BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 28 October, 2008, 17:55 GMT 22:55 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
امریکی مسلمان: اوباما کی حمایت

باراک اوباما
امریکہ میں مسلمان رجسٹرڈ ووٹروں کی تعداد بیس لاکھ ہے
امریکہ میں مسلم تنظیموں نے آئندہ ہفتے ہونے والے صدارتی انتخابات میں ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار باراک اوباما کی حمایت کا اعلان کردیا ہے۔

اس کا فیصلہ پیر کی شب نیویارک کی جنوبی ایشیائی آبادی والے علاقے جیکسن ہائيٹس میں مسلم تنظیموں کے اتحاد، امریکن مسلم الائنس کے ایک اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس میں پاکستان اور بنگلہ دیش سمیت کئي ممالک سے تعلق رکھنے والے مسلمان امریکیوں نے شرکت کی۔

اس موقع پر باراک اوباما کے حق میں مسلم کمیونٹی میں مہم چلانے کے لیے مسلم ٹاسک فورس کے قیام کا اعلان بھی کیا گیا اور کہا گيا کہ باراک اوباما کی حمایت میں دس لاکھ فلائیرز یا پرچے شائع کروا کر تمام امریکی ریاستوں میں بسنے والے مسلم ووٹروں میں تقسیم کیے جائيں گے۔

ایک اندازے کے مطابق امریکہ میں بیس لاکھ مسلمان رجسٹرڈ ووٹر بستے ہیں جن میں پانچ لاکھ کے لگ بھگ ووٹر ٹرائی سٹیٹس یعنی نیویارک، نیو جرسی اور پینسلوانیہ کی تین ریاستوں میں ہونگے۔

شمالی امریکہ میں سب سے بڑا رفاعی ادارہ کہلانے والے اسلامک سرکل آف نارتھ امریکہ یا ’اکنا‘ کے نمائندے بھی، بقول انکے، مسلم ووٹروں کی حیثیت سے شرکت کرنے آئے تھے۔

اکنا کے ڈاکٹر محبوب الرحمان نے مسلم امریکی الائنس کے اس اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ میں مسلمان ایک جبرزدہ کمیونٹی ہے اور وہ بحیثیت ووٹرز باراک اوباما کی حمایت کا اعلان اس لیے کرر ہے ہیں کہ وہ اقلیتوں اور جبر زدہ برادریوں کے خلاف جبر کے خاتمے اور انکےحقوق کی بات کر رہے ہیں۔

اجلاس میں ڈیموکریٹک پارٹی کے امریکہ کی سطح کے جنوبی ایشیائي نمائندے بھی موجود تھے۔

’ہم ہیں مشتاق اور وہ بیزار‘
 مسلمانوں اور پاکستانی تنظیموں میں اوباما کی حمایت میں کافی جوش خروش پایا جاتا ہے لیکن اوباما اور ان کی پارٹی کے بڑے لیڈر خود کو ملسمان ووٹروں سے وابستہ کرنے سے اب تک کتراتے نظر آر ہے ہیں

امریکہ میں مسلمانوں اور پاکستانی تنظیموں میں اوباما کی حمایت میں کافی جوش خروش پایا جاتا ہے لیکن اوباما اور ان کی پارٹی کے بڑے لیڈر خود کو ملسمان ووٹروں سے وابستہ کرنے سے اب تک کتراتے نظر آر ہے ہیں، تاہم اس کے باوجود مسلم ووٹروں نے ان کی حمایت میں از خود مہم شروع کر رکھی ہے۔

اس سے قبل بھی نیویارک میں درجن بھر سے زیادہ سرگرم پاکستانی سیاسی پارٹیوں اور گروپوں کی طرف سے ’پاکستانی امریکن الائنس‘ بنایا گیا ہے جو آئندہ ہونے والے صدراتی انتخابات میں کافی سرگرم دکھائی دے رہا ہے۔

علاوہ ازیں پاکستان پیپلزپارٹی یو ایس اے بھی باراک اوباما کی حمایت کا اعلان کرچکی ہے جس کے جنرل سیکرٹری شفقت تنویر بھی امریکی مسلم الآئنس کی طرف سے اوباما کی حمایت میں بلائے گئے اجلاس میں شریک تھے۔

جنوبی ایشیائي علاقے جیکسن ہائيٹس سمیت نیویارک میں پاکستانیوں کے اولین سرگرم کمیونٹی رہنماؤں میں شامل ڈاکٹر شفیع بیزار، ممتاز وکیل خالد اعظم، اور مسلم پریڈ کیمٹی کے عین الحق اوباما کی حمایت میں مسلم تنظیموں کا اجلاس بلانے میں سرگرم نظر آئے۔

حسن عسکری’نیو یارک کا ہیرو‘
یہودیوں کو غنڈوں سے بچانے پرمسلم کی تعریف
 سیف الاسلام ایک مسلمان میرین
امریکی میرین فوج میں واحد امام کی زندگی
مسلم کانگرس مین
امریکی کانگرس میں پہلی مرتبہ مسلمان منتحب
امریکی سیاست
کانگریس کا انتخاب لڑنے والے مسلمان امیدوار
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد