ڈکٹیٹر کی حمایت نہیں کرنا:اوبامہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدارت کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار سینیٹر باراک اوبامہ نے کہا ہے کہ امریکہ کو پاکستان کے بارے میں اپنی پالیسی بدلنا ہوگی۔ان کا کہنا تھا کہ صدر بش کی طرف سے ڈکٹیٹرشپ کی حمایت سے کچھ بھی حاصل نہیں ہوا ہے- انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان میں جمہوری حکومت کو مستحکم بنانے کی ضرورت ہے۔ تاہم انہوں نے کہا کہ اگر انہیں یہ معلوم ہو کہ اسامہ بن لادن پاکستان میں ہیں تو پھر اسے ہلاک کرنے کےلیے وہ پاکستان میں ضرور کارروائي کریں گے- ریپبلیکن پارٹی کے صدارتی امیدوار سینٹیر جان مکین نے کہا کہ وہ سینیٹر باراک اوبامہ کے برعکس اسامہ بن لادن کو گرفتار کرنے کےلیے پاکستانی حکومت اور عوام کا تعاون چاہیں گے۔ امریکی صدارتی امیدوار انتخابات سے صرف ستائیس روز قبل منگل کی شب ہونے والے مباحثے میں ووٹروں کے سوالوں کے جواب دے رہے تھے- صدارتی امیدواروں کے دوسرے مباحثے میں ملک میں آنےوالے اقتصادی بحران، ٹیکسوں، ہیلتھ انشورنس، گھروں کی بڑھتی ہوئی قیمتیں، اور سوشل سکیورٹی سمیت معاشی مسائل ووٹروں کے سوالوں کے محور رہے۔ خارجہ پالیسی اور قومی سلامتی مسائل کے متعلق سوالات میں پاکستان، افغانستان اور ایران کے موضوعات نمایاں رہے۔ دونوں صدارتی امیدواروں سے خارجہ پالیسی کے میدان میں ان کی ایک ووٹر ٹمی ہاک کا سوال تھا ’ کیا ہمیں پاکستان کی خود مختاری کا اس وقت بھی احترام کرنا چاہیے جب القاعدہ کے دہشتگرد اس کی حدود میں ہو؟ کیا ہمیں سرحد تک ان کا تعاقب نہیں کرنا چاہیے یا پھر ہمیں پاکستان میں بھی اس طرح پالیسی اپنانی جیسی ہم نے ویتنام جنگ کے دوران کمبوڈیا میں اپنے دشمنوں سے کیا تھا؟‘ ڈیموکریٹک پارٹی کےصدارتی امیدوار سینیٹر باراک اوبامہ نے سوال کو عمدہ قرار دیتے ہوئے کہا ’ پاکستان میں ہمارے ساتھ بہت ہی مشکل صورتحال ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ یہ ہوا کہ ہم نے اپنی تمام حکمت عملی اور وسائل عراق میں لگائے اور اسامہ بن لادن کو اس بیچ میں پاکستان میں صوبہ سرحد کے پہاڑی علاقوں میں فرار ہوجانے کا موقعہ مل گیا۔ اب وہ ہمارے فوجیوں پر حملے کر رہے ہیں اور افغانستان کی صورتحال سنہ دو ہزار ایک سے بھی کافی درجہ خراب ہو چکی ہے اور یہی دہسشتگردی کا مرکزی علاقہ ہے جہاں وہ اب بھی امریکیوں کو قتل کرنے کے منصوبہ بنا رہے ہیں -‘ سینیٹر اوبامہ نے امریکی وزیر دفاع کی بات کا حوالہ دیتے ہوئےکہا کہ دہشتگردی کےخلاف جنگ افغانستان سےشروع ہوئی تھی اور افغانستان میں ہی ختم ہوگی- اوبامہ نے کہا ’دہشتگردی کےخلاف جنگ کا مرکز افغانستان ہے اس لیے افغانستان کی حکومت پر وہاں (افغانستان) کی صورتحال میں بہتری لانے کےلیے دباؤ بڑھانا چاہیے- عراق میں جنگ ختم کر کے امریکی فوجیوں کی تعداد بڑھا کر افغانستان میں متعین کرنی چاہیے- افغانستان میں منشیات کی سمگلنگ روکنی چاہیے جس سے آنیوالی رقم دہشتگردی پر خرچ ہورہی ہے- ‘ انہوں نے کہا کہ امریکہ کو پاکستان پر اپنی پالیسیوں میں تبدیلی کی ضرورت ہے- انہوں نے جنرل مشرف کا نام لیے بغیر کہا ہم ماضی کی طرح ڈکٹیٹر کی حمایت نہیں کرسکتے- ’ ہم نے دہشتگردی کےخلاف جنگ کے نام پر اسے اربوں ڈالر دیئے اور اس نےطالبان اورعسکریت پسندوں سے امن معاہدے کیے-‘ انہوں نے کہا ’ہمیں پاکستان میں جمہوریت کو مضبوط بنانا چاہیے اور فوجی امداد کے بجائےغیر فوجی امداد میں توسیع کرنی چاہیے تاکہ پاکستان ہمارے ساتھ کام کرنے کےلیے مزید مستحکم ہو سکے-‘
ان کا کہنا تھا کہ اگر ہماری معلومات یا نظر میں اسامہ بن لادن آتا ہے اور پاکستان کی حکومت ان کے خلاف کارروائی کرنے کے قابل نہیں یا اس کا ارادہ نہیں رکھتی تو ہم خود کارروائی کریں گے- اسامہ بن لادن کو ہلاک کریں گے اور القاعدہ کو کچل کر رکھ دیں گے اور ہماری قومی سلامتی کی یہی سب سے بڑی ترجیح ہے-‘ جان مکین نے اپنے حریف صدارتی امیدوار اوبامہ کی طرف سے طالبان کے تعاقب میں پاکستان کے اندر حملے کرنے کی بات کو احمقانہ قرار دیا ہے۔جان مکین نے کہا کہ ایک ایسے ملک میں جہاں سے آپ کو کسی اور ملک کےخلاف حمایت کی ضرورت ہو تو اس ملک کی حکومت سے تعاون درکار ہوتا ہے نہ کہ عوامی رائے عامہ اپنے خلاف کر دینا- انہوں نے اعتراف کیا کہ افغانستان میں ’افغان حریت پسندوں‘ کی طرف سے سابقہ سوویت یونین کی شکست کے بعد امریکہ کو علاقے سے ہاتھ صاف کرکے واپس آجانا غلطی تھی جس سے طالبان واپس آ گئے- دونوں امیدوار ایک سوال کے جواب میں اس پر متفق دیکھے گئے کہ اسرائیل پر ایرانی حملے کی صورت میں امریکہ کو اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے فیصلے کا انتظار کرنا ہوگا- البتہ باراک اوبامہ نےایران اور شمالی کوریا سے بات چیت کا دروازہ کھلا رکھنے پر زور دیا جبکہ سینیٹر جان مکین نے کہا کہ ہم اب ایک نئی ’ہولو کسٹ‘ نہیں دیکھنا چاہتے- امریکی صدارتی امیدواروں کے درمیاں آخری اور تیسرا مباحثہ پندرہ اکتوبر کو نیویارک میں ہوگا- |
اسی بارے میں پاکستان میں حملہ، احمقانہ بات: مکین08 October, 2008 | آس پاس ’پاکستان اور ایران انتہائی خطرہ‘03 October, 2008 | آس پاس امریکی معیشت خطرے میں ہے:بش25 September, 2008 | آس پاس امریکی انتخاب - نیو میکسیکو کا پلڑا بھاری19 September, 2008 | آس پاس تبدیلی کا دور آنے کو ہے: جان مکین05 September, 2008 | آس پاس اوبامہ اور بائڈن کی مشترکہ ریلی24 August, 2008 | آس پاس نائب صدر: بائڈن اوبامہ کا انتخاب23 August, 2008 | آس پاس کرسچین ووٹوں کے لیے کوشش17 August, 2008 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||