’کیلیفورنیا: جوش و خروش نہیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدارتی الیکشن میں اب ایک ہفتے سے بھی کم وقت رہ گیا ہے لیکن اس ملک کی آبادی کے اعتبار سے سب سے بڑی ریاست کیلیفورنیا میں انتخابات کا وہ روایتی جوش و خروش نظر نہیں آرہا۔ پچپن الیکٹورل ووٹ والی یہ ریاست ارآضی کے لحاظ سے امریکہ کی تیسری بڑی ریاست ہے۔ تین کروڑ پینسٹھ لاکھ ترپن ہزار آبادی والی اس ریاست میں ماضی کی طرح اب بھی ڈیموکریٹس کا پلڑا بھاری ہے۔ کیلیفورنیا کے سب سے بڑے شہر لاس ایجنلس ہو یا دارالحکومت سیکرا مینٹو کسی گلی محلے یا چوراہے پر کوئی بینر ہے نہ ہی پوسٹر۔ ہاں البتہ انتخابی دفاتر کے باہر امیدواروں کی تصاویر اور بینر لگے نظر آتے ہیں۔ جس طرح پاکستان میں جگہ جگہ الیکشن کیمپ لگائے جاتے ہیں، گانے چل رہے ہوتے ہیں یا پھر کارکنوں میں جوش و خروش ہوتا ہے، ایسا کچھ یہاں نظر نہیں آیا۔ سیکرامینٹو میں ڈیموکریٹک پارٹی کا ایک کمرے میں واقع مرکزی الیکشن کیمپ آفس پہنچے تو ڈیڑھ درجن سے زیادہ رضا کار فون پر آنے جاننے والے اور عام لوگوں کو فون کرکے باراک اوباما کے لیے ووٹ مانگتے نظر آئے۔ ان میں ایک تئیس سالہ ٹیرن نینسی بھی تھیں جو کہتی ہیں کہ اس بار کیلیفورنیا میں نوجوان طبقہ کافی سرگرم ہے۔ ’کیلیفورنیا میں تو اوباما جیت رہے ہیں لیکن پورے امریکہ کا میں کچھ نہیں کہہ سکتی۔ کیونکہ اس ملک میں رجعت پسند لوگ بھی بہت ہیں‘۔ ڈیموکریٹس کے اس کیمپ آفس کی منیجر مشیل ٹیلر سے بات کرنا چاہی تو کافی محتاط نظر آئیں اور شاید انہیں اس بات کا مکمل احساس تھا کہ کہیں ان کے منہ سے کوئی ایسی بات نہ نکل جائے جس سے آخری وقت پر انتخابات پر کوئی اثر پڑے۔
ڈیموکریٹس کے دفتر میں عمر کے تقریبا ہر حصے کے مرد اور خواتین نظر آئیں۔ پینتیس سالہ سینیمن نے کہا کہ ’اب لوگ تبدیلی چاہتے ہیں۔ قدامت پسند ریبلیکن کے آٹھ سالہ دور کا خاتمہ چاہتے ہیں، میرے خیال میں اوباما مڈل کلاس پر ٹیکس کم کریں گے، امریکی معیشت کو بہتر کریں گے اور عراق کے خلاف جنگ کا معاملہ طے کریں گے‘۔ کیلیفورنیا میں ایسا لگتا ہے کہ ریپبلکن اپنی شکست پہلے سے تسلیم کرچکے ہیں۔ سیکرامینٹو کے قریبی شہر ایلک گروو میں ریپبلکن پارٹی کے انتخابی دفتر پہنچے تو ویرانی کا منظر تھا۔ کمرے میں ٹیبل کرسیاں تو تھیں لیکن دفتر کے منیجر ڈینس کرن کے علاوہ کوئی اور نہ تھا۔ منیجر نے کہا کہ آج تو کوئی نہیں ہے لیکن کل یہاں دس بارہ رضا کار موجود تھے۔ ڈینس کرن سے جب پوچھا کہ ماضی کی نسبت اب کیا کوئی تبدیلی آئی ہے تو انہوں نے کہا کہ ’میرا نہیں خیال کہ لوگ بدلے ہیں۔ آج بھی اُسی طرح ہیں جیسے پہلے تھے اور میرا خیال ہے کہ الیکٹورل کالج اوباما ہی جیتے گا‘۔ ان سے جب پوچھا کہ آپ کی جماعت کیا کوشش کر رہی ہے تو انہوں نے کہا کہ ’ہمارے رضا کار گھرگھر جاتے ہیں دروازہ کھٹکھٹاکر ووٹ مانگتے ہیں اور لوگوں کو فون پر بھی کرتے ہیں‘۔
ڈینس کرن جو دفتر میں با آواز بلند ریڈیو سن رہے تھے انہوں نے بتایا کہ ’جب ہم کسی کو فون کرکے جان مکین کے لیے ووٹ مانگتے ہیں تو آگے سے جواب ملتا ہے کہ وہ اوباما کو ووٹ دیں گے تو ہم ان کا شکریہ ادا کرتے ہی فون پٹخ دیتے ہیں‘۔ امریکہ کے مغربی کنارے پر واقع ریاست کیلیفورنیا کے گورنر تو ہالی ووڈ کے سابقہ ہیرو اور ریپبلکن پارٹی سے وابستہ آرنلڈ شیوازنگر ہیں لیکن اس ریاست سے امریکہ کے گزشتہ چار صدارتی انتخابات میں ہمیشہ ڈیموکریٹک پارٹی کا امیدوار ہی جیتا ہے۔ واضح رہے کہ کیلیفورنیا میں انسٹھ فیصد آبادی گوروں پر مشتمل ہے۔ جبکہ چھتیس فیصد ہسپانوی، بارہ فیصد سے زیادہ ایشیائی امریکن اور چھ فیصد کے قریب سیاہ فام افریقی نسل کے لوگ ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||