BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 28 October, 2008, 11:32 GMT 16:32 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
جان مکین کا سیاسی سفر
جان مکین
جان مکین نےامریکی بحریہ میں بہت دن گزارے ہیں
امریکہ کے صدارتی انتخابات میں ریپبلکن پارٹی کے امیدوار جان مکین کو جنگ کا ہیرو، راست گو اور آزاد خیال سیاسی رہنما کے طور پر جانا جاتا ہے۔ بہتر سالہ مکین ویت نام جنگ کے ماہر مانے جاتے ہیں جنہوں نے جنگی قیدی کی حیثیت سے پانچ برس جیل میں بھی گزارے اور امریکی سیاست میں ذرا آگے بڑھ کر اب وہ خارجہ پالیسی اور فوجی معاملات میں بھی کھل کر بولتے ہیں۔

کنزرویٹیو خیالات کے مالک جان مکین اگر وائٹ ہاؤس کی دوڑ میں کامیاب ہوئے تو وہ امریکہ کی تاریخ میں اب تک کے سب سے عمردراز صدر ہوں گے۔

ریپبلکن پارٹی میں صدارتی امیداور کے لیے انہوں نےاپنی نامزدگی بڑے پراثر انداز میں جیتی تھی اور اب وائٹ ہاؤس تک پہنچنے میں ان کے آگے صرف ڈیموکریٹک پارٹی کے امیداور باراک اوباما ہی رکاوٹ بن ر ہے ہیں۔

مکین سخت خارجہ پالیسی پر یقین رکھتے ہیں۔ وہ عراق جنگ کے بہت بڑے حامی رہے ہیں اور وہاں فوجیوں کی تعداد بڑھانے کی بھی وکالت کرتے رہے ہیں۔

انہوں نے عراق کے حوالے سے سابق وزیر دفاع ڈونالڈ رمسفیلڈ پر شدید نکتہ چینی کی تھی اور تنازعہ نہ حل کرپانے پر بش انتظامیہ پر بھی شدید نکتہ چینی کی تھی۔ مکین نے رینڈیشن کی بھی مخالفت کی ہے اور تفتیش کے دوران ٹارچر کے خلاف بعض قوانین بنانے کی بھی باتیں کہی ہیں۔

مکین نےجارج بش پر بھی نکتہ چینی ہے

وہ اندرون ملک کے حوالے سے بھی ریپبلکن پارٹی کی پالیسیز پر نکتہ چینی کرتے رہے ہیں۔ انہوں نے جارج بش کے ٹیکس کم کرنے کے منصوبے پر بھی نکتہ چینی کی اور کہا ’ ٹیکس کٹ منصوبے کی اس لیے حمایت نہیں کی جا سکتی کیونکہ اس سے امریکہ کے متوسط درجے کی قیمت پر متمول لوگوں کو کئی طرح کے فوائد پہنچے گے۔‘ مکین کہتے ہیں کہ وہ معاشی اعتبار ایسے کنزرویٹیو ہیں جسے متوازن بجٹ میں یقین ہے۔

ہم جنس پرستی، اسقاط حمل اور امیگریشن پالیسی کے حوالے سے میانہ رو خیالات کے سبب بھی ان کے ساتھی کنزرویٹیو ان پر تنقید بھی کرتے رہے ہیں۔

بش انتظامیہ سے ان کے سب سے زیادہ اختلافات ماحولیات کی تبدیلی پر رہے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ اس حوالے سے اگر ہندوستان اور چین بھی راضی ہوئے تو وہ نئے معاہدے پر دستخط کریں گے۔

اپنے مقاصد کے حصول کے لیے وہ کانگریس میں بھی اپنے حریف ڈیموکریٹ کےساتھ مل کر بھی کام کرتے رہے ہیں۔ امیگریشن کے حوالے سے انہوں نے ڈیموکریٹ کی مدد سے ایک بل پیش کیا تھا جس میں غیر قانونی تاریک وطن کو بعض سہولیات دینے کی بات کہی گئی تھی اور کہا گیا تھا ایسے ورکرز کو شہریت دینے کا انتظام کیا جائے۔

جان مکین ایک سینیئر امریکی بحریہ کے افسر مکین کے بیٹے ہیں جنہوں نے سنہ انیس سو اٹھاسی میں نیول اکیڈمی سے گریجویشن کیا اور بائس برس کی عمر میں نیوی کے پائلٹ کی حیثیت سے اپنے کریئر کا آغاز کیا تھا۔

سنہ انیس سو سرسٹھ کی ویت نام جنگ میں وہ اس وقت مرتے مرتے بچے جب بمباری کے لیے وہ ایک طیارہ لیکر پرواز پر نکلنے والے تھے کہ ان کے ایندھن کےٹینک پر میزائل آکر لگا۔ اس جہاز میں آگ لگ گئی اور ایک سو چونتیس فوجی ہلاک ہوگئے۔ لیکن جان مکین بچ گئے۔

تین ماہ بعد شمالی ویت نام میں ان کے طیارے کو مارگرایا گیا اور اور انہیں ویت نامی فوجیوں نے قیدی بنا لیا۔ وہ پانچ برس تک قید میں رہے جس کے دوران انہیں ٹارچر بھی کیا گیا۔ امریکہ واپسی کے بعد سینیٹ میں انہوں نے نیوی کے لیزین آفیسر کی حیثیت سے کام کیا۔ وہ انیس سو اکیاسی میں ریٹائر ہوئے۔

انیس سو بیاسی میں ایریزونا میں پہلی بار انہوں نے کانگریس کے لیے ایلکشن لڑا اور ایک سیٹ پر جیت حاصل کی۔ چار برس بعد انہیں سینٹ میں بھی جگہ مل گئی اور اس طرح ان کے سیاسی کریئر آغاز ہوا۔

سنہ دو ہزار میں ریپبلکن پارٹی کی طرف سے صدارتی امیدوار کی نامزدگی کے لیے مکین نے جارج بش کے خلاف مہم شروع کی۔ ابتداء میں انہیں اس میں کامیابی بھی ملی لیکن بعد میں ان پر زبردست تنقید شروع ہوئی اور مذہبی رہنماؤں کے مشورے سے وہ بش کے مقابلے سے ہٹ گئے۔

سینیٹ میں وہ ایک بار پھر واپس آئے اور آرمڈ سروس کمیٹی میں کام کرتے رہے۔ تبھی سے بعض سماجی معاملات پر مکین کے موقف میں سختی بھی آئی۔

خارجہ پالیسی پر انہوں نے صدر بش کی مشرق وسطی کی پیلیسیز کی حمایت کی ہے۔ لیکن جنگ کس طرح لڑی جائے اس حوالے سے وہ وہ ملٹری کمانڈر اور اور پینٹاگن کے افسران پر نکتہ چینی بھی کرتے رہے ہیں۔

وہ یہ بات تسلیم کرتے ہیں کہ عراق میں جنگ جیتی جا سکتی اور وہاں شکست امریکہ کے لیے بہت بری ہوگی۔ ایران کے تئیں ان کا رویہ بہت سخت ہے۔ ایک بار انہوں نے اپنی تقریر میں ایران کو’ایران بم‘ کہہ کر خطاب کیا تھا۔

اسی بارے میں
مکین کےحملوں سے ناراض
25 October, 2008 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد