BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 05 September, 2008, 03:08 GMT 08:08 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تبدیلی کا دور آنے کو ہے: جان مکین
انتخابی مہم میں اب حملوں کا سلسلہ تیز ہو جائے گا۔
امریکہ کے صدارتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کے امیدوار جان مکین نے جمعرات کو اپنے پارٹی کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ’تبدیلی کا دور‘
آنے کو ہے اور یہ کہ ملک کو دوبارہ ترقی اور امن کے راستے پر لانے کے لیے جس کسی کی بھی مدد کی ضرورت ہوگی وہ اس سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

مسٹر مکین نے اپنی تقریر میں ڈیموکریٹک پارٹی کے اس نعرے کا جواب دیا کہ وہ صدر جارج بش کی ہی پالیسیوں کو جاری رکھیں گے اور یہ کہ ان کے اقتدار کے چار سال صدر بش کے دور اقتدار کا تسلسل ہوں گے۔

لیکن مسٹر مکین نے کہا کہ پارٹی کی تنگ بنیادوں سے ہٹ کر کام کریں گے کیونکہ پارٹیوں کے درمیان مسلسل حپقلش مسائل کو حل کرنے کی راہ میں حائل ہوتی ہے۔

’میں واشنگٹن میں ان لوگوں کو ابھی سے متنبہ کرنا چاہتا ہوں جو خرچ کرنے میں تو آگے ہیں لیکن کام کرنے میں نہیں، جو ملک کے مفاد سے پہلے اپنا مفاد دیکھتے ہیں، کہ تبدیلی آنے والی ہے۔‘

’میں نے بہت متعدد مرتبہ مسائل کا حل تلاش کرنے کے لیے دونوں جماعتوں کے ارکان کے ساتھ ملکر کام کیا ہے اور صدر کی حیثیت سے بھی میں اسی طرح کام کروں گا۔‘

انہوں نے کہا کہ میرے پاس دکھانے کے لیے (اس جدو جہد) کا ریکارڈ موجود ہے لیکن سینیٹر اوبامہ کے پاس دکھانے کے لیے کچھ نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکہ بین الاقوامی لاقانونیت اور جارحیت کو نظرانداز نہیں کرسکتا اور یہ کہ ایران دہشت گردی کو فروغ دینے والے ممالک میں سر فہرست ہے۔

مسٹر مکین نے ویتنام کی جنگ میں حصہ لیا تھا اور چھ سال جنگی قیدی کے طور پر گزارے، جس کا انہوں نے اپنی تقریر میں کئی بار ذکر کیا۔

اپنی حکومت کی پالیسیوں کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے ٹیکس کم کرنے، حکومتی اخراجات گھٹانے اور تیل کی پیداوار بڑھانے کا وعدہ کیا۔

عراق کی جنگ کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ بہت پہلے سے عراق میں فوجی کی تعداد بڑھانے کی وکالت کر رہے تھے جس کے مثبت نتائج اب سامنے آرہے ہیں۔

پارٹی کنونشن سے بدھ کو خطاب کرتے ہوئے نائب صدر کے عہدے کی امیدوار سارہ پیلن نے بھی مسٹر اوبامہ کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ وہ تبدیلی کی بات تو کرتے ہیں لیکن انہوں نے کوئی ٹھوس کام نہیں کیا ہے۔

اسی بارے میں
سارہ پیلن کون ہیں؟
30 August, 2008 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد