BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 28 October, 2008, 12:41 GMT 17:41 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
اوباما قتل سازش: ملزم عدالت میں

 سکیلیسمین اور ڈینیئل کووارٹ
حکام کے مطابق پال سکیلیسمین اور ڈینیئل کووارٹ ایک دوست کے توسط سے انٹرنیٹ پر ملے تھے
باراک اوباما کو مبینہ طور پر قتل کرنے کی سازش میں ’ملوث‘ دو افراد جنہیں حکام ’نازیانِ نو‘ قرار دے رہے ہیں، ایک امریکی عدالت میں پیش کیئے گئے ہیں۔

حکام کے مطابق پال سکیلیسمین اور ڈینیئل کووارٹ نے ’قتل کی سازش کی جس کے تحت درجنوں سیاہ فام افراد کو ہلاک کیا جانا تھا اور باراک اوباما کو قتل کرنا سازش کا منتہائے مقصود تھا۔‘

مسٹر اوباما نے کہا ہے کہ انہیں اس خبر سے کوئی پریشانی نہیں ہوئی۔‘

انہوں نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کہا ’اس طرح کے گروپ جنہیں نفرت سے کام رہتا ہے امریکی مستقبل کا حصہ نہیں ہیں۔‘

حکام کے مطابق گرفتار افراد کو جن کی عمریں اٹھارہ اور بیس برس ہیں پہلی مرتبہ پیر کو جیکسن کی عدالت میں پیش کیا گیا۔

حکام کے مطابق ان افراد سے ایک رائفل، ایک شارٹ گن اور تین پستول برآمد کیے گئے۔

ان افراد پر الزام ہے کہ انہوں نے صدارتی امیدوار کو دھمکیاں دیں، غیر قانونی طور پر اسلحہ رکھا اور ایک گن ڈیلر کو لوٹا۔

عدالتی دستاویزات کے مطابق اس منصوبے کے مختلف پہلوؤں سے اندازہ ہوتا ہے کہ سازش تیار کرنے والوں نے’باریکیوں‘ کو مدِ نگاہ نہیں رکھا تھا۔

اس سے قبل پولیس نے کہا تھا کہ گرفتار کیے جانے والے دونوں ملزم ڈیموکریٹک پارٹی کے صدارتی امیدوار باراک اوباما سمیت سو سے زیادہ سیاہ فام امریکیوں کے قتل عام کا منصوبہ بنا رہے تھے۔

گرفتارشدگان کا تعلق سفید فاموں کی ایک نسل پرست تنظیم سے ہے۔

تفتیشی ایجنسیوں کا کہنا ہےکہ وہ اس معاملے کو بہت سنجیدگی سے دیکھ رہی ہیں لیکن ان کے خیال میں ان باراک اوباما تک پہنچنا ان دونوں کے بس کی بات نہیں تھی۔

مقدمے کے مطابق ڈینیئل کووارٹ اور پال اسکیلیسمین انٹرنیٹ پر ایک مشترکہ دوست کے توسط سے ملے اور ’سفید فام طاقت یا وہائٹ پاور‘ اور نیو نازی ’سکن ہیڈ‘ فلسفے میں اپنے یقین پر بحث کرنے لگے۔

جیکسن ٹینیسی کے وفاقی ڈپٹی اٹارنی جنرل نے مزید تقصیلات جاری کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ان دونوں نوجوانوں نے ٹینیسی میں واقع ایک افریقی امریکی یا سیاہ فام اکثریتی ہائي سکول میں قتل عام کرنے اور اپنے ارادے کے آخری عمل کے طور پر باراک اباما کو قتل کرنے کے منصوبے پر بات چیت کی تھی اور اپنی کارروائي کے دوران اپنی جانیں قربان کردینے کا بھی عہد کیا تھا۔

یہ لوگ اٹھاسی سیاہ فاموں کو گولی مار کر اور چودہ کے سر قلم کرکے قتل کرنا چاہتے تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد