مکین کی حمایت میں ڈک چینی | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اب جبکہ امریکہ میں صدارتی انتخابات میں بمشکل اڑتالیس گھنٹے رہ گئے ہیں تو امریکہ کے نائب صدر ڈک چینی نے ریپبلیکن پارٹی کے صدارتی امیدوار جان مکین کی حمایت کا اعلان کیا ہے- دوسری طرف ڈیموکریٹک صدارتی امیدوار باراک اوبامہ اورریپبلیکن پارٹی کے امیدوار جان مکین نے کانٹے کے مقابلے والی ریاستوں یا بیٹلفیلڈ ریاستوں میں اپنی اپنی اپنی مہم جاری رکھی ہے۔ انتخابی مہم کے منظر عام سے کئي ہفتے ہٹ کر رہنے کے بعد امریکی نائب صدر ڈک چینی نے وایومنگ ریاست میں ایک ریپبلیکنز کی ریلی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وہ حالیہ انتخابات نہیں لڑ رہے لیکن وہ جان مکین اور سارہ پیلن کی حمایت کا اعلان کرتے ہیں۔ سنیچر کو سینیٹر باراک اوباما نے کولوراڈو اور میزوری ریاستوں میں اپنی مہم میں ریلیوں سے خطاب کیا جن میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق، ایک ریلی میں انہوں نے صدر بش اور نائب صدر ڈک چـینی پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’اس حمکراں جوڑی میں سے صدر بش نے اقتصادی پالیسی اور ڈک چینی نے خارجہ پالیسی کے ذریعے امریکہ کو زبردست نقصان پہنچایا ہے۔‘ مقامی امریکی میڈیا کے مطابق سینیٹر باراک اوباما ان ریاستوں میں اپنی مہم کو مرکوز کر رہے ہیں جہاں صدر بش نے دو ہزار چار کے انتخاب جیتے تھے۔ ان ریاستوں میں کولورڈاو، ورجینیا، میزوري، نیواڈا، اوہائيو، فلوریڈا اور شمالی کیرولائنا شامل ہیں۔ سنیچر کا دن باراک اوباما نے کولوراڈو اور میزوری میں زبردست مہم پر صرف کیا جبکہ سابق صدر بل کلنٹن نے ویسٹ ورجینیا میں باراک اوباما کے حق میں مہم کے ایک بڑی ریلی سے خطاب کیا۔
انہوں نے مکین کیمپ کی جانب سے سینیٹر باراک اوباما کو ’سوشلسٹ‘ قرار دینے پر جان مکین اور انکے حامیوں کو اپنی تقریر میں زبردست تنقید کا نشانہ بنایا۔ جبکہ نیواڈا ریاست کے مشہور شہر لاس ویگاس اور میزوری کے شہر سپرنگ فیلڈ میں ریلیوں سے خطاب کرتے ہوئے باراک اوباما نے کہا کہ امریکہ میں تبدیلی میں فقط تین روز باقی رہ گئے ہیں۔ ’لیکن انہوں نے اپنی مہم کے کارکنوں اور حامیوں سے کہا کہ ایسا نہ سمجھا جاۓ کہ کام ختم ہوگیا ابھی بھی سر توڑ کوششيں کرنی ہیں اور بہت کچھ داؤ پر ہے۔‘ انہوں نے مکین کیمپ پر شدید نکتہ چینی کرتے ہوئے ان کے حریف امیدوار اور انکے حامیوں کی طرف سے انکو’سوشلسٹ‘ کہنے پر کہا جسے وہ (جان مکین اور حامی) سوشلزم کہتے ہیں میں انہیں مواقعے کہتے ہوں۔ مقامی میڈیا کے مطابق سینیٹر جان مکین نے پینسلوانیا اور اوہائیو ریاستوں میں اپنی مہم جاری رکھی۔ ان ریاستوں میں زبردست کانٹے کا مقابلہ ہے۔ رپورٹوں کے مطابق انہوں نے نیویارک میں مشہور ٹیلیویزن شو ’سیٹرڈے نائٹ اسپیشل ‘ میں شرکت کی ہے۔اسی شو میں اس سے قبل سارہ پیلن شرکت کر چکی ہیں جس میں اصلی سارہ پیلن اور شو کی میزبان ٹینا فے میں جنہوں نے سارہ پیلن کا روپ دھارا ہوا تھا، فرق کرنا شو کے لاکھوں ناظرین کیلیے مشکل ہوگیا تھا۔ ایک اندازے کے مطابق’سیٹرڈے نائیٹ اسپیشل‘ کے چودہ ملین ناظرین ہیں۔ سنیچر کو سارہ پیلن نے آئندہ منگل کو ہونیوالے انتخابات میں میدان کار زار بنی ہوئی فلوریڈا ریاست میں جان مکین اور اپنی مہم کا بس کا سفرجاری رکھا۔ راۓ عامہ کے تازہ جائزوں کے مطابق، اگر آج کے دن انتخابات کرائے جائيں تو باراک اوباما امریکی صدارت جیت جائيں گے کیونکہ مشہور پیو ریسرچ سینٹر سمیت پولسٹروں کے راۓ عامہ کے جائزوں کے مطابق باراک اوباما نے دو سو اکانوے اور جان مکین نے ایک سو تریسٹھ الیکٹورل کالج کے ووٹ حاصل ہیں جبکہ وائٹ ہاوئس پہنچنے کیلیے صدارتی امیدوار کو دو سو ستر ووٹ درکار ہوتے ہیں۔ پولسٹر ڈاٹ کام کے مطابق، دونون امیدواروں کی مہم کا تمام زور سرخ ریاستوں یعنی ریپبلیکن حمایتی سمجھی جانیوالی ریاستوں پر ہے۔ |
اسی بارے میں ’کیلیفورنیا: جوش و خروش نہیں‘28 October, 2008 | آس پاس جان مکین کا سیاسی سفر 28 October, 2008 | آس پاس امریکی مسلمان: اوباما کی حمایت28 October, 2008 | آس پاس تہلکہ مچانے والے اوباما28 October, 2008 | آس پاس اوباما قتل سازش: ملزم عدالت میں28 October, 2008 | آس پاس خطروں کی کھلاڑی سارہ پیلن28 October, 2008 | آس پاس مختلف مسائل، مختلف رائے28 October, 2008 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||