BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 16 October, 2008, 14:38 GMT 19:38 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
مکین کے لیے راستہ تنگ ہو رہا ہے

حالیہ جائزوں کے مطابق باراک اوباما آگے چل رہے ہیں۔

رائے عامہ کے ایک جائزے سے ظاہر ہوتا ہے کہ امریکہ کے صدارتی انتخاب میں ریپبلکن پارٹی کے امیدوار جان مکین عوامی ووٹوں میں اپنے حریف باراک اوباما سے بدستور پیچھے ہیں۔

سن دو ہزار میں ہونے والے الیکشن کے دوران دنیا بھر پہ امریکی انتخابات کی یہ انوکھی ادا واضح ہوگئی تھی کہ عوامی ووٹوں میں پیچھے رہ جانے والا امیدوار بھی انتخابی کالج یعنی ریاستی انتخاب کنندگان کے ذریعے برتری حاصل کر کے صدر کے عہدے پر متمکن ہو سکتا ہے۔

جارج بش عوامی ووٹوں میں اپنے مدِ مقابل ایل گور سے نصف فیصد پیچھے تھے لیکن ریاستی نمائندوں پر مشتمل انتخابی کالج کے زور پر انہوں نے وہ الیکشن جیت لیا تھا۔

کسی بھی ریاست کے سینیٹر اور ضلعی نمائندے مِل کر انتخابی کالج کی تشکیل کرتے ہیں۔ ہر ریاست میں سینیٹرز تو صرف دو ہی ہوتے ہیں لیکن ضلعی نمائندوں کی تعداد ریاست کی آبادی پر منحصر ہوتی ہے۔ چنانچہ جس ریاست کی آبادی زیادہ ہوگی اسکا انتخابی کالج بھی بڑا ہوگا یعنی زیادہ ووٹوں پر مشتمل ہوگا۔ امریکہ بھر میں اسطرح کے ریاستی انتخابی ووٹوں کی کُل تعداد 538 بنتی ہے اور صدارتی امیدوار کو کامیابی کےلئے 270 انتخابی ووٹوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

نائب صدر کے لیے سارا پیلن کا انتخاب الٹا ثابت ہوسکتا ہے

سن 2004 میں بھی جارج بش نے عوامی ووٹوں میں تو بہت معمولی سی برتری حاصل کی تھی لیکن ریاستی انتخاب کنندگان کے 538 ووٹوں میں سے انھوں نے 286 ووٹ حاصل کر لئے تھے جبکہ ان کے مدِ مقابل جان کیری کو صرف 251 انتخابی ووٹ ملے تھے۔

اس مرتبہ بھی مقابلہ کانٹے کا ہے اور جان مکین کو جیتنے کےلئے اُن تمام ریاستوں کی مدد تو درکار ہے ہی جنھوں نے 2004 میں جارج بش کو ووٹ دیئے تھے، لیکن ساتھ ہی اگر وہ جان کیری کی حامی ریاستوں میں سے بھی ایک آدھ کو توڑ لیں تو ان کی فتح یقینی بن سکتی ہے۔

تاہم ریاستوں میں اس مرتبہ صورتِ حال تھوڑی سی مختلف ہے، مثلاً 2004 میں ریاست آیووا میں صدر بش کو کامیابی حاصل ہوئی تھی لیکن اس مرتبہ یہ ریاست واضح طور پر باراک اوباما کے پلڑے میں جاتی ہوئی دکھائی دیتی ہے۔

اسی طرح پچھلی بار اوہائیو اور فلوریڈا میں بھی صدر بُش کو شدید مقابلے کا سامنا تھا اور مبصرین یہ دیکھنے کےلئے بے چین ہیں کہ موجودہ ریپبلکن امیدوار جان مکین بھی اتنےسخت مقابلے کی تاب لا سکیں گے یا نہیں کیونکہ ان دو ریاستوں میں کامیابی حاصل کئے بغیر جان مک کین کی فتح ایک خواب ہی رہے گی۔

موجودہ مالی بحران شروع ہونے سے پہلے اِن دونوں ریاستوں میں جان مکین کی برتری واضح تھی لیکن کچھ تازہ ترین جائزوں میں باراک اوباما آگے دکھائی دیتے ہیں۔

ریاست اوہائیو ایک طرح سے چھوٹا سا امریکہ ہے اور اس کی آبادی میں ہر مکتبِ فکر اور سماجی طبقے کی نمائندگی موجود ہے چنانچہ اس ریاست کے انتخابی فیصلے مُلک کے عمومی رجحان کی غمازی کرتے ہیں جبکہ فلوریڈا کی حیثیت خاصی منفرد ہے۔

یہاں سیاہ فام اور ہسپانوی نژاد آبادی کا تناسب بہت زیادہ ہے اور سال بھر چمکتے رہنے والے سورج سے استفادہ کرنے کےلئے امریکہ بھر سے ریٹائر شدہ متمول افراد کی ایک بڑی تعداد ہر برس یہاں منتقل ہوجاتی ہے۔

جان مکین کے ساتھ نائب صدارت کی امیدوار سارہ پیلن نے عوام کے دِل موہ لینے کےلئے حالیہ دنوں میں جو انتخابی حربے اپنائے ہیں وہ شمالی شہروں سے آکر فلوریڈا میں آباد ہونے والے ووٹروں میں بیزاری کی لہر دوڑا سکتے ہیں اور یوں اس ریاست میں جان مکین کی کامیابی مشکوک ہوسکتی ہے۔ تاہم اوہائیو اور فلوریڈا میں اگر وہ کامیاب بھی ہوجائیں تو جنوب کی دو اور ریاستیں ان کےلئے مسئلہ پیدا کرسکتی ہیں، یعنی ورجینیا اور نارتھ کیرولائنا۔

اُدھر مغرب میں بھی ریپبلکن پارٹی کے لئے حالات بہت سازگار نہیں ہیں۔ کولو راڈو اور نیو میکسیکو کی ریاستوں میں گذشتہ بار صدر بش کو بہت معمولی اکثریت حاصل ہوئی تھی اور اس بار بھی مقابلہ برابر کا چل رہا ہے بلکہ اب تک کے جائزوں میں باراک اوباما کی پوزیشن اِن ریاستوں میں قدرے بہتر دکھائی دیتی ہے کیونکہ یہاں کی ہسپانوی نژاد آبادی ایک فیصلہ کُن قوت کی حیثیت رکھتی ہے۔

سب سے زیادہ دلچسپ مقابلہ ریاست میزُوری میں نظر آرہا ہےجہاں پلڑا کبھی ایک طرف جھک جاتا ہے اور کبھی دوسری طرف اور صحیح صورتِ حال کا علم شاید انتخابات والے دِن ہی ہوسکے گا۔

اوباما پہلے سیاف فام امریکی صدر بننے کے قریب ہیں

باراک اوباما جانتےہیں کہ گذشتہ انتخابات میں جن ریاستوں نے ڈیموکریٹک پارٹی کا ساتھ دیا تھا، اُن میں سے کسی ایک کو بھی گنوا بیٹھنا سیاسی خودکشی کے مترادف ہوگا۔

انھی ریاستوں میں سے ایک مِشی گن ہے جہاں باراک اوباما کی کامیابی اتنی یقینی ہے کہ ان کے مدِ مقابل جان مک کین نے وہاں اپنی انتخابی مہم ہی بند کردی ہے۔ وہ عوام کو یہ اشارہ دے رہے ہیں کہ وہ انتخابی اخراجات کو کم سے کم رکھنا چاہتے ہیں اور کسی طرح کی فضول خرچی کے قائل نہیں لیکن مشی گن سے بوریا بستر سمیٹنے کا ایک منفی اثر دو وسط مغربی ریاستوں وِسکونسن اور مِنی سوٹا میں انکی مہم پر پڑا ہے جہاں اس وقت اوباما واضح اکثریت میں نظر آتے ہیں۔

جان مکین کی زیادہ توجہ اس وقت شمالی ریاست پنسلوینیا پر مرکوز ہے جوکہ آبادی کےلحاظ سے ایک بڑی ریاست ہے اور جہاں فلاڈیلفیا اور پِٹس برگ جیسے جدید صنعتی شہروں کے ساتھ ساتھ دیہی آبادی کے خطّے بھی موجود ہیں جو مزاجاً جنوبی ریاستوں کے زیادہ قریب ہیں۔

حال ہی میں ریاست کے ڈیموکریٹک گورنر نے ایک بیان میں کہا تھا کہ اگر محض چند قدامت پسند سفید فام ووٹر ایک سیاہ فام امیدوارکو ووٹ دے دیں تو بارک اوباما کی فتح یقینی ہے۔ مبصرین سمجھتے ہیں کہ حالیہ معاشی بحران اور آئندہ کے بارے میں اقتصادی بے یقینی نے اس ریاست میں باراک اوباما کی کامیابی کے امکانات خاصے روشن کر دیئے ہیں۔

ایک اہم ریاست نیو ہیمپشائر میں صورتِ حال اس لحاظ سے دلچسپ ہے کہ سن 2000 میں یہاں ری پبلکن امیدوار جارج بش جیتے تھے لیکن سن 2004 میں یہاں ڈیموکریٹک امیدوار جان کیری کو فتح نصیب ہوئی۔

بارک اوباما امید لگائے بیٹھے ہیں کہ اس بار بھی عوام اور انتخابی نمائندے انھی کی پارٹی کا ساتھ دیں گے۔ موجودہ انتخابات اس لحاظ سے منفرد ہیں کہ پہلی بار ایک سیاہ فام شخص کسی پارٹی کی جانب سے عہدہء صدارت کے لئے نام زد ہوا ہے۔ اس کے نتیجے میں امریکی معاشرے کے دو ایسے طبقات نے بھی ذوق و شوق سے ووٹنگ کےلئے اِندراج کرایا جوکہ عموماً انتحابی عمل سے دور ہی رہتے ہیں – یعنی اقلیتوں کے لوگ اور نوجوان افراد۔

جس بڑی تعداد میں اِن طبقات کے لوگوں نے انتخابی فہرستوں میں اپنے نام درج کرائے ہیں، اگر ووٹنگ میں بھی انھوں نے یہی جوش و خروش دکھایا تو ری پبلکن پارٹی کے سفید فام امیدوار جان مک کین کےلئے واقعی شدید مشکلات پیدا ہو جائیں گی۔

اسی بارے میں
صدارتی بحث میں کون جیتا؟
27 September, 2008 | آس پاس
بی بی سی کا انتخابی سفر
15 September, 2008 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد