مکین کےحملوں سے ناراض | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدارت کے لیے ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار باراک اوباما نے اپنے ریپبلکن حریف جان مکین پر الزام لگایا ہے کہ وہ منفی انتخابی مہم کا سہارا لے رہے ہیں۔ مغربی ریاست نیواڈا میں ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے باراک اوباما نے کہا کہ جان مکین کی جانب سے’ ووٹروں کو گھٹیا فون کال کی جارہی ہیں، گمراہ کن اشتہارات جاری کیے گئے ہیں اور بغیر سوچے سمجھے کچھ بھی کہہ دیا جاتا ہے۔‘ ادھر جان مکین نے اپنے مداحوں سے کہا ہے کہ وہ کامیابی کی امید نہ چھوڑیں۔ نیو میکسیکو میں ایک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ ایک ’فائٹر‘ ہیں یعنی آسانی سے شکست تسلیم نہیں کرتے۔ صدارتی انتخابات میں چار نومبر کو ووٹ ڈالے جائیں گے۔ جان مکین ووٹروں کے تقریباً سبھی جائزوں میں باراک اوباما سے کافی پیچھے چل رہے ہیں اور زیادہ تر مبصرین کا خیال ہے کہ اب اوباما کو ہرانا مکین کے لیے بہت مشکل ہوگیا ہے۔
اواخر ہفتے میں دونوں امیدوار مغربی ریاستوں پر توجہ مرکوز کر رہے ہیں۔ پچھلے انتخابات میں نیواڈا، نیو میکسیکو اور کولاراڈو تینوں ہی ریاستیں ریپبلکن پارٹی کے حق میں گئی تھیں۔ اوباما دو دن کے لیے اپنی انتخابی مہم بیچ میں چھوڑ کر ہوائی چلے گئے تھے جہاں ان کی نانی زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔ اپنی مہم دوبارہ شروع کرتےہوئے انہوں نے کہا کہ ملک کو مشکل حالات کا سامنا ہے اور ایسے میں منفی انتخابی مہم چلانا ملک کے مفاد میں نہیں۔ ’انتخابی مہم کے آخری دنوں میں کچھ بھی کہنے اور کچھ بھی کرنے کی سیاست ہم نے پہلے بھی دیکھی ہے اور وہی سب کچھ ہم دوبارہ دیکھ رہے ہیں۔‘ ’اور (ان مشکل حالات میں) ہمیں اس سب کی ضرورت نہیں ہے۔‘ امریکی عوام سیاستدانوں کو ایک دوسرے پر حملے کرتے ہوئے نہیں دیکھنا چاہتے، وہ تو یہ سننا چاہتے ہیں کہ ہم انہیں درپیش مسائل کس طرح حل کریں گے۔ جان مکین بار بار اپنی تقاریر میں اوباما کے ٹیکس پلان کو نتقید کا نشانا بناتے ہیں۔ ان کا الزام ہے کہ اوباما سوشلسٹ نظریہ کے حامی ہیں اور لوگوں کی دولت دوسروں میں تقسیم کرنا چاہتے ہیں۔ نیوز ویک جریدے کے تازہ ترین جائزے کے مطابق باراک اوباما کو جان مکین پر تیرہ پوائنٹس کی سبقت حاصل ہے ۔ مکین بدستور خود کو صدر جارج بش سے مختلف ثابت کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں۔ ’ ہم آئندہ چار سال اسی انداز میں نہیں گزار سکتے جیسے ہم نے پچھلے آٹھ سال گزارے ہیں، اس امید میں کہ ملک میں اور ملک کے باہر ہماری قسمت خود بہ خود بدل جائے گی۔‘ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||