اوباما، مکین مباحثہ، الزامات کی بوچھاڑ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدارتی انتخابات سے پہلے ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار باراک اوباما اور ریپبلکن پارٹی کے جان مکین کے درمیان ٹی وی پر ہونے والے آخری مباحثے میں دونوں نے اپنی اپنی اقتصادی پالیسیوں اور دیگر مسائل پر بات کی ہے۔ مذاکرے کے دوران جان مکین نے اوباما پر الزام لگایا کہ وہ جھوٹ بولتے ہیں اور ان کے مقامی دہشت گرد سے تعلقات ہیں۔ انہوں نے یہ بھی الزام لگایا کہ اوباما ٹیکس بڑھانا چاہتے ہیں اور وہ اپنی انتخابی مہم کے دوران سچ نہیں بول رہے۔ باراک اوباما نے کہا کہ جان مکین اور جارج بش کی پالیسیاں ایک جیسی ہیں اور وہ منفی مہم چلا رہے ہیں۔ جان مکین نے کہا کہ وہ جارج بش نہیں ہیں اور اگر سینیٹر اوباما کو جارج بش کے خلاف انتخاب لڑنا تھا تو انہیں چار سال پہلے لڑنا چاہیئے تھا۔ جب جان مکین نے کہا کہ باراک اوباما کے ماضی کے شدت پسند بل آئرز سے رابطے ہیں تو اوباما کا کہنا تھا کہ ’ان کا میری مہم چلانے میں کوئی ہاتھ نہیں ہے۔‘ جان مکین نے باراک اوباما پر یہ بھی الزام لگایا کہ وہ ان کے خلاف اشتہارات پر اس کے جواب میں سینیٹر اوباما کا کہنا تھا کہ جان مکین کی مہم کے سو فیصد اشتہارات منفی ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ ووٹر اس وقت یہ سننا چاہتے ہیں کہ امیدواروں کے پاس معیشت کو بہتر بنانے کا کیا منصوبہ ہے۔ لانگ آئلینڈ، نیو یارک کی ہافسٹرا یونیورسٹی میں ہونے والے اس نوے منٹ کے مباحثے کے ثالث سی بی ایس نیوز کے باب شیئفر تھے۔ | اسی بارے میں اوباما کی حامی 106 سالہ راہبہ13 October, 2008 | آس پاس پاکستان میں حملہ، احمقانہ بات: مکین08 October, 2008 | آس پاس اوبامہ: سارہ پیلن کا الزام مسترد06 October, 2008 | آس پاس صدارتی بحث میں کون جیتا؟27 September, 2008 | آس پاس امریکی انتخاب - نیو میکسیکو کا پلڑا بھاری19 September, 2008 | آس پاس بی بی سی کا انتخابی سفر15 September, 2008 | آس پاس اوباما مکین سے زیادہ پسندیدہ10 September, 2008 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||