقعہ ہے۔اگر اوباما جیت کر آتا ہے تو اسکا مطلب ہوا کہ امریکی عوام تبدیلی چاہتے ہیں- اور اسی تبدیلی کیلیے ہم کام کرر ہے ہیں۔

ایک مسلمان، پاکستانی اور امریکی کمیونٹی کے فرد کی حیثیت سے اوباما کے پاکستان سے متعلق بیانات ہمیں خوش نہیں کرتے۔ لیکن میرے خیال میں اوباما کا رویہ پاکستان کیطرف زیادہ مثبت ہوگا-

اشرف میاں، نیویارک مصنف
اوبامہ تبدیلی کی بات کر رہے ہیں۔ اوباما کے آنے سے امریکہ کو عالمی سطح پر فائدہ ہوگا۔ اگرچہ میں خود ذاتی طور پر گرین پارٹی کا حامی ہوں لیکن انکو (گرین پارٹی) انتخابات میں ووٹ دینے سے ووٹ ضائع ہی ہوگا۔

اصغر علی، نیو جرسی، جیل سیکورٹی گارڈ
جب میں پاکستان سے اپنی فیملی کے ساتھ انیس سو نناوے میں آیا تو یہاں نیو جرسی میں پاکستانی کمیونٹی کے لوگ تھے جو کہتے تھے بش کو ووٹ دینا چاہیے۔ ویسے بھی محنت کش کنبوں اور متوسط طبقے کیلیے ڈیموکیرٹس اور اوباما ہی بہتر ہیں۔

ڈاکٹر شہلا نقوی، فزیشن نیویارک
ہمارے گھر میں ہم تین رجسٹرڈ ڈیموکریٹ ووٹر ہیں۔ اوباما پڑھے لکھے ہیں، عقل کی باتیں کرتے ہیں۔ اوباما کی ان لوگوں کے ساتھ ہمدردی ہے جنکی اس ملک (امریکہ ) میں کوئي بھی نہیں سنتا۔
ہم نے کبھی جنگ عراق کی حمایت نہیں کی اگرچہ میں بھی صدام حسین کیخلاف تھی۔ ہم تو ہمیشہ پاکستان کی خیر مناتے رہتے ہیں۔ لیکن پاکستان کو اسامہ بن لادن جیسے لوگوں کو پناہ نہیں دینی چاہیے۔

تینوں مباحثوں میں اوباما کا پلڑا بھاری رہا

مجید گبول، نیویارک
امریکی شہری ہوں لیکن ووٹ رجسٹرڈ نہیں ہے۔ سنا ہے پولنگ سٹیشن پر جاکر اسی دن ووٹ رجسٹر ہوجاتا ہے۔ اس دفعہ الیکشن میں جھکائو اوباما کیطرف ہے۔ ریبپلکن نے گزستہ آٹھ سالوں میں بیروزگاری اور مہنگائی دی ہے جبکہ ڈیموکریٹس عام لوگوں کے معاشی مسائل حل کرنے کا وعدہ کر رہے ہیں۔

احسان اللہ خان بوبی، نیویارک
سرگرم کارکن شہری حقوق
کمتر برائي کی بنیاد پر اگر مجھے جان مکین اور اوباما کے درمیاں انتخاب کرنا پڑ جائے تو میں اوباما کو ہی چنوں گا کیونکہ وہ اقلیت کا آدمی ہے۔ اور وہ جنگي مجرم نہیں۔

ڈکٹر صفدر سرکی، کیلیفورنیا
سندھی قوم پرست
ہمیں امید ہے کہ اوباما جیت جائےگا۔ گزشتہ آٹھ برسوں سے نافذ بش پالسیوں کی ناکامی نظر آرہی ہے۔ کلنٹن دور کی خوشحالی واپس آنے کو ہے۔ اوباما کہہ رہے ہیں کہ وہ اقدار بحال ہونی چاہیے جنکی بنیاد امریکی آئین کے اسلاف نے رکھی تھی یعنی شہری آزادیاں اور انسانی حققوق کا تحفظ۔

افتی نسیم، شکاگو
شاعر اور ایکٹوسٹ
ہم نےسینیٹر باراک اوباما کے پاکستان سے متعلق بیانات کیخلاف انہیں کے شہر شکاگو میں احتجاجی ریلیاں منظم کی ہیں۔ پاکستان اس قت قربانی کا بکرا بنا ہوا ہے۔امریکہ دوستوں کو اسطرح گولیاں مار رہا ہے کہ دشمنوں کو بھی نہیں ماری جاتیں۔میں اول و آخر ایک ڈیموکیرٹ ہوں لیکن شخصیات پر نہیں پالیسوں پر جائونگا۔

بل اور ہلیری کلنٹن بھی اوبامہ کی حمایت میں نکلے ہیں

نون میم دانش،نیویارک
شاعر و دانشور
اب امریکہ کی نمائندگی ایک سیاہ فام شخص کرے گا۔ یہ بڑی علامتی بات ہے۔امریکہ نہایت ہی قدامت پسند سوسائٹی ہے جہاں اوباما جیسے اصلاح پسند بمشکل ہضم ہوتے ہیں۔

شمشاد ناصر، لاس اینجیلس
امام، جماعت احمدیہ
ایک امریکی شہری کی حیثیت سے کہہ رہا ہوں کہ ذاتی طور میں سینیٹر اوباما کو ملک کے بہترمفاد میں سمجھتا ہوں۔

شمس الزمان، نیویارک
میں انیس سال سے امریکی شہری ہوں اور ذاتی طور پرسمجھتا ہوں کہ ملک کیلیے اوباما کی پالسیاں بہتر ہیں۔ ڈیموکریٹس جنگ باز نہیں۔ اوباما سے مکالمہ کیا جاسکتا ہے-

خالدہ ظہور، نیویارک
لکھاری
بہتر امیدوار تو اوباما ہی لگتے ہیں اور چانسز بھی انہیں کے ہیں۔ لیکن دیکھا نہیں آپ نے کہ کس طرح گزشتہ مباحثے میں دونوں صدارتی امیدوار (اوباما اور مکین) اسرائيل کے نام پر واری واری جا رہے تھے-

اسی بارے میں
صدارتی بحث میں کون جیتا؟
27 September, 2008 | آس پاس
بی بی سی کا انتخابی سفر
15 September, 2008 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد